’’حوثیوں کا مآرب میں حملہ امریکا اوراس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ کا حصہ ہے؟‘‘

یمن کی حوثی ملیشیا کے ایک فوجی کمانڈرعبداللہ الشریفی نے مآرب میں اپنی حالیہ کارروائی کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ قرار دے دیا ہے۔
حوثی ملیشیا کے ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق عبداللہ الشریفی نے کہا ہے کہ ’’اب لڑائی ہمارے بھائیوں کے خلاف نہیں بلکہ یہ ہمارے اور کافروں ، امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان ہے۔‘‘یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے تحت فورسز اورایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان اسی ہفتے مآرب میں شدید لڑائی چھڑ گئی تھی۔یمن میں شمال میں واقع اس شہر پر یمنی حکومت کا کنٹرول ہے اور حوثی جنگجو اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

حوثیوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں سعودی عرب کے شہروں کی جانب بھی متعدد ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ان میں ایک حملے میں ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ایران حوثیوں کو یمن کی قانونی حکومت کے خلاف جنگ میں ڈرونز ، میزائل اور دوسرے ہتھیار مہیا کررہا ہے اور حوثی جنگجو ان ہی سے سعودی عرب میں شہری آبادیوں اور اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس نے گذشتہ ہفتے حوثی ملیشیا کے مآرب میں جارحانہ حملے کی مذمت کی تھی اور بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زوردیاتھا۔

انھوں نے گذشتہ جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مآرب گورنری میں حوثیوں کے حالیہ حملے کے بعد یمن میں جاری کشیدگی کو مہمیز ملی ہے۔میں گذشتہ سال اس آپریشن کے آغاز کے بعد سے اس کی کئی مرتبہ مذمت کرچکا ہوں۔میں ایک مرتبہ پھر اپنا یہ مطالبہ دُہراتا ہوں کہ مآرب میں حملے کو فوری طور پر روک دینا چاہیے۔اس سے لاکھوں شہریوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوگئی ہیں۔‘‘

About BBC RECORD

Check Also

ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کرنے کے خواہشمند ہیں، سعودی وزیرخارجہ

Share this on WhatsAppریاض: سعودی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ عمران خان کادورہ سعودی عرب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے