آزاد کشمیر الیکشن ؛ ہماری حکومت اور بانی آزاد کشمیر

کچھ روز قبل کشمیر میں ایک ایسی سیاسی ہلچل نظر آرہی تھی جیسے لگتا تھا کشمیر کے الیکشن اس بار کچھ نیا کر کے نئی تاریخ رقم کرنے والے ہوں پاکستان پر حکومت کرنے والے ہوں یا کشمیر پر یہ لوگ کیسے بھول جاتے ہیں کہ ان کو بنانے والے بانی کے خاندان کے لوگ کہاں ہیں یہ کیسے احسان فراموش ہم اپنے اوپر مسلط کر لیتے ہیں دوران الیکشن میری ملاقات ایک عمر رسیدہ بزرگ جسکی کمر جھکی ہوئی تھی سے بات ہوئی تو اس بزرگ کا کہنا تھا الیکشن تو ہورہے ہیں مگر کشمیر کہاں ہے؟ نعرے اور الزامات عائد کیے جارہے ہیں، مگر کسی کے پاس کشمیر کے حل کا روڈ میپ نہیں ہے۔ سبھی ایک دوسرے پر کشمیر فروشی کا الزام عائد کررہے ہیں مگر کشمیر کی آزادی کی بات کوئی کیوں نہیں کررہا؟ ان کے جملے میرے دل کو چھو گئے۔ میں بھی سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ الیکشن میں میرا کشمیر غائب کہاں ہوگیا؟

آزاد کشمیر انتخابات میں گہماگہمی کے بعد اج آخری دن آہی گیا تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن بڑے عوامی جلسے منعقد کرچکی ہیں۔ قانون سازی اسمبلی کے الیکشن میں تینوں بڑی سیاسی جماعتیں کشمیر کے مسائل کے بجائے ایک دوسرے پر الزامات پر زیادہ فوکس کرتی رہی آزاد کشمیر انتخابات میں الیکشن کمپین کبھی بھی ایسے نہیں چلائی گئی۔ خطے میں اس سے قبل ایسی گہماگہمی نہیں دیکھی گئی۔ قبل ازیں اس انداز میں کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنی مہم نہیں چلائی۔ کشمیر میں اس سے قبل الیکٹیبلز کے نام پر سیاست ہوتی رہی ہے۔ وفاق میں موجود سیاسی جماعت اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے الیکٹیبلز کے ذریعے اپنی حکومت بنا لیتی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اس بار کشمیر انتخابات میں گہماگہمی کیوں ہے؟ تمام سیاسی جماعتوں کےلیے آزاد کشمیر انتخابات اہم کیوں ہیں؟ کیا قانون ساز اسمبلی کے نتائج اس بار تاریخ بدل پائیں گے؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ کشمیر انتخابات کا ملکی سیاست پر کیا اثر ہوسکتا ہے؟ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں اپنے بیانیے کو کتنا مقبول بناسکتی ہیں؟

آزاد کشمیر الیکشن مہم کے دوران سیاسی قیادت کے بیانات میں سختی اور انتخابی مہم میں شدت گزشتہ ایک برس کے دوران ملکی سیاست میں پیش آنے والے واقعات کے باعث انتہائی اہم ہے۔ پی ڈی ایم کی لڑائی ہو یا حکومت کو گھر بھیجنے کے دعوے، قبل از وقت انتخابات کے دعوے ہوں یا ڈیل اور ڈھیل کے بیانیے، تمام سیاسی جماعتیں کشمیر انتخابات کی بنیاد پر پاکستان میں رائے عامہ ہموار کرسکتی ہیں۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے مریم نواز شریف انتخابی مہم چلا رہی ہیں جبکہ وزیراعظم پاکستان بنفس نفیس اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں شریک ہیں۔ باغ، بھمبر اور میرپور کے بعد مظفرآباد میں وزیراعظم جلسے کر رہے ہیں، جنہیں آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتیں قبل از انتخابات دھاندلی قرار دے رہی ہیں۔
بیان بازی کے داؤ پیچ کے ذریعے سیاسی حریفوں کو پچھاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن قانون ساز اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار الزامات کے دوران اخلاقیات کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ دلیل کا جواب انڈے، جوتے، ٹماٹر، پتھر اور ہوائی فائرنگ کے ذریعے دیا گیا۔ یہ سلسلہ وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈہ پور علاقے فاروڈ کہوٹہ میں کیے گئے خطاب کے ساتھ شروع ہوا۔ کشمیر کی تاریخ میں محبت کے پھولوں کی جگہ نفرت کے کانٹے بو دیے گئے۔ وزیر موصوف کی آڈیوز لیک ہوئیں جسے سن کر ریاست بھر میں نفرت کا آتش فشاں ابلنے لگا۔ وفاقی وزیر پر جوتے پھینکے گئے، انڈوں اور ٹماٹروں سے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی دوران وزیر موصوف کے گارڈز اور کزن نے نہتے شہریوں پر فائرنگ کردی، جس کے بعد پی ٹی آئی کے قافلے پر پتھراؤ کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے چیف سیکریٹری کو ہدایت جاری کی کہ علی امین گنڈہ پور کو آزاد کشمیر سے نکال دیا جائے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ موصوف کا جمعے کو آخری جلسہ تھا، اس سے پہلے الیکشن کمیشن کو نقص امن کا خیال کیوں نہ آیا؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ جلسوں میں نوٹ تقسیم کرنے پر الیکشن کمیشن خاموش تماشائی کیوں بنا رہا؟ سوال یہ ہے کہ کشمیر انتخابات میں خرید و فروخت کے مقاصد کیا ہیں؟ محترم وزیر امور کشمیر! آپ نے کشمیری عوام کو پاکستانی اپوزیشن سمجھا، جنہیں احتساب کے ذریعے انتقام کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ جن کی ہمدردیاں ہیلی کاپٹرز کی سواری کے ذریعے خریدی جاسکتی ہیں۔ جنہیں مفادات کا لالچ دے کر اپنے بس میں کیا جاسکتا ہے۔ حضور والا! آپ کا انتخابی حلقہ بھی پختون بیلٹ سے ہے۔ آپ کو تو علم ہونا چاہیے کہ کوہستان نشین کا غرور پہاڑ سے بلند ہوتا ہے۔ یہ لڑنے میں تاخیر کرتے ہیں مگر جب انہیں للکارا جاتا ہے تو یہ تباہی برپا کردیتے ہیں۔ انہیں اپنی ثقافت، اپنا وقار اور عزت سب سے زیادہ عزیز ہے۔ اگر آپ اپنے سیاسی مفادات کےلیے ان تین چیزوں پر حملہ کریں گے تو یہ لوگ تہذیب کی بندشوں سے خود کو آزاد سمجھتے ہیں۔ اقدار کی بیڑیاں ان کی راہ نہیں روک سکتیں، مصلحتیں ان کے جذبات کے آگے بند باندھنے میں ناکام ہوجاتی ہیں۔

کشمیر میں انتخابات تو ہر پانچ سال بعد ہوتے ہیں، پاکستان میں جمہوریت ہو یا آمریت، کشمیر میں حکومت نے مدت پورا کرنا ہی ہوتی ہے۔ ایک دور تھا جب کشمیر میں سردار ابراہیم خان سدوزئی کا طوطی بولتا تھا اپ پہلے مسلم کانفرنس پھر ازاد مسلم کانفرنس کے صدر تھے اس کے بعد پیپلز پارٹی اور اپنی پارٹی بنائی جموں کشمیر پیپلز پارٹی جو اس وقت تک چل رہی ہے سردار ابراہیم خان ازاد کشمیر کے پہلے برسٹر تھے ٹائمز میگزین نے اپکو دنیا کا نو عمر گوریلا لیڈر لکھا تھا لیکن افسوس اج ہم پر حکومتیں کرنے والے اپ سمیت بانی پاکستان قائد اعظم محمد جناح کی قربانیوں کو بھول کر انگریز سے وظیفہ لینے والوں کو نواز رہے ہیں بانی ازاد کشمیر کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں انتخابات میں مداخلت کی ابتدا کی، جس کے بعد آزاد کشمیر میں انتخابی دھاندلی، الیکٹیبلز سیاست اور مفاد پرستی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جسے روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔الیکشن کے نتائج جو بھی ہوں، کشمیر میں تبدیلی آئے یا قانون ساز اسمبلی انتخابی نتائج میں کوئی بڑا اپ سیٹ ہو۔ کچھ بھی بدلنے والا نہیں ہے، کیونکہ جو سیاسی جماعتیں کشمیر کے حوالے سے کوئی روڈ میپ ہی نہیں رکھتیں، جن کا کوئی نصب العین ہی نہیں ہے، وہ کشمیریوں کی تقدیر کیسے بدلیں گی؟

About BBC RECORD

Check Also

”عثمان بزدار ساڈا مانڑ اے”

Share this on WhatsAppتحریر:محمد جنید جتوئی،ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن،ڈی جی خان پچھلے دنوں عجیب کیفیت اور ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے