انعام غنی کی سربراہی میں پولیس کا مورل بلند ہوا

تحریر: شبیر خان سدوزئی

انعام غنی کا بطور پنجاب پولیس کا سربراہ بننا اور قبضہ مافیا کیخاف بلا تفریق اپریشن کرنا ایک ہمت والا پولیس مین ہی کر سکتا ہے چند دن قبل ایک
بزرگ خاتون کے جھریوں زدہ چہرے پر بلا کا سکون اور اطمینان تھا۔ان کی روشن آنکھوں میں خوشی کے آنسووں موتی بن کر چمک رہے تھے اور ہونٹوں پر مسلسل دعائیں جاری تھیں کیونکہ دیار غیر میں بسی اس اوور سیز پاکستانی خاتون درشہوار کو سالوں بعد اپنی کروڑوں روپے مالیت کی پراپرٹی کا قبضہ واپس ملا تھا۔انعام غنی کے احکامات کی روشنی میں سی سی پی او لاہور ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر نے اوور سیز پاکستانی بزرگ خاتون کی درخواست پر فوری کاروائی کرتے ہوئے ان کی پراپرٹی کا قبضہ لینڈ مافیا سے واگذار کروا کر چابیاں خاتون کے حوالے کی تھیں۔یہ صرف ایک بزرگ خاتون کی کہانی نہیں بلکہ لاہور پولیس گذشتہ اڑھائی ماہ میں ایسے کئی شہریوں کی بروقت مدد کرکے ان کی زندگی کا اثاثہ واپس دلوا چکی ہے۔لاہور پولیس متعلقہ محکموں اور اداروں کے ساتھ مل کر کامیاب آپریشنز کے بعد اربوں روپے مالیت کی سینکڑوں ایکڑ سرکاری و نجی زمینیں اور جائیداد واگذار کروا کر حکومت اور اصل مالکان کے حوالے کر چکی ہے۔ناجائز تجاوزات اور قبضہ گروپوں کو نکیل ڈالنے اور شہریوں کی جائیدادیں واگذار کروانے کی اس شاندار کامیابی کا تمام تر سہرا انعام غنی اور اسکی ٹیم سی سی پی او لاہور ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر کے سر جاتا ہے جنہوں نے اپنی تعیناتی کے بعد وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے ویژن کے تحت لاہور کو قبضہ مافیا، بدمعاشوں، رسہ گیروں،گینگسٹرز اور انکے سرپرستوں نیز کلاشنکوف کلچر سے پاک کرنے کا عزم کیا اور اپنی خصوصی دلچسپی، دن رات کی انتھک محنت اوربہترین ٹیم ورک کے ذریعے اپنے اس مشن میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔مربوط کوششوں سے یتیموں،بیواؤں، محنت کشوں اور غریب شہریوں کی جمع پونجی لوٹنے والے بدمعاشوں، لینڈ مافیا اور ان کے سرپرستوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا گیا۔یہ وہ طاقتور عناصر تھے جنہوں نے گذشتہ کئی دہائیوں سے مسند اقتدار پر براجمان سیاستدانوں اور مافیا کنگز کی معاونت اور آشیر باد سے لاہور کے تمام مقتدرحلقوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کر رکھا تھا اور یہ بدمعاش عناصر ناجائز اسلحہ کے زور پر غریب اور شریف شہریوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر یا پھر ظالمانہ ناجائز ہتھکنڈوں سے دباؤ ڈال کر ان کی عمر بھر کی جمع پونجی سے خریدی زمینیں جائیدادیں ہتھیا لیتے تھے۔بااثر قبضہ گروپوں کے خلاف ان متاثرین کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔اس صورتحال کے پیش نظر قبضہ مافیا،چوروں لٹیروں اور بدمعاشوں کے ستائے غریب شہریوں کی دادرسی کے لئے کیپٹل سٹی پولیس ہیڈکوارٹرز لاہور میں محکمہ پولیس، ریونیو، ایل ڈی اے، اوور سیز پاکستانیز کمیشن اور محکمہ کوآپریٹوز پر مشتمل اینٹی قبضہ مافیا سیل اور خصوصی ہیلپ لائن 1242 قائم کی گئی۔ شہریوں کی زمینوں،جائیدادوں اور املاک پر قبضہ یا ایسی کسی کوشش کی صورت میں سائلین کی درخواستوں پر قانونی تقاضے پورا کرتے ہوئے فوری ایکشن لیا جا رہا ہے۔سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی قیادت میں اینٹی قبضہ مافیا سیل اور ہیلپ لائن 1242 کی کاوش سے اب تک اربوں روپے مالیت کی سینکڑوں ایکڑ سرکاری و نجی اراضی اور جائیدادیں واگذار کروائی جاچکی ہے۔۔ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر نے لاہور پولیس کی کمان سنبھالنے کے بعدمحدود وسائل میں رہتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کو استعمال میں لا کرعوام دوست پولیسنگ کے ویژن پر مبنی مثبت اقدامات کے ذریعے شہریوں اور پولیس کے درمیان اعتماد کا رشتہ مزید مضبوط بنایا ہے۔لاہور پولیس کا مورال بلند ہوا ہے اور شہریوں کے دل میں اپنی پولیس سے محبت کا جذبہ پروان چڑھا ہے۔مربوط آپریشنل سٹریٹیجی،ٹیم ورک اور نیک نیتی سے کی گئی کوششوں کی وجہ سے شہر میں جرائم کی شرح میں واضح کمی آئی ہے۔منشیات فروشوں، قمار بازوں اور کلاشنکوف کلچر سمیت ناجائز اسلحہ اور نمائش سے شہریوں کو ہراساں کرنے والے سماج دشمن عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن بھی زوروشور سے جاری ہے۔لینڈ مافیا، بدمعاشوں، جرائم پیشہ افراد، ان کے زیر استعمال اسلحہ لائسنس، زمینوں، جائیدادوں، اثاثوں، موبائل سمز، رابطوں میں موجود افراد کی تمام تر تفصیلات پر مبنی ڈیٹا اکٹھا کیا جا چکا ہے تاکہ ایسے افراد کو قانون کے دائرہ کار میں لایا جا سکے۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے قبضہ مافیا اور ناجائز تجاوزات کے خلاف بھرپور ایکشن اور سرکاری و نجی زمینیں واگذار کروانے پر لاہور پولیس کی کارکردگی کو سراہا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واگذار کروائی گئی سرکاری اراضی کو شہریوں کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال میں لانے کا عندیہ دیا ہے۔
تھانہ کلچر میں تبدیلی کا واحد حل شہریوں سے خوش اخلاقی، حسن سلوک اور بہترین سروس ڈیلیوری میں پنہاں ہے۔پولیس کے انفرادی و اجتماعی مثبت تشخص کا فروغ عوام دوست کمیونٹی پولیسنگ کا لازمی جزو ہے۔یہی وجہ ہے کہ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے تھانوں میں آنے والے شہریوں اور سائلین کی رہنمائی، دادرسی اور سہولیات کی فراہمی کے لئے سب انسپکٹرز اور اے ایس آئی عہدے کے پولیس افسران کو شہریوں کے نمائندہ کے طور پر تمام پولیس سٹیشنز میں بطور کمیونٹی گائیڈز تعینات کیا ہے۔ کمیونٹی گائیڈز تھانہ کلچر کی تبدیلی اور پولیس کا امیج بہتر بنانے کے لئے بارش کا پہلا قطرہ اور عوام دوست پولیسنگ کے آئی جی پنجاب انعام غنی کے ویژن کا نقطہء آغاز ہے۔خفیہ بیلٹنگ اور سروے کے نتیجے میں منتخب کئے گئے یہ کمیونٹی گائیڈز بے داغ،بہترین کردار اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں جو شہریوں کو تھانے کے گیٹ سے عزت و احترام سے ویلکم کرکے درخواست تحریر کرنے،فرنٹ ڈیسک، ایس ایچ اوز، انچارج انوسٹی گیشن،حوالاتیوں تک رسائی، ایف آئی آر، ڈیٹا انٹری، گمشدگی رپورٹس کے اندراج، زیر تفتیش کیسز اور پولیس سروسز بارے تمام معلومات اور تعاون فراہم کررہے ہیں۔شہر میں لاء اینڈ آرڈر برقرار رکھنا،جرائم کو انسدادی کاروائی کے ذریعے بروقت روکنا اور جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی ہمیشہ سے لاہور پولیس کا بنیادی فوکس رہا ہے۔شہر کے گنجان آباد علاقوں اورکرائم ہاٹ سپاٹس پر موثر پٹرولنگ کے ذریعے شہریوں میں احساس تحفظ اُجاگر کرنے اور کرائم ہونے کی صورت میں مخصوص علاقے کی ناکہ بندی کے ذریعے ملزمان کی فرار کی تمام راہیں مسدودکرنا انتہائی ضروری عوامل ہیں۔اس مقصد کے حصول کے لئے آئی جی پنجاب انعام غنی اور سی سی پی او غلام محمود ڈوگر نے خالصتاً لاہور پولیس کے اپنے وسائل سے موٹر سائیکلز سکواڈ پر مشتمل انتہائی تربیت یافتہ ابابیل فورس متعارف کروائی ہے۔چالیس جوانوں اور بیس موٹر سائیکلز پر مشتمل ابابیل فورس شہر کے زیادہ کرائم والے ہاٹ سپاٹس ایریاز میں اکٹھے متحرک ہوتے ہیں۔ابابیل فورس کی ہاٹ سپاٹس پر موجودگی،پٹرولنگ اور ناکہ بندی سے جرائم پیشہ افراد جرم کا ارتکاب کرنے سے یقیناً اجتناب کریں گے۔ابابیل فورس کی وجہ سے شہریوں میں احساس تحفظ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔پتنگ بازی سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع پورے معاشرے کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔پتنگ بازی ایک خونی کھیل ہے جس کے تدارک کے لئے لاہور پولیس ہمیشہ سے متحرک رہی ہے۔پتنگ بازی کے تدارک کے لئے پولیس کی خصوصی ٹیموں کی تشکیل، مانیٹرنگ، پٹرولنگ اور ڈرون ٹیکنالوجی سمیت تمام وسائل بروئے کار لائے گئے ہیں تاہم شہریوں اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے تعاون کے بغیر اس خونی کھیل کا تدارک ممکن نہیں۔موجودہ کائٹ فلائنگ ایکٹ میں جرم کی نوعیت کے برعکس یکساں اور نرم سزاؤں کی وجہ سے اکثر ملزمان کیفر کردار تک نہیں پہنچ پاتے اور سزا سے بچ جاتے ہیں۔پتنگ بازی کے ناسور پر قابو پانے کے لئے اس جان لیوا کھیل میں ملوث تمام قانون شکن عناصر کو ان کے جرم کی نوعیت کے مطابق سخت سزاؤں کے دائرہ کار میں لایا جانا از حدضروری ہے۔لاہور پولیس پتنگ بازی ایکٹ کے تحت قانون میں ترامیم نیز ایف آئی اے، وزارت کامرس اور ایف بی آر سمیت تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے کیمیکل ڈور کی سپلائی لائن کاٹنے کے لئے متحرک ہے۔لاہور پولیس نے پنجاب پروہبیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس2001؁ء میں ترامیم کے لئے ٹھوس تجاویز حکومت پنجاب کو بھجوائیں ہیں جن کے مطابق پتنگ فروشوں، مینوفیکچرز اور پتنگ بازوں کے لئے جرم کی نوعیت کے مطابق سزاؤں میں اضافہ تجویز کیا گیاہے۔ تجاویز کے تحت کائٹ مینوفیکچرنگ کی حوصلہ شکنی کے لئے ایک سال سے پانچ سال قید کی سزا یا پانچ لاکھ سے 20 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں، پتنگ فروشی کی صورت میں ایک سال سے پانچ سال قید یا دو لاکھ سے سے پانچ لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں جبکہ پتنگ بازی کرنے پر تین ماہ سے ایک سال قید یا پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دینے کی تجاویز شامل ہیں۔پولیس تجاویز کے مطابق پتنگ سازی، پتنگ فروشی اور مینوفیکچرنگ کے اس آرگنائزڈ کرائم میں فیس بک پیجز، ویب سائٹس کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کاروائی کا مجاز ہے۔لاہور پولیس ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے سوشل میڈیا پرڈور اور پتنگیں فروخت کرنے والوں کی مانیٹرنگ کر رہی ہے۔لاہور پولیس پتنگ بازی کے نقصانات بارے شہریوں کا شعور اجاگر کرنے کے لئے آگاہی مہم بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔تاہم شہریوں کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا کہ ان کے گھر کی چھت اس خونی کھیل کے لئے استعمال نہ ہو اور ان کے بچے اس جان لیوا سرگرمی سے دور رہیں۔شہریوں اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کرنے اور عوام الناس کی ان کے گھر کی دہلیز پر اعلیٰ پولیس افسران تک براہ راست رسائی یقینی بنانے کے لئے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ہدایت پر شہر کے تمام علاقوں میں ہفتہ میں دو دن کھلی کچہریاں بھی منعقد کی جارہی ہیں۔سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر خود بھی کھلی کچہریوں میں شہریوں کے مسائل سنتے اور داد رسی کے لئے موقع پر احکامات دیتے ہیں۔مزید برآں سی سی پی او لاہور ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر سمیت اعلیٰ افسران پولیس سٹیشنز کاباقاعدگی سے دورہ کرتے نظر آتے ہیں اور تھانے کے عملے کو شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے،مقدمات کے فوری اندراج اور کرائم کنٹرول کے لئے بھرپور اقدامات کی ہدایات دیتے نظر آتے ہیں۔لاہور پولیس کے ان تمام عوام دوست پولیسنگ پر مبنی فلاحی اقدامات کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ صوبائی دارلحکومت دائمی امن کاگہوارہ بنے گا اور پولیس خدمت خلق کے جذبے کے تحت انصاف کی بروقت فراہمی، شہریوں کی بے لوث خدمت عبادت سمجھ کر کرے گی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری بھی پولیس کو اپنی پولیس سمجھ کر تنقید برائے تنقید کی بجائے اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں کیونکہ شہریوں کی محبت کی اس تھپکی سے نا صرف پولیس فورس کا مورال بلند ہو گا بلکہ جرائم کی سرکوبی کے لئے پولیس جوان مزید دلجمعی اور جوش و جذبہ سے فرائض سر انجام دیں گے۔

About BBC RECORD

Check Also

مصرمیں بچّہ شادی کے خلاف جاری جنگ ( تجزیہ )

Share this on WhatsAppتحریر؛ ہباء یوسری بچّوں کی تصاویر اکثر والدین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے