ڈیرہ غازی خان گداگر کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں

شبیر خان سدوزئی

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز : ڈیرہ غازی خان

کورونا کی چوتھی لہر کی روک تھام کے لیے جاری ویکسین مہم میں گدا گروں کی بڑی تعداد آگاہی مہم نہ ہونے کے سبب کورونا ویکسین لگانے سے گریز کر رہی ہے۔صفائی کا خیال نہ رکھنے اور کورونا ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے گدا گروں کی بڑی تعداد ممکنہ طور پر کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے،
ضلعی انتظامیہ ان کی مخصوص آبادیوں میں فوری طور پر کورونا ویکسین کیمپوں کا انعقاد کرے اور ویکسین ورکرز کے تعاون سے فوری طور پر گدا گروں کو کورونا ویکسین لگائی جائیں۔ کورونا کی چوتھی لہر پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ویکسی نیشن کا عمل بھی جاری ہے تاہم لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد شہریوں کی جانب سے ویکسی نیشن کرانے کے معاملے میں دوبارہ عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ویکسی نیشن سے محروم ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو تاحال حکومتی نظروں سے اوجھل ہے، وہ طبقہ گداگروں سے تعلق رکھتا ہے، یہ گدا گر کورونا کے پھیلاؤ کا بھی سبب بن رہے ہیں کیونکہ آگاہی مہم نہ ہونے اور ان کی آبادیوں میں کورونا ٹیسٹنگ کی سہولیات نہ ہونے کے سبب یہ معلوم ہی نہیں چلتا کہ گدا گروں کو کورونا وائرس لاحق ہے یا نہیں۔ایک اندازے کے مطابق گدا گروں کی بڑی تعداد ویکسی نیشن کرانے سے گریزاں نظر آتی ہے کیونکہ ان کا کوئی مخصوص ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ یہ سیزن کی کمائی کے حساب سے کبھی کراچی تو کبھی ملتان کا رخ کرتے ہیں اور پھر واپس اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ جاتے ہیں جو گدا گر عرصہ دراز سے ڈیرہ غازی خان کے مختلف علاقوں میں مقیم ہے ، وہ بھی ویکسین کرانے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں، انتظامیہ کو اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی اور اس کے لیے کوئی مربوط حکمت عملی مرتب کرنا ہو گی۔گدا گروں کے ایک سرپنچ نے بتایا کہ اس وقت گدا گروں کی کمائی کا سیزن نہیں ہے، بیشتر گدا گر عیدالاضحیٰ کے بعد لاک ڈاون اور کورونا پابندیوں کے سبب اپنے آبائی علاقوں کی طرف چلے گئے ہیں۔یہ گدا گر ملتان لاہور حیدر آباد میرپور خاص ، عمر کوٹ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں، ان گدا گروں کا مشہور قبیلہ اوڑھ ہے۔ اس قبیلے کے علاوہ دیگر مذاہب اور قومیتوں کے لوگ بھی معاشی پریشانیوں کے سبب بھیک مانگتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اوڑھ قبیلے کے زیادہ تر گدا گر خانہ بدوش ہوتے ہیں، یہ لوگ خالی اراضی اور مضافاتی علاقوں میں جھگیاں ڈال کر رہائش اختیار کرتے ہیں۔ زیادہ تر لاری اڈا پل ڈاٹ چوک چورہٹہ کے اس پاس رہتے ان لوگوں کے اکژ مرد و خواتین کے شناختی کارڈ تک نہیں بننے ہوئے ہیں اور اس وقت کسی ادارے کے پاس انکا ریکارڈ تک موجود نہیں ہے ، ان کی بستیاں عارضی ہوتی ہیں، انھوں نے بتایا کہ زیادہ تر گدا گر خواتین ، بچے اور ان کے بزرگ شہر کے مختلف شاپنگ مالز ، مارکیٹوں ، بازاروں ، ہوٹلوں اور عوامی مقامات پر بھیک مانگتے ہیں۔ ان کے مرد غبارے اور کھلونے بیچنے کا کام کرتے ہیں، ان میں سے کچھ بچے پالش کرنے کا کام کرنے سمیت بھیک بھی مانگتے ہیں، زرائع نے بتایا کہ ان میں اکثر گدا گر سماجی برائیوں میں بھی مبینہ طور پر ملوث ہوتے ہیں۔اکثر بچے بھیک مانگنے کیلئے لوگوں کو چھوتے ہیں اور بھیک طلب کرتے ہیں، سماجی دوری کا خیال نہ کرنا اور ہاتھوں کو لوگوں کے ساتھ چھونا کورونا کے پھیلاو کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔زرائع نے کہا کہ اس کے علاوہ معاشی مسائل کے سبب بنگالی ، برمی اور دیگر مختلف برادریوں کی خواتین اور مرد بھی بھیک مانگتے ہیں اور بھیک مانگنے کے لیے یہ لوگ مختلف طریقے کار اپناتے ہیں،انھوں نے کہا کہ اکثر گدا گروں کی بڑی تعداد نے کورونا ویکسین نہیں کرائی ہے کیونکہ ان میں ویکسین کرانے کا شعور موجود نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے گدا گروں کی ویکسین کرانے کے لیے کوئی موثر اقدامات کیے گئے ہیں۔

جب ہماری ٹیم نے کورونا ویکسین کے حوالے سے مختلف گدا گروں سے بات چیت کی، توگدا گر خواتین کے ایک گروپ میں موجود عورتوں نے مختلف رائے کا اظہار کیا، 55 سالہ مائی دینا نے کہا کہ کورونا کیا چیز ہے، ہمیں تو معلوم نہیں، بس یہ پتہ ہے کہ یہ کوئی بیماری چل رہی ہے، ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے تو ہم علاج کہاں سے کرائیں گے۔40 سالہ شادی شدہ عورت رانی نے کہا کہ ہمارا ذریعہ معاش بھیک مانگنا ہے، ہماری برادری کے اکثر لوگوں کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں ہے، ہم کورونا ویکسین کیسے لگوائیں، اگر کوئی کورونا ویکسین لگوانے جاتا بھی ہے تو اسپتالوں میں انھیں حقارت سے دیکھتے ہیں ہماری برادری میں اکثر ان پڑھ ہیں، انھیں کورونا ویکسین کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، 23 سالہ خاتون نے بتایا کہ ہماری برادری کی اکثریت نے ویکسین نہیں کرائی ہے، کیونکہ ہم نے یہ سنا ہے کہ ویکسین کرائیں گے تو ہم مر جائیں گے۔چوک چورہٹہ ملتان روڈ کی مقامی مسجد کے باہر ایک معذور شخص نے بتایا کہ جو لوگ بھیک مانگتے ہیں ، وہ ویکسین کیسے لگوائیں گے، ان کے پاس تو کھانے کو ہی نہیں ہے، انھوں نے کہا کہ بہت سے لوگ مالی مجبوری کی وجہ سے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں تاہم ان میں سے اکثر لوگ پڑھے لکھے اور شعور بھی رکھتے ہیں، وہ ویکسین کرا رہے ہیں۔لاری اڈا کے قریب گدا گروں کی آبادی میں رہائش رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ بیشتر گدا گر اس وقت کمائی کا سیزن نہ ہونے کی وجہ سے اپنے آبائی علاقوں میں جا کر کھیتی باڑی کا کام کر رہے ہیں، جو لوگ موجود ہیں ، وہ یا تو بھیک مانگ رہے ہیں یا پھر مختلف کاموں سے منسلک ہیں گدا گروں کو ویکسین لگانے کے لیے محکمہ صحت فوری اقدامات کرے گا اور ہماری کوشش ہو گی کہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر گدا گروں کو کورونا ویکسین لگوائیں اور اس حوالے سے جو رکاوٹ ہو گی ان کو دور کیا جائے گا۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکی ناظم الامور انجیلا پی ایگلر کی مریم نواز سے ملاقات

Share this on WhatsAppلاہور: امریکی ناظم الامور انجیلا پی ایگلر نے جاتی امرا میں جاکر ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے