سعودی عرب مشکل میں: پاکستان میں کئی حلقوں کی طرف سے حمایت

ارسلان بن احمد

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ سعودی عرب

صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے سعودی عرب پر امریکی دباو بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں کئی حلقوں نے اس معاملے پر سعودی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔امریکی خفیہ ادارے کی طرف سے حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار سینیئر سعودی عہدیداروں کو ٹھہرایا ہے۔ اس رپورٹ نے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سن 2017 سے سعودی سلامتی اور سراغ رسانی کے ادارے پرنس محمدبن سلمان کے کنٹرول میں ہیں اور یہ انتہائی غیر متوقع بات ہے کہ سعودی افسران ایسا کوئی آپریشن ان کی منظوری کے بغیر کریں۔ قومی سراغ رسانی کے امریکی ادارے کے خیال میں اس آپریشن کی منظوری محمد بن سلمان نے دی تھی۔

علما کی طرف سے حمایت

ہفتے کو پاکستانی دفتر خارجہ نے سعودی عرب کے حق میں بیان دیا جب کہ کل بروز اتوار ملک کے ایک ہزارعلما و مشائخ نے لاہور میں ہونے والی ایک کانفرنس میں قرار داد کے ذریعے سعودی عرب کی حمایت کی۔

استنبول میں سعودی قونصل خانے کی عمارت، جہاں خاشقجی کا قتل ہوا تھا

اس قرارداد کی تفصیل بتاتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے مشرق وسطی و بین المذاہب ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”کل لاہور میں ایک کانفرنس ہوئی جس میں ایک ہزار علما، جن کا تعلق مختلف مکتبہ فکر سے تھا، نے پاکستان کی وزرات خارجہ اور سعودی وزرات خارجہ کے اس موقف کی تائید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے انصاف کے سارے تقاضے اس مقدمے کے حوالے سے پورے کئے ہیں۔‘‘

مشکل میں ساتھ دینا ہی دوستی ہے

سعودی عرب سے پاکستان کے دیرینہ تعلقات ہیں، جہاں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی کام کرتے ہیں اور ملک کو بہت اہم زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاض نے مختلف مواقع پر پاکستان کی مالی مدد بھی کی ہے جب کہ ادھار تیل بھی فراہم کیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفارت کار شمشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا فیصلہ انتہائی دانشمندانہ ہے۔ ”پاکستان نے سعودی حمایت کا اعلان کر کے اور اس سے اظہاریکجہتی کر کے بالکل صحیح فیصلہ کیا ہے۔ اب اگر وہ مشکل میں ہے تو ہمیں بالکل اظہار یکجہتی کرنی چاہیے۔‘‘

دباؤ لینے کی ضرورت نہیں

شمشاد احمد خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ، ”اگر کوئی آج یہ کہتا ہے کہ ہم سعودی عرب کی حمایت نہ کریں یا اس سے دوستی نہ نبھائے، تو کل یہ ہی بات چین کے حوالے سے بھی کی جا سکتی ہے۔ ہم نے کبھی امریکہ یا کسی اور ملک سے نہیں پوچھا کہ اس نے ریاستی دہشت گردی کے مرتکب بھارت سے کیوں دوستی کی ہے اور کیوں اسے ایف اے ٹی ایف کا رکن بنایا ہے۔ تو ہمیں کسی ڈر سے بالاتر ہو کر سعودی عرب سے اظہار یکجہتی کرنا چاہیے۔‘‘

تنقیدی سلسلہ

تاہم کچھ حلقے دفتر خارجہ کی طرف سے اس حمایت کو ہدف تنقید بھی بنارہے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے سابق چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ریاض کا ساتھ دیا ہے اور اب بھی یہ حمایت کوئی غیر متوقع نہیں تھی۔ ”کیونکہ ریاض کے ساتھ ہمارے معاشی مفادات ہیں۔ لوگوں کا مذہبی لگاواس کے علاوہ ہے۔‘‘ ڈاکٹر مہدی حسن نی یہ بھی کہا کہ عمران خان کی حکومت بھی مذہبی ہے، جو مذہبی عناصراور رجعت پسندوں کو خوش رکھنا چاہتی ہے۔‘‘

About BBC RECORD

Check Also

کینیڈا کے وزیراعظم نے سپریم کورٹ میں پہلی بار مسلم جج نامزد کردیا

Share this on WhatsApp بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اوٹاوا کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے