اسد درانی بھارتی ایجنسی ’را‘سے رابطوں میں رہے، وزارت دفاع کا عدالت میں مؤقف

ڈاکٹر ذولفقار کاظمی

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد

وزارت دفاع نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کر دی۔وزارت دفاع کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں داخل کروائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ اسد درانی 2008 سے دشمن عناصر بالخصوص بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے رابطوں میں رہے۔ ان کا نام ریاست مخالف سرگرمیوں کے باعث ایگزٹ کنٹرول لسٹ( ای سی ایل) میں شامل کیا گیا۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی 32 سال پاکستان آرمی کا حصہ رہے اور اہم و حساس عہدوں پر تعینات رہے۔ اسد درانی کے خلاف انکوائری حتمی مرحلے میں ہے اور اس مرحلے پر ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جا سکتا۔

داخل کردہ جواب میں کہا گیا ہے کہ اسد درانی نے 12 اور 13 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر جس رائے کا اظہار کیا اسے بھی کسی محب وطن شہری نے اچھا نہیں سمجھا۔ سابق سربراہ آئی ایس آئی نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق چیف کے ساتھ مل کر کتاب لکھی۔وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کتاب کا سیکیورٹی لحاظ سے جائزہ لیا گیا۔ انکوائری بورڈ کے مطابق کتاب کا مواد پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

پاک سعودیہ تعاون خطے کی سلامتی پر مثبت اثرات لائے گا، آرمی چیف

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد پاک فوج کے سربراہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے