یونیورسٹی کی بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے گروہ کو ٹریس کر لیا گیا ہے فیصل رانا

شبیر خان سدوزئی

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ ڈیرہ غازی خان

یونیورسٹی کی بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر ان کی برہنہ ویڈیو بنانے والے گینگ کو ٹریس کر لیا گیا ہے ملزمان نے جی سی یونیورسٹی لیہ کی طالبہ کو نوکری دلوانے کے بہانے متعدد بار اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا،برہنہ ویڈیوز اور تصاویر بنا لیں،مرکزی ملزم خود کو وزیر اعظم کا نائب سیکرٹری،انسپکٹر سپیشل برانچ،انسپکٹر سی ٹی ڈی اور اینٹی کرپشن کا آفیسر بتایا تھا، ملزمان نے لڑکی کے والدین کو بلیک میل کر کے لاکھوں روپے بھی بٹورے،متاثرہ لڑکی کی سکول ٹیچر والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج،پولیس ملزمان تک پہنچ گئی،پوچھ گچھ جاری،

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ کے مطابق ڈی پی او لیہ ندیم رضوی نے ریجنل پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے اخلاقی پستگی کی انتہا پر پہنچنے والے ایک ایسے گینگ کا پتہ لگایا ہے جو یونیورسٹی کی طالبات کو ملازمت دلوانے کا جھانسہ دے کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کر متاثرہ لڑکیوں کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوز بنا لیتے ہیں جن کے ذریعے انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے،ڈی پی او نے بتایا اسی گینگ نے جی سی یونیورسٹی لیہ کیمپس کی ایک طالبہ کو بھی اپنے مظالم کا نشانہ بنایا،گینگ سے تعلق رکھنے والی سعدیہ نامی ملزمہ نے خود کو محکمہ صحت کی ڈسٹرکٹ آفیسر ظاہر کر کے طالبہ لڑکی کو عمران نامی لڑکے کا نمبر دیتے ہوئے ملازمت کا جھانسہ دیا،عمران نے خود کو کبھی وزیر اعظم کا نائب سیکرٹری،کبھی سپیشل برانچ اور کبھی محکمی اینٹی کرپشن کا آفیسر ظاہر کیا،7رکنی گینگ لڑکی کو بلوا کر مختلف مقامات پر لے جا کر زیادتی کا نشانہ بناتا رہا،ملزمان نے لڑکی کی برہنہ اور نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بھی بنا لیں،ملزمان لڑکی کے ورثاء کو نیٹ پر برہنہ تصاویر اور ویڈیو اپ لوڈ کرنے کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کرتے ہوئے بھاری نقدی وغیرہ بٹورتے رہے،ڈی پی او نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کی سکول ٹیچر والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے ملزمان سعدیہ،عمران،شوزین،سلیم،نور مدثر کو شناخت کر کے ان کے دو نامعلوم ساتھیوں سمیت مقدمہ درج کر لیا گیا،ڈی پی او نے بتایا کہ پولیس ملزمان تک پہنچ چکی ہے،انہیں گرفتار کر کے ان سے برہنہ تصاویر اور ویڈیوز بر آمد کی جائیں گی،

آر پی او فیصل رانا نے کہا کہ اس طرح کے اخلاق باختہ ملزمان قانون کی نظر میں کسی بھی رو رعائت کے مستحق نہیں ہوتے،آر پی او نے کہا کہ میں نے راولپنڈی میں بطور سی پی او اسی طرح کے ایک گینگ کو پکڑا تھا جو اسی نوعیت کی وارداتیں کرتا تھا،انہوں نے ہدائت کی کہ ملزمان کے ساتھ ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کر کے ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے تاکہ انہیں عدالت سے قانون کے مطابق سزا دلوائی جا سکے،آر پی او نے ہدائت کی اس گینگ نے اگر دیگر لڑکیوں کو بھی اسی طرح زیادتی کا نشانہ بنایا ہے تو ان کے مقدمات بھی درج کئے جائیں اور اگر کوئی متاثرہ فیملی سماجی دباؤ کی وجہ سے سامنے نہیں آتی تو پولیس کی مدعیت میں مقدمات درج کئے جائیں،آر پی او فیصل رانا نے کہا کہ ڈی پی او لیہ اس مقدمہ اور اس نوعیت کے دیگر واقعات کے مقدمات کی تفتیش کی خود نگرانی کریں گے،میں روزانہ ان مقدمات کی تفتیش کا فالو اپ لوں گا.

About BBC RECORD

Check Also

پولیس اہلکاروں کا مستند اور معیاری لیبارٹیز سے ڈرگ ٹیسٹ کروایاجائے او فیصل رانا

Share this on WhatsApp منشیات استعمال کرنے والا کوئی بھی شخص کسی بھی حیثیت میں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے