امریکا کو فضائی، زمینی حدود کی اجازت کے بارے میں کوئی نیا معاہدہ نہیں ہوا

پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنی ایک پریس ریلیز میں واضح کیا ہے کہ امریکا کو فضائی یا زمینی حدود کے استعمال کی اجازت سے متعلق بحث قیاس آرائی اور غیر ذمہ داری کے سوا کچھ نہیں ہے۔امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے ایک حالیہ بیان کے بارے میں پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکی فوج کو اپنی فضائی حدود کے استعمال اور زمینی رسائی فراہم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس پر پاکستانی میڈیا سے لے کر قومی اسمبلی اور سینیٹ تک میں ہلچل مچ گئی۔ وزارت داخلہ کی طرف سے دریں اثناء اس بارے میں بیان جاری ہو چکا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نا تو پہلے کوئی امریکی ملٹری یا ایئر بیس موجود تھا نہ ہی مستقبل میں کسی ایسی تجویز کا کوئی تصور پایا جاتا ہے۔امریکا کی مدد کرنے والے افغان، خوف اور خدشات کے سائے میں ہیں

اس بیان نے پاکستان کے اندر اور بیرونی ممالک میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ افغانستان سے امریکی اور نیٹو فوج کے حتمی انخلا کے تناظر میں پاکستان اور امریکی تعلقات کے مستقبل اور امریکا کی پاکستان سے ممکنہ توقعات جیسے موضوعات پر مختلف سطحوں پر بحث جاری ہے۔ یہ تمام سیاسی عوامل پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔

پینٹاگون کا بیان

گزشتہ ہفتے امریکا کے ‘انڈو پیسیفک افیئرز‘ کے نائب دفاعی سیکرٹری ڈیوڈ ایف ہلوے نے امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا، ”امریکا پاکستان کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کا سلسلہ جاری رکھے گا کیونکہ پاکستان کا افغانستان میں امن کے قیام میں بہت اہم کردار ہے۔‘‘ امریکی سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے دوران نائب دفاعی سیکرٹری ڈیوڈ ایف ہلوے نے یہ بیانات دراصل ویسٹ ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ایک ڈیمو کریٹ سینیٹر Joe Manchin کی طرف سے کیے گئے چند نہایت اہم سوالات کے جواب میں دیا تھا۔ ڈیمو کریٹ سینیٹر نے ڈیوڈ ایف ہلوے سے پوچھا تھا کہ پاکستان اور اس کی انٹیلیجنس ایجنسی کے بارے میں ان کا جائزہ یا تشخیص کیا کہتی ہے؟ نیز یہ کہ وہ مستقبل میں پاکستان سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے نائب دفاعی سیکرٹری ڈیوڈ ایف ہلوے برائے انڈو پیسیفک افیئرز نے کہا، ”پاکستان نے افغانستان میں ایک انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے، اس نے افغان امن عمل کی حمایت کی ہے۔ پاکستان نے ہمیں معینہ حدود سے زیادہ حد تک پرواز اور افغانستان میں ہماری فوجی موجودگی کے لیے رسائی کی اجازت دی ہے۔‘‘ ڈیوڈ ایف ہلوے کا مزید کہنا تھا، ”ہم پاکستان کے ساتھ اپنی بات چیت جاری رکھیں گے کیونکہ مستقبل میں افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی شرکت و حمایت نہایت اہم ثابت ہوگی۔‘‘

پاکستانی دفتر خارجہ کی وضاحت

پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن کی طرف سے حکومت سے اس معاملے کی نہ صرف وضاحت طلب کی جا رہی ہے بلکہ سیاسی لیڈروں کی طرف سے افغانستان میں بیرونی طاقتوں کے کردار کا جائزہ بھی لیا گیا۔ سینیٹر مشاہد حسین نے تو اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو کسی صورت امریکا کو زمینی اور فضائی اڈے فراہم نہیں کرنے چاہییں۔اس معاملے میں حکومتی موقف جاننے کے لیے ڈوئچے ویلے نے وزیر اعظم پاکستان کے خصوصی مشیر برائے سلامتی امور معید یوسف سے رابطہ کیا۔ معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے اس بارے میں جو پریس ریلیز جاری کیا گیا ہے وہ حکومت کا حتمی موقف ہے۔

افغانستان کا اُجڑا شہر لشکر گاہ بے گھر افراد کا سہارا، ماہرین آثار قدیمہ کو تشویش

معید یوسف نے جس پریس ریلیز کا حوالہ دیا اُس کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے، ”پاکستان میں نا تو ماضی میں کبھی کوئی امریکی ملٹری یا ایئر بیس موجود تھا اور نہ ہی کسی ایسی پیشکش کا کوئی گمان پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں کی جانے والی قیاس آرائیاں بے بنیاد اورغیر ذمہ دارانہ ہیں۔ ان سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔‘‘

قندھار میں قائم امریکی ملٹری بیس۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے تاہم ایک ایسے فریم ورک کا ذکر ضرور کیا جو پاکستان اور امریکا کے مابین تعاون کے لیے پایا جاتا ہے۔ اسے ALOC اور GLOC کہا جاتا ہے یعنی ‘ایئر لائنز آف کمیونیکیشن‘ اور ‘ گراؤنڈ لائنز آف کمیونیکیشن‘ اسلام آباد اور واشنگٹن کے مابین مواصلاتی تعاون کے ایک فریم ورک کے طور پر 2001 ء سے وجود رکھتا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس کے علاوہ پاکستان اور امریکا کے مابین کوئی نیا معاہدہ نہیں ہوا ہے۔

امریکی انخلا اور افغانستان میں مزید قتل و غارت گری کے خدشات

یاد رہے کہ اپریل میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بائیڈن انتظامیہ کے افغانستان سے چند ماہ کی تاخیر سے فوجی انخلاء کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان سے دہشت گردی کا خطرہ اب ‘کہیں اور‘ منتقل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ”افغانستان میں موجود دہشت گردی کے ذرائع اور ان کی وجہ سے لاحق خطرات اب دیگر جگہوں پر منتقل ہو گئے ہیں۔ پھر ہمارے اپنے قومی ایجنڈے پر اور بھی کئی انتہائی اہم امور ہیں۔ مثلاﹰ چین کے ساتھ تعلقات، ماحولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام اور کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا کو متاثر کرنے والی عالمگیر وبا۔ ہم اب اپنی توانائی اور وسائل انہی معاملات پر صرف کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

About BBC RECORD

Check Also

کینیڈا کے وزیراعظم نے سپریم کورٹ میں پہلی بار مسلم جج نامزد کردیا

Share this on WhatsApp بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اوٹاوا کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے