طالبان کا سابق بادشاہ ظاہرشاہ کے دور کا آئین نافذ کرنے کا عندیہ

کابل: طالبان کے وزیر انصاف عبدالحکیم شرعی نے کہا ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان میں سابق افغان بادشاہ ظاہر شاہ کے دور کے آئین کو عارضی طور پر نافذ کیا جائے گا تاہم شریعت سے متصادم شقوں کو حذف کردیا جائے گا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر انصاف عبدالحکیم شرعی نے چین کے سفیر وانگ یو سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وزیر انصاف عبدالحکیم شرعی نے بتایا کہ غیر شرعی اور اسلامی امارت کے اصولوں کے خلاف حصوں اور شقوں کو ہٹا کر سابق افغان بادشاہ ظاہر شاہ کے دور کے آئین کو عارضی طور پر بحال کردیا جائے گا۔تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ شریعت کے اصولوں کے تحت نیا آئین ترتیب دینے پر کام جاری ہے اور تب تک ظاہر شاہ کے دور کا آئین کچھ ترمیم کے ساتھ نافذ العمل رہے گا۔

قبل ازیں دوحہ میں طالبان کےسیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بھی کہا تھا کہ نئے اور شریعت کے مطابق اسلامی آئین کی ضرورت ہے جو آزاد افغانستان میں بنایا جائے گا اور اس آئین میں سب کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا۔واضح رہے کہ حامد کرزئی کی صدارت کے پہلے دور میں ظاہر شاہ کا آئین ہی نافذ کیا گیا تھا تاہم بعد میں ملک بھر میں ہونے والے جرگوں کے فیصلوں کے تحت 2004 میں آئین نافذ کیا گیا تھا جو تاحال نافذ ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

تائیوان میں رہائشی عمارت میں آتشزدگی سے 46 افراد ہلاک، متعدد زخمی

Share this on WhatsAppتائی پے: تائیوان میں 13 منزلہ رہائشی عمارت میں آتشزدگی سے 46 ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے