وزیر اعلی پنجاب کے شہر میں قبضہ مافیا سرگرم پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

شبیر خان سدوزئی

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛؛ ڈیرہ غازی خان

وزیر اعلی پنجاب کے شہر میں قبضہ مافیا سرگرم قبضہ گروپ کے سرغنہ مصطفی کھنڈوا سمیت تھانہ گداائی پولیس نے 12 نامزد اور 25 نامعلوم افراد کیخلاف قبضہ کرنے کی کوشش کرنے پر مقدمہ نمبر 227،21 درج کرلیا آل پاکستان مسلم لیگ ( جناح ) کے سیکرٹری جنرل نے بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز کو بتایا کہ بستی پائیگاہ میں ہمارا وراثتی رقبہ ہے رات کی تاریکی میں تقریباً 3 بجے کے قریب کھنڈوا برادری اور بروہی برادری کے افراد زاہد حسین مسلح رپیٹر ،غلام عباس پسٹل،منظور حسین رائفل ،ابوبکر پسٹل ،امیر بخش پسٹل ،ابوبکر پسٹل، رشید احمد کلہاڑی ،غلام مصطفی پسٹل معہ دیگران میرے رقبہ پر مٹی ڈال کر قبضہ کرنے کی کوشش کررہے تھے ہماری مداخلت کرنے پر ڈمپر چھوڑ کر بھاگ گئے موقع پر ڈی ایس پی سٹی اور ایس ایچ او گدائی نے پہنچ کر قبضہ کرنے والی جگہ کا معائنہ کیا اور میرٹ پر تفتیش کرنے کی یقین دہانی کروائی


سینئر قانون دان احمد رضا قصوری نے واقع کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے علاقہ کی یہ صورت حال ہے کہ یہاں آج بھی وارداتیں کرنے والے مختلف قسم کے گینگ سرعام شہریوں کی وراثتی زمینوں پر قبضے کرتے ہیں انکے پیچھے مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کا ہاتھ ہوتا ہے جو وقت آنے پولیس کو پریشرائز کرکے انکی سپورٹ کرتے ہیں میں آئی جی پنجاب اور عثمان بزدار سے اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے میں ملوث تمام ملزمان کیخلاف کاروائی عمل میں لا کر فوری گرفتار کیا جائے

ڈیرہ غازی خان پولیس کے مطابق واقعہ میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے کسی بھی شہری کے ملکیتی زمین پر کسی کو قبضہ کرنے کی اجازت نہیں فوری طور پر ایف آئی آر درج کردی ہے مزید تحقیقات کررہے ہیں


سینئر صحافی و کالم نگار عامر فہیم نے واقع کو پولیس کی ملی بھگت قرار دیا ہے ریاست کی زمہ داری ہے وہ اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے واقع کی مذمت کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ اگر سیاسی لوگوں کے پریشرز میں آکر پولیس میرٹ سے ہٹ کر تفتیش کرتی ہے تو پی ایف یو جے کے پلیٹ فارم سے مزید لاء عمل بنائیں گے

About BBC RECORD

Check Also

حکومت نے شہریوں کو31 اگست تک کورونا ویکسین لگوانے کی ڈیڈ لائن دی دے

Share this on WhatsAppاسلام آباد: این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کا کہنا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے