بھارت میں بی جے پی رہنماؤں کی مسلمانوں کو ختم کرنے کی دھمکی

نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت میں بی جے پی کے کارکنوں نے ایک پروگرام کے دوران مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی کی جس کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔بھارتی دارالحکومت دہلی میں ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے رہنما اورسپریم کورٹ کے وکیل اشونی اپادھیائے نے بھارتی پارلیمان کے قریب معروف مقام جنتر منترپر8 اگست کو جاری اپنے ایک پروگرام میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی کی اورنازیبا الفاظ کا استعمال کیا۔

اس واقعے سے متعلق ایک وڈیوبھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں صاف اس بات کی نشاندہی ہورہی ہے کہ نعرے بازی اسلام اور مسلمانو ں کے خلاف ہے۔ رہنما نے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں رہنا ہوگا تو جے شری رام کہنا ہوگا۔

اس سے متعلق پولیس کا کہنا ہے جس پروگرام کے دوران نعرے بازی کی گئی اس پروگرام کے کرنے کی بھی اجازت نہیں لی گئی تھی تاہم مسلم مخالف نعروں کے سلسلے میں ایک مقدمہ درج کرلیا ہے جب کہ 5 افراد کو گرفتاربھی کرلیا گیا ہے۔مسلم رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے اس معاملے کو ایوان میں اٹھایا اورکہا کہ پروگرام کے دوران کھلم کھلا مسلمانوں کی نسل کشی کی باتیں کی گئیں لیکن قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، آخر ان غنڈوں کی بڑھتی ہوئی ہمت کا رازکیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ مودی حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

برطانوی رکن پارلیمنٹ چاقو بردار شخص کے حملے میں ہلاک

Share this on WhatsAppلندن: برطانیہ میں حکمراں جماعت کے رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیز چاقو بردار ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے