پاکستان 18 سال بعد ون ڈے انٹرنیشنل میں نیوزی لینڈ کی میزبانی کے لیے تیار

پرجوش پاکستان 18 سال بعد ون ڈے انٹرنیشنل میں نمبرون ٹیم نیوزی لینڈ کی میزبانی کے لیے تیارہے۔17 ستمبر وہ تاریخی دن ہوگا کہ جب پاکستان 18 سال بعد ایک بار پھر اپنی سرزمین پر نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی میزبانی کرے گا۔ مہمان ٹیم آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ 2019 کی فائنلسٹ اور آئی سی سی کی موجودہ ٹیمز رینکنگ میں پہلے نمبر پر براجمان ہے۔دونوں ٹیموں کے مابین تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ جمعے کو جبکہ آئندہ دونوں میچز اتوار اور منگل کو کھیلے جائیں گے۔ سیریز کے تینوں میچز پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔یہ چوتھا موقع ہوگا کہ جب دونوں ٹیمیں راولپنڈی میں کسی ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میچ میں مدمقابل آئیں گی۔ یہاں اب تک کھیلے گئے تینوں ون ڈےا نٹرنیشنل میچز میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو شکست سے دوچار کیا ہے۔

اس دوران قومی کرکٹ ٹیم کی کپتانی بابراعظم جبکہ مہمان ٹیم وکٹ کیپر بیٹسمین ٹام لیتھم کی قیادت میں میدان میں اترے گی۔دونو ں ٹیموں کے مابین اب تک 107 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے جاچکے ہیں، جن میں سے 55 میں پاکستان جبکہ 48 میں نیوزی لینڈ نے کامیابی حاصل کر رکھی ہے۔ اس دوران ایک میچ برابر جبکہ تین بے نتیجہ ختم ہوئے۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ 11 فروری 1973 جبکہ آخری میچ 26 جون 2019 کو کھیلا گیا تھا۔نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے آخری مرتبہ 2003 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، جہاں پاکستان نے پانچ میچز پر مشتمل ون ڈےانٹرنیشنل سیریز میں کلین سوئیپ کیا تھا۔اس سیریز میں سب سے زیادہ رنز پاکستان کے یاسر حمید نے (356 رنز) بنائے جبکہ محمد سمیع نے 8 وکٹیں حاصل کی تھیں۔اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے تین مرتبہ نیوزی لینڈ کی میزبانی کی تاہم یہ تینوں سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئیں۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کرکٹ ٹیم اپنی ہوم سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلا کرتی تھی۔

آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ 2019 کی فائنلسٹ نیوزی لینڈ کی ٹیم 121 ریٹنگ پوائنٹس کے ساتھ آئی سی سی مینز ون ڈے انٹرنیشنل ٹیمز رینکنگ میں پہلے نمبر پر براجمان ہے۔ اس فہرست میں پاکستان کا نمبر چھٹا ہے۔سیریز میں کلین سوئیپ کی صورت میں پاکستان کی ٹیم ایک درجہ ترقی کے ساتھ اس فہرست میں پانچویں اور نیوزی لینڈ ایک درجہ تنزلی کے ساتھ دوسرے نمبر پر جاسکتا ہے مگر اس کے علاوہ سیریز کے نتائج کچھ بھی ہوں دونوں ٹیموں کی اس رینکنگ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اور نیوزی لینڈ کرکٹ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اس سیریز میں شامل یہ تینوں میچز اب آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ سپر لیگ کی بجائے دو طرفہ سیریز کے میچز شمار کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ ڈی آر ایس کی عدم دستیابی کے باعث کیا گیا ہے، جو کہ آئی سی سی ورلڈکپ سپر لیگ کی پلیئنگ کنڈیشنز کا ضروری حصہ ہے۔نیوزی لینڈ کو اب 2 ٹیسٹ اور 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز کھیلنے کے لیےدوبارہ 2022 میں پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔ لہٰذا دونوں بورڈز نے اتفاق کیا ہے کہ اب اُس سیریز میں شامل تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2023 کی کوالیفیکشین کہلائیں گے۔

بابراعظم، کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم:

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم کاکہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی 18 سال بعد پاکستان آمد خوش آئند ہے۔ ہم مہمان ٹیم کے خلاف ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے کوشش کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا اسکواڈ متوازی ہے اور انہیں نوجوان کھلاڑیوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ ہم کھلاڑیوں کو انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے ٹیم میں ان کا کردار واضح کرنا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سیریز کے پہلے میچ کے لیے اپنے بارہ ناموں کا اعلان بھی کردیا ہے۔

ٹام لیتھم، کپتان نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم:

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان ٹام لیتھم نے کہا وہ جانتے ہیں کہ یہ دورہ پاکستان کرکٹ کے لیے کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ میزبان ٹیم وائیٹ بال کرکٹ میں کبھی بھی آسان حریف ثابت نہیں ہوتی، ان کے پاس محدود طرز کی کرکٹ کے بہت باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں۔ سیریز میں کامیابی کے لیے ہمیں بہترین نتائج کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات اور حال ہی میں نیوزی لینڈ میں پاکستان کے خلاف کرکٹ سیریز کھیل چکے ہیں، لہٰذا ہمیں اس ٹیم کی قابلیت اور صلاحیت کا بخوبی اندازہ ہے تاہم ہماری کوشش ہے کہ ہم جلد از جلد ان کنڈیشنز سے خود کو ہم آہنگ کرلیں تاکہ سیریز سے بہترین نتائج حاصل کیے جاسکیں۔سیریز میں شامل بقیہ دو میچز 19 اور 21 ستمبر کو کھیلے جائیں گے، جس کے بعد دونوں ٹیمیں لاہور روانہ ہوجائیں گی جہاں پانچ ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کی سیریز 25 ستمبر سے 3 اکتوبر تک قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلی جائے گی۔

بارہ رکنی پاکستان اسکواڈ:

بابراعظم (کپتان)، شاداب خان (نائب کپتان)، فخر زمان، حارث رؤف، حسن علی، افتخار احمد، امام الحق، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، سعود شکیل، شاہین شاہ آفریدی، عثمان قادر اور زاہد محمود

نیوزی لینڈ کرکٹ اسکواڈ:

ٹام لیتھم (کپتان) (وکٹ کیپر)، فن ایلن، ہمیش بینیٹ، ٹام بلینڈل (وکٹ کیپر)، ڈگ بریسوسیل، کولن ڈی گرینڈہوم، جیکب ڈفی، میٹ ہنری، اسکاٹ کگلیجن، کول مکانچی، ہنری نکلس، آعجز پٹیل، رچن رویندرا، بلیر ٹکنر اور ول ینگ

About BBC RECORD

Check Also

بھیک میں نہیں، خود داری اورعزت سے کھیلیں گے، رمیزراجہ

Share this on WhatsAppلاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے