بلوچستان کوئلے کی کان میں کام کرنے والے 11 مزدور اغوا کے بعد قتل

عدیل احمد

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ مچھ

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے کوئلے کی کان میں کام کرنے والے 11 کان کنوں کو قتل کر دیا۔ یہ بات مقامی حکام کی طرف سے بتائی گئی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بننے والے مزدوروں کا تعلق شیعہ ہزارہ کمیونٹی سے تھا۔ ایک مقامی حکومتی اہلکار خالد درانی کے مطابق مرنے والے 11 کان کنوں کی لاشیں ایک مقامی ہسپتال میں منتقل کر دی گئی ہیں۔ مسلح افراد اس واردات کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے اور اب پولیس اور سکیورٹی فورسز ان کی تلاش میں ہیں۔

‘انسانیت سوز بزدلانہ دہشت گردی

پاکستان وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں مچھ میں 11 کان کنوں کی ہلاکت کو ”انسانیت سوز بزدلانہ دہشت گردی‘‘ کا ایک اور واقعہ قرار دیا۔
نیم فوجی لیوی فورس کے ایک اہلکار معظم علی جتوئی کے مطابق یہ حملہ کوئلے کی کانوں کے علاقے مچھ کے قریب پیش آیا۔ مچھ کا علاقہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 48 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ جتوئی کے بقول مسلح افراد کوئلے کی کان میں کام کرنے والے ان کان کنوں کو قریبی پہاڑیوں میں لے گئے جہاں لے جا کر ان پر فائرنگ کر دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ چھ کان کن موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ پانچ دیگر جو شدید زخمی تھے وہ ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے۔

اپنے ہی دشت میں بھٹکتا بلوچستان

معظم علی جتوئی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسلح افراد ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی شناخت کر کے انہیں اپنے ساتھ لے گئے جبکہ بقیہ لوگوں کو انہوں نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔

ہزارہ برادری: خوف، حوصلہ اور خود اعتمادی

ہزارہ برادری کے تاجر کوئٹہ کی مرکزی مارکیٹ کی جانب جا رہے ہیں۔ انہیں اس مقصد کے لیے ایک چیک پوائنٹ سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان کے رہائشی علاقے کے گرد ایک بڑی دیوار تعمیر کی گئی ہے تاکہ وہ عسکریت پسندوں کے حملوں سے محفوظ رہیں۔ مارکیٹ آتے جاتے وقت فوجی ان کی حفاظت پر مامور رہتے ہیں۔
ابھی تک اس واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی تاہم اس سے پہلے کالعدم شدت پسند تنطیم لشکر جھنگوی بلوچستان میں اس طرح کے واقعات میں ملوث رہی ہے۔بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے علاوہ غیر مقامی مزدوروں کو بھی نشانہ بنانے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں تاہم ان کی جانب سے شیعہ ہزارہ کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی مثال موجود نہیں ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

الجزائر میں بدبخت شخص نے امام مسجد کو نماز کے دوران شہید کردیا

Share this on WhatsAppالجزائر سٹی: الجزائر کی مسجد طارق بن زیاد میں ایک بد بخت ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے