پاکستان میں ماضی کے سیاسی اتحادوں کی ٹوٹ پھوٹ اور پی ڈی ایم

ڈاکٹر ذولفقار کاظمی

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد

عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی طرف سے حالیہ مخالفانہ بیانات کے بعد پاکستان میں کئی سیاسی حلقے یہ خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ اب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یا پی ڈی ایم نامی اپوزیشن اتحاد بھی اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔اس تناظر میں پاکستان کی تاریخ میں سیاسی اتحادوں کے بننے اور ٹوٹنے کے حوالے سے مختلف سیاسی رہنماؤں اور تجزیہ نگاروں سے بات چیت کی۔ پی ڈی ایم نے چند روز پہلے عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی سے وضاحت طلب کی تھی، جس پر یہ دونوں جماعتیں نالاں تھیں۔ چند سیاسی حلقوں کا یہ خیال بھی ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی نے مریم نواز شریف پر آمرانہ رویہ اپنانے کا الزام لگایا ہے اور پی ڈی ایم میں ٹوٹ پھوٹ کو ان کے اسی رویے سے جوڑا گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان

اس کا پس منظر یہ ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں سینیٹ کے الیکشن، چیئرمین سینیٹ کے انتخاب، ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف کے لیے نامزدگی، پارلیمنٹ سے استعفوں اور لانگ مارچ سمیت کئی مسائل پر اختلافات چل رہے تھے۔ انہی اختلافات کی بنیاد پر متعدد حلقوں کی رائے میں یہ اپوزیشن سیاسی اتحاد اب مزید نہیں چل سکتا۔

پاکستان میں سیاسی اتحادوں کی تاریخ

وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف احمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی اتحادوں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ ملک کی اپنی تاریخ۔ انہوں نے بتایا، ”پہلا سیاسی اتحاد50 کی دہائی میں جگتو فرنٹ کے نام سے بنا، جس کا مرکز اس وقت کا مشرقی پاکستان تھا۔ اس میں کمیونسٹ پارٹی، عوامی لیگ اور کئی دوسری جماعتیں شامل تھیں اور یہ مسلم لیگ کے خلاف تھا۔ اس اتحاد نے بنگال میں نورالامین کو شکست دی اور وہاں فضل حق صوبائی الیکشن جیتے تھے۔ یہ صوبائی انتخابات اس وقت کے سرحد، سندھ اور پنجاب میں ہوئے۔ ہماری سیاسی زبان میں جھرلو انتخابات کی اصطلاح اسی وقت آئی کیوں کہ تین صوبوں میں الیکشن میں دھاندلی ہوئی۔ بلوچستان میں اس طرح انتخابات نہیں ہوئے تھے جب کہ بنگال میں مسلم لیگ کو شکست ہوئی۔ اس اتحاد نے بنگال کے صوبائی خود مختاری کے نعرے کو فروغ دیا، جس کو مغربی پاکستان کے قوم پرستوں نے بھی سپورٹ کیا تھا۔‘‘

ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے فضل الرحمان کو استعمال کیا ہے، حافظ حسین احمد

ڈاکٹر توصیف احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ ایوب خان کے دور میں دو سیاسی اتحاد بنے، ”پہلا اتحاد انتخابی تھا، جس میں فاطمہ جناح حزب اختلاف کی متفقہ امیدوار تھیں اور ان کی جماعت اسلامی سمیت کئی جماعتوں نے حمایت کی تھی جبکہ دوسرا سیاسی اتحاد ایوب خان کے زوال سے کچھ عرصے پہلے بنا اور اس کا بنیادی ہدف ایوب خان کی آمریت کو ختم کرنا تھا۔‘‘ توصیف احمد خان کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پی این اے یا پاکستان قومی اتحاد بنا تھا، ”اس اتحاد نےنظام مصطفیٰ کا نعرہ بھی لگایا۔ جنرل ضیا کے دور میں تحریک بحالی جمہوریت، بے نظیر بھٹوکے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد، اور مشرف کے دور میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت بھی تشکیل دیا گیا تھا۔کئی سیاسی مبصرین کے مطابق ان بڑے سیاسی اتحادوں کے علاوہ بھی چھوٹے چھوٹے سیاسی اتحاد بنتے رہے تھے، جیسے متحدہ مجلس عمل، جس میں ملک کی بڑی اور چھوٹی مذہبی تنظیمیں شامل تھی جبکہ فوجی حکمران مشرف کے دور میں آل پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے بھی ایک اتحاد بنا تھا، جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ تاہم تب پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔‘‘

پاکستانی سیاست: تاریخ کے آئینے میں

1947 – آزادی اور پہلا جمہوری دور برطانیہ سے آزادی کے بعد ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور مسلم اکثریتی علاقوں پر مبنی نیا ملک پاکستان معرض وجود میں آیا۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح ملک کے پہلے گورنر جنرل بنے اور لیاقت علی خان کو ملکی وزیر اعظم مقرر کیا گیا۔ ٹی بی کے مرض میں مبتلا محمد علی جناح قیام پاکستان کے ایک برس بعد ہی انتقال کر گئے۔

اتحاد ٹوٹتے کیوں ہیں؟

ان بڑے سیاسی اتحادوں کے علاوہ صوبائی سطح پر بھی اتحاد بنتے رہے، جیسے بلوچستان میں بلوچستان نیشنل الائنس یا سندھ میں کالاباغ ڈیم اور گریٹر تھل کینال کے خلاف مختلف سیاسی اتحاد بنے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اکرم بلوچ کا کہنا ہے کہ سیاسی اتحاد عموماﹰ قلیل المدتی مفادات کی بنیاد پر بنتے ہیں اور ان کی بنیاد اصولی نہیں ہوتی۔

رانا، گیلانی بیانات: پی ڈی ایم کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ قائم؟

انہوں نے بتایا، ”چونکہ ان کی بنیاد عوامی مسائل پر نہیں ہوتی۔ سیاسی رہنما وقتی طور پر اپنے ذاتی اختلافات کو بھلا کر ایک ساتھ بیٹھ جاتے ہیں لیکن کچھ عرصے بعد وہی اختلافات دوبارہ رونما ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ خصوصاً جب انتخابات قریب ہوں تو یہ اختلافات شدت اختیار کر جاتے ہیں اور یوں ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایسے اتحاد توڑنے میں اسٹیبلشمنٹ کا بھی کردار ہوتا ہے، جیسے یہ کہا جاتا ہے کہ ایم آر ڈی میں غلام مصطفیٰ جتوئی اور تحریک بحالی جمہوریت میں مخدوم امین فہیم کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ تھا۔‘‘ سینیٹر اکرم بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ اگر ان سیاسی اتحادوں کی بنیاد عوامی مسائل پر ہو، تو وہ مضبوط رہتے ہیں۔

معاشی پروگرام اور اتحاد

پی پی پی کے رہنما سینیٹر تاج حیدر کا کہنا ہے کہ جس سیاسی اتحاد کا کوئی معاشی اور سماجی پروگرام نہیں ہو گا، وہ کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے بات چیت میں بتایا، ”ایوب خان کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو سیاسی اتحاد کا حصہ اس لیے نا بنے کہ اس اتحاد کا کوئی سماجی اور معاشی پروگرام نہیں تھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے آمریت کے خلاف لڑائی نہیں لڑی۔ ہم نے ایوب خان کی آمریت کے خلاف بھرپور تحریک چلائی۔ پورے پاکستان کی ٹریڈ یونینیں ہمارے ساتھ تھیں جبکہ کسانوں اور مظلوم طبقات کی بڑی تعداد بھی ہماری حامی تھی۔‘‘

کیا اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گی؟

سینیٹر تاج حیدر کے مطابق پی ڈیم ایم بھی اس وجہ سے ٹوٹی کہ اس کا کوئی معاشی اور سماجی پروگرام نہیں ہے، ”اس کے علاوہ ہمارا خیال ہے کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر نکالا گیا کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ اسمبلی سے استعفے دینے کے بعد انتخابات ہوں اور اس میں تحریک انصاف قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر لے اور اٹھارہویں ترمیم کو ختم کردیا جائے۔ استعفوں کی تو بات ہوتی تھی، لیکن اس کے بعد کی کوئی اسٹریٹیجی نہیں تھی۔‘‘

کیا پی ڈیم ایم منقسم ہو رہی ہے؟

ڈاکٹر توصیف احمد خان کے بقول ن لیگ اور مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو نکال کر غلطی کی، ”اب پی ڈی ایم مولویوں کے ہاتھوں میں چلی جائے گی اور ملک میں رجعت پسند قوتیں مزید طاقت ور ہو جائیں گی۔ سیاسی تحریکوں کے نتائج ایک دن میں نہیں آتے۔ ایوب خان کے خلاف تحریک 1960 میں شروع ہوئی تھی اور اس کا نتیجہ کئی سال بعد نکلا تھا۔ بالکل اسی طرح جنرل ضیا کے خلاف تحریک انیس سو تراسی میں شروع ہوئی اور انتخابات 1988 میں ہوئے تھے۔ اس لیے مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف کو بھی تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔‘‘

شہباز شریف ن لیگ اور نواز شریف کے وفادار نہ ہوتے تو آج وزیراعظم ہوتے، مریم نواز

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لاہور کی بیکن ہاؤس یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر فاروق سلہریا کہتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی بھی سیاسی جماعت تمام صوبوں میں کبھی موجود نہیں رہی۔انہوں نےبتایا، ”پاکستان پیپلز پارٹی شاید وہ پہلی جماعت تھی جس کی تمام صوبوں میں کسی نا کسی حد تک موجودگی تھی۔ لیکن بھٹونے بلوچستان میں جو آپریشن کیا، اس سے اس جماعت کو مزید نقصان پہنچا۔ پاکستان میں قومی سوال بھی اہم ہے اور کوئی طبقاتی جماعت بھی نہیں ہے، اسی لیے پھر سے نئے اتحاد بنانا پڑتے ہیں۔‘‘

About BBC RECORD

Check Also

کنویں کی کھدائی کے دوران نیلم پتھروں کا ذخیرہ دریافت، مالیت 15 ارب روپے

Share this on WhatsAppسری لنکا: سری لنکا میں ایک گھرمیں کنویں کی کھدائی کے دوران ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے