سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے 15 حکمران

(سپیشل فیچر)

ایک غیر ملکی جریدے نے حال ہی میں سب سے زیادہ تنخواہ پانے والے صدور اور وزرائے اعظم کی تنخواہوں پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان رہنماؤں کی تنخواہیں دو لاکھ ڈالر سالانہ سے سولہ لاکھ ڈالر سالانہ ہیں۔یو ایس اے ٹو ڈے کی رپورٹ کے مطابق اکثر ممالک میں رہنماؤں نے معاشی استحکام میں اپنا حصہ ڈالا لیکن کچھ کمزور ممالک کے رہنما بھی زیادہ تنخواہیں لے اڑے۔ تنخواہوں اور اخراجات کا تجزیہ کرتے وقت عالمی مالیاتی فنڈز اور سی آئی اے کے ڈیٹا کو بھی استعمال کیا گیا ہے۔

سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے رہنما سنگاپور کے وزیراعظم لی ژن لونگ(lee Hsien Loong) ہیں۔ سنگاپور کی سالانہ فی کس آمدنی 66 ہزار ڈالر ہے۔ جبکہ لی کی تنخواہ 16لاکھ 10ہزار ڈالر ہے وہ روسی صدر ولا دی میر پیوتن سے بھی 12گنا زیادہ اخراجات کر رہے ہیں۔ اس چھوٹے سے ملک کا دوسری بڑی سپر طاقت سے 12گنا زیادہ مراعات لینا کہاں کا انصاف ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ و ہ اپنی مراعات روز مرہ کے اخراجات کے مطابق لے رہے ہوں۔ کیونکہ سنگا پور ایک مہنگا ملک ہے۔ اور انہیں حکومت کرتے ہوئے ساڑھے چودہ برس بیت چکے ہیں۔ جریدے کے مطابق وہ فی کس جی ڈی پی سے 20گنا زیادہ تنخواہیں اور مراعات حاصل کر رہی ہیں اس کا جواز کیا ہے۔ بقول ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل ان کے اقتدار کے آنے کے بعد سے ملک میں معاشی انحطاط بھی دیکھنے میں آیا اورکرپشن میں بھی اضافہ ہوا۔

دوسرے نمبر پر سب سے مہنگے حکمران ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو کیری لام ہیں، ان کا شمار دنیا کے ٹاپ کے بیوروکریٹس میں ہوتا ہے۔ ہانگ کانگ نے حال ہی میں تمام سرکاری اداروں کے سربراہوں کی تنخواہوں میں 12.4فیصد اضافہ کیا۔ وہ بھی اس اضافے سے مستفید ہوئے۔ ان کی سالانہ تنخواہ اور مراعات 5.68لاکھ ڈالر ہے۔ اوریہ بھی فی کس سالانہ جی ڈی پی سے 57گنا زیادہ ہے۔ ان کے اقتدار کو پونے دو سال ہو چکے ہیں۔سوئس کنفیڈریشن کے صدر اولی مور ر (Ueli Maurer) کی سالانہ تنخواہ اور مراعات 4.83لاکھ ڈالر ہے۔ جبکہ سوئزر لینڈ کی فی کس جی ڈی پی 56ہزار ڈالر سے کچھ زیادہ ہے وہ دیگر صنعتی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ تنخواہ اور مراعات لے رہے ہیں بلکہ 36 سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں ان کا نمبر بہت اوپر ہے۔ انہیں یہ تنخواہ انجوائے کرتے ہوئے ابھی تین مہینے گزرے ہیں۔چوتھے نمبر پر سب سے زیادہ تنخواہ پانے والے کوئی اور نہیں بہت ہی مشہور شخص ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ ان کی سالانہ تنخواہ پورے 4 لاکھ ڈالر ہے۔ جبکہ امریکہ کی سالانہ فی کس آمدنی 55ہزار ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ امریکی عوام کی یہ خوش قسمتی ہے کہ انہیں ڈونلڈ ٹرمپ جیسا سخی حکمران ملا۔ کیونکہ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی تمام تنخواہ خیراتی اداروں کو دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اور وہ شاید اس پر عمل پیرا بھی ہیں۔

وزیراعظم آسٹریلیا اسکاٹ موریسن کی سالانہ تنخواہ 3.78لاکھ ڈالر ہے ۔ جبکہ آسٹریلیا کی فی کس آمدنی ان سے سات گنا کم ، 47ہزارڈالر ہے۔ اسکاٹ موریسن کا عوامی کیرئیر بھی انہیں اس تنخواہ کا اہل بناتا ہے۔ وہ یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد نیشنل پالیسی اور ریسرچ کے بڑے ادارے سے بھی منسلک رہے۔ آسٹریلیا میں اس عہدے کے لیے کوئی معیار مقرر نہیں۔ موریسن اگر کامیاب رہے تو کئی مرتبہ وزیراعظم بن سکتے ہیں۔جرمن چانسلر انجیلا مرکل اپنے قریب ترین سیاسی حریف سے بھی بہت آگے ہیں۔ بلکہ اب تو یوں لگتا ہے کہ وہ خود بھی مزید اقتدار میں نہیں رہنا چاہتیں۔ جرمن چانسلر کے طور پروہ 3.70لاکھ ڈالر تنخواہ لے رہی ہیں۔ یہ ان کی مجموعی فی کس آمدنی سے تقریباً 8گنا زیادہ ہے۔ جرمنی کو یورپی ممالک میں لیڈر شپ دلوانے میں مرکل کا بہت ہاتھ ہے۔ اوروہ 2005ء سے اس طاقتور منصب پر فائز ہیں۔

ساتویں نمبر پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسیکا آرڈرن ہیں وہ اپنے عوام سے مجموعی طور پر 20گنا زیادہ تنخواہ لے رہی ہے۔ نیوزی لینڈ کی فی کس آمدنی 35ہزار ڈالر سے فی کس زیادہ ہے۔ جبکہ وزیراعظم جیسیکا کی تنخواہ 3.40لاکھ سالانہ ہے۔زیادہ تنخواہ پانے والوں میں ایک اسلامی ملک کے سربراہ محمد اولد بلال بھی شامل ہیں۔ ان کی تنخواہ3.15لاکھ سالانہ سے زیادہ ہے۔ سی پیک کو موریطانیہ میں لاکر انہوں نے معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیاہے۔ مور یطانیہ کی فی کس سالانہ آمدنی 37سو ڈالر ہے۔ تاہم انہوں نے اسی برس اقتدارسنبھالا ہے۔آسٹریا کے چانسلر کی سالانہ تنخواہ 3.29لاکھ ڈالر سے کچھ کم ہے۔ جبکہ ملک کی فی کس آمدنی 45ہزار ڈالر سے کچھ زیادہ ہے۔ چانسلر سیباس شیان ارز کو دنیا کے کم عمر ترین حکمرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ عالمی منظر نامے میں وہ شاید کم عمر ترین سربراہ ہیں۔ 22برس کی عمر میں حکمران پارٹی کے چیئرمین بنے۔

دنیا کی طاقتور ترین معیشتوں میں لکسمبرگ بھی شامل ہے۔وزیراعظم لکسمبرگ زیویور بیٹر کی ماہانہ تنخواہ 2.78لاکھ ڈالر ہے۔ وہ اگر اپنی تنخواہ تمام شہریوں میں تقسیم کر دیں توہرایک کو آدھا ڈالر مل جائے۔ ان کے بعد جنوبی افریقہ کا نمبرآتا ہے۔ سیریل راما فوسا جنوبی افریقہ کے صدر ہیں۔ ملک کی فی کس سالانہ آمدنی سوا بارہ ہزار ڈالراور صدر کی پونے تین لاکھ ڈالر ہے۔ وہ مجموعی تنخواہ سے 25گنا زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں۔کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو کون بھول سکتا ہے۔ بطور وزیراعظم وہ 2.67لاکھ ڈالر وصول کر رہے ہیں۔ جبکہ کینیڈا کی مجموعی فی کس آمدنی 44ہزار ڈالرہے۔ بیلجیم کے وزیراعظم چالس مائیکل کی سالانہ تنخواہ 2.63لاکھ ڈالر ہے۔ جبکہ ملک کی مجموعی فی کس آمدنی 43ہزار ڈالر سے کچھ کم ہے۔ ایڈ ریان ہیسلر (Liechtesnstein) کے وزیراعظم ہیں۔ ان کی سالانہ آمدنی 2.55لاکھ ڈالر ہے۔ وزیراعظم ڈنمارک میٹی فریڈ رک سین تقریباً ڈھائی لاکھ سالانہ اور دیگر مراعات لے رہی ہیں۔ جبکہ ڈنمارک کی فی کس آمدنی 46ہزار ڈالر کے قریب ہے۔ تاہم ڈنمارک کی ملکہ کی تنخواہ اور مراعات ایک کروڑ 35لاکھ کے قریب ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

کیا صدارتی نظام کے لیے پچ تیار کی جا رہی ہے؟ عاصمہ

Share this on WhatsAppصدارتی نظام کے فوائد اور پاکستان میں نظام بدلنے کی ڈرائنگ روم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے