کورونا کے بعد اب ایچ آئی وی ویکسین کی آزمائش کا فیصلہ

کیمبرج: کووڈ 19 کے خلاف مؤثر ویکسین بنانے کے بعد موڈرنا کمپنی نے ایم آر این اے کی بنیاد پر ایچ آئی وی کے خلاف ویکسین تیار کی ہے جس کے انسانی تجربات اسی ہفتے شروع کیے جائیں گے۔امریکی کلینکل ٹرائلز(طبی آزمائش) کی رجسٹری سے ظاہر ہوتا ہے کہ موڈرنا اپنی ایچ آئی وی ویکسین کا پہلا مرحلہ (فیز ون ٹرائل) اسی ہفتے شروع کرے گی۔

اس میں اول تو ویکسین کے محفوظ ہونے پر تحقیق کی جائے گی اور دوم اس سے پیدا ہونے والے امنیاتی نظام کو سمجھا جائے گا۔ موڈرنا پرامید ہے کہ کوووڈ 19 کے خلاف ایم آراین اے ویکسین کی کامیابی کے بعد عین یہی تدبیر ایچ آئی وی اور ایڈز کے خلاف ویکسین سازی میں آزمائی جارہی ہے۔
اس اہم تجربے میں 18 سے 50 برس کے 56 صحت مند افراد کو شامل کیا جائے گا جنہیں ایچ آئی وی لاحق نہیں۔ اس طرح ان پر ویکسین کی افادیت اور حفاظتی پہلو پر غور کیا جائے گا۔موڈرنا نے ایچ آئی وی کے خلاف دو ویکسین بنائی ہیں جن میں سے ایک کا نام ایم آراین اے 1644 اور ایم آر این اے 1644 وی ٹو (دوسرا ورژن) ہے جو ایچ آئی وی کے ہول ناک مرض کی وجہ بننے والی ویکسین کے خلاف دنیا کی پہلی ایم آر این اے ویکسین بھی ہے۔

آزمائش کے لیے رضا کاروں کو چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دو گروہوں کو تو دونوں اقسام کی ویکسین باہم ملا کر دی جائیں گی جبکہ دونوں گروہوں کو علیحدہ علیحدہ بھی ویکسین دی جائے گی لیکن ہر ایک کو آگاہ کیا جائے گا کہ اسے کس طرح کی اور کون سی ویکسین دی گئی ہے۔ پہلے مرحلہ 10 ماہ تک جاری رہے گا جس کے دو مقاصد اوپر بیان کیے جاچکے ہیں۔پہلے مرحلے میں کامیابی کے بعد اس کا فیز ٹو اور فیز تھری ٹرائل شروع کیا جائے گا جس سے ویکسین کی مزید افادیت سامنے آسکے گی۔

روایتی ویکسین کے برخلاف ایم آر این اے ویکسین میں کمزور اور غیر سرگرم وائرس ہوتا ہے جو ہمارے خلیات تک پہنچتا ہے اور خلیات یہ جان لیتے ہیں کہ ہدف والے ٹارگٹ کے خلاف کس طرح پروٹین تیار کرنے ہیں۔ یہ عمل 24 سے 48 گھنٹے میں ہی شروع ہوجاتا ہے۔ اس طرح خلیات بیماری کے کمزور ہی سہی لیکن وائرس کے خلاف پروٹین کی شکل میں ردِ عمل دینے لگتے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

سام سنگ نے اپنا مہنگا ترین فون پیش کردیا: گیلکسی ’زی فولڈ‘ تھری

Share this on WhatsAppنیویارک: سام سنگ نے اپنا سب سے مہنگا اور فولڈایبل فون فروخت ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے