بھارت تقسیم ہونیوالا ہے! تجزیہ

تحریر ؛ شبیر خان سدوزئی

گزشتہ روز دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا گیا۔ پتا نہیں بھارت نے کس منہ سے یہ دن منایا ہوگا کیونکہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر مسلسل انسانی حقوق پامال کر رہی ہے۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ بھارت پوری دنیا میں انسانی حقوق کی پامالی میں سرفہرست ہے۔بھارتی پنجاب کو بھارت کا اناج گھر کہا جاتا ہے۔ یہاں زیادہ تر کسان سکھ برادری سے تعلق رکھتے ہیں جو تقریباً پورے ہندوستان کو غذائی اجناس مہیا کر رہے ہیں۔نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی چونکہاقلیت دشمن جماعت ہے، اِس لئے محض سکھوں کو دبانے کیلئے اُس نے کسان دشمن زرعی قوانین نافذ کئے۔ یہ الگ بات ہے کہ مودی سرکار کے اِن کسان دشمن قوانین کی وجہ سے سکھوں کا احتجاج، اب پورے بھارت کا احتجاج بن گیا ہے۔اب نہ صرف پورے بھارت کے کسان اِس احتجاج میں شامل ہو گئے ہیں بلکہ مزدور، تاجر، دکاندار اور سیاست دانوں سمیت ہر طبقہ کے لوگ مودی حکومت کے خلاف اِس احتجاجی تحریک کا حصہ بن گئے ہیں۔ گزشتہ روز اِن مظاہرین نے پورے بھارت کو بند کئے رکھا۔لاکھوں مظاہرین نے بھارت کی اہم شاہراہوں کو بلاک کیا۔ اب تک مودی حکومت کے اِن مظاہرین سے مذاکرات کے چھ ادوار ناکام ہو چکے ہیں۔ مظاہرین نہ صرف کسان دشمن زرعی قوانین بلکہ بھارت میں سکھوں کے قتلِ عام اور اُن پر ڈھائے جانیوالے مظالم کیخلاف سراپا احتجاج ہیں۔ دلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال کو مظاہرین کے حق میں بیان دینے پر گھر میں نظربند کیا گیا ہے۔

دو ہفتوں سے جاری اِس احتجاج میں اب تک پانچ مظاہرین کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ اِسی ہفتے کئی یورپی ممالک میں مقیم سکھوں نے بھی بھارتی کسانوں کی حمایت، مودی سرکار کے اقلیتوں اور کشمیری مسلمانوں پر بدترین مظالم کے خلاف مظاہرے کئے۔سکھ رہنمائوں نے آزاد خالصتان کے قیام پر زور دیا۔ کینیڈا کے وزیراعظم کے علاوہ دیگر کئی ممالک کے اراکینِ پارلیمنٹ اور سیاست دانوں نے نریندر مودی پر زور دیا ہے کہ بھارتی کسانوں اور اقلیتوں پر مظالم بند کئے جائیں اور بھارت میں انسانی حقوق بحال کئے جائیں۔بھارتی پنجاب کے کسانوں کے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کو اب کسی طور نہیں روکا جا سکتا۔ یہ احتجاج اب خالصتان تحریک میں ڈھلتا جا رہا ہے۔ خالصتان کے علاوہ بھارت کی دوسری علیحدگی پسند ریاستیں بھی سرگرم ہو گئی ہیں۔ گزشتہ روز بنگلور، اترپردیش اور جےپور میں بھی مودی سرکار کے خلاف مظاہرے ہوئے اور علیحدگی کے نعرے لگائے گئے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی لوگ سڑکوں پر آگئے اور تمام رکاوٹیں توڑ کر کسانوں کے حق میں مظاہرے کئے اور ’’کشمیر کو چھوڑ دو‘‘ کے نعرے لگائے، اِن مظاہرین پر پولیس نے بدترین لاٹھی چارج کیا۔

بھارت سرکار کشمیریوں پر مظالم، کسان تحریک اور علیحدگی کے لئے تیار بھارتی ریاستوں میں زور پکڑتی تحریکوں سے توجہ ہٹانے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے شر انگیزی کی تیاری میں مصروف ہے۔ مودی سرکار نے بھارت کے اندر اقلیتوں کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے۔ پاکستان نے دنیا کے سامنے بھارتی مظالم اجاگر کرےاور پاکستان کے خلاف شرانگیزی کرنے سے متعلق ڈوزیئر پیش کیا ہے۔ پاکستان نے دنیا پر یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر بھارت کو نہ روکا گیا جو کہ اِس خطے کے امن کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے تو اُس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔موجودہ صورتحال میں جو بھارت کے اندر بدامنی اور بےیقینی کی جو فضا قائم ہے، بھارت وہاں کسانوں کے اجتماع یا کسی بھی جگہ پلوامہ طرز کا کوئی ڈرامہ رچا سکتا ہے تاکہ اس کا الزام وہ حسبِ سابق پاکستان پر لگا سکے۔ اِس کے علاوہ بھارت پاکستان کے خلاف ایک بار پھر احمقانہ کارروائی کی بھی تیاری کر رہا ہے اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کرانے کی بھی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج بھارت کی طرف سے کسی بھی شر انگیزی اور مذموم کارروائی کا مقابلہ کرے اور منہ توڑ جواب کے لئے مستعد اور تیار ہیں۔ بھارت میں اندرونی انتشار کے پھیلائو، معاشی بد حالی، بیروزگاری اور نریندر مودی کے مظالم، علیحدگی پسند تحریکوں میں تیزی اور دیگر عوامل کی وجہ سے بھارتی حکومت شدید دبائو کا شکار ہے۔دوسری جانب چین کی طرف سے ڈوکلام اور لداخ وغیرہ میں تاریخی پٹائی کی وجہ سے مودی سرکار پر زبردست دبائو ہے۔ اِن تمام عوامل کے پس منظر میں بیرونی دنیا میں اب بھارت کی نہ صرف سبکی ہو رہی ہے بلکہ تنازعہ کشمیر سمیت پاکستان کی طرف سے تفصیلی دستاویز کی روشنی میں بھارت پر بیرونی دبائو بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ بھارتی آرمی چیف کا عرب ممالک کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی رخصتی سے بھی مودی سرکار اعصابی تنائو کا شکار ہے۔پاکستان کی طرف سے دنیا کے سامنے پیش کئے گئے ڈوزیئر میں ناقابلِ تردید ثبوتوں اور شواہد نے بھی بھارت کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے اور اب دنیا کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ بھارت ایک دہشت پسند اور خطے میں دہشت گردی پھیلانے والا ملک ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھارت کے غاصبانہ و ظالمانہ اقدامات و قوانین، بھارتی عدالتوں کے ظالمانہ فیصلوں، انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور خطے کو تباہی سے دوچار کرنے سے روکے اور بھارت کے خلاف فوری اور سخت اقدامات کرے۔ ورنہ بھارت کو مزید موقع دینا دنیا کو تباہی سے دوچار کرنے کے مترادف ہوگا۔

About BBC RECORD

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے