کراچی: گلشن اقبال کی رہائشی عمارت میں دھماکا، 5 ہلاک متعدد زخمی

پاکستان کے بندرگاہی شہر کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ایک رہائشی عمارت میں دھماکے کے نتیجے میں تاحال اطلاعات کے مطابق 5 افراد ہلاک متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آج صبح ساڑھے نو بجے کے قریب مسکن چورنگی پر ہونے والے دھماکے میں زخیموں کی تعداد 25 تک پہنچ چُکی ہے جبکہ 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ مسکن چورنگی کی جس عمارت میں دھماکا ہوا وہاں نیچے کی منزل پر زیادہ تر کمرشل دکانیں اور بینک وغیرہ تھے جبکہ پہلی منزل سے رہائشی فلیٹس کا سلسلہ شروع ہوتا تھا جن میں کئی دہائیوں سے لوگ آباد تھے۔ یہ چورنگی دراصل کراچی کے کئی گنجان آباد علاقوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ مسکن چورنگی سے ایک راستہ جامعہ کراچی ، ایک سُپر ہائی وے ایک عزیز آباد اور ایک گلشن چورنگی کی طرف جاتا ہے۔ دریں اثناء ڈی جی رینجرز نے کہا ہے کہ اب ملبے تلے کوئی شخص دبا نہیں ہے۔ فوری کارروائی کر کے تمام زخمیوں کو نکال لیا گیا ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق بُدھ کے روز کراچی کے ایک مرکزی رہائشی علاقے گلشن اقبال کی مسکن چورنگی کے نزدیک ایک عمارت میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں اس عمارت کو شدید نقصان پہنچا جب کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے میں زحمی ہونے والے افراد کو قریبی پٹیل ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ دھماکے کی نوعیت ابھی تک واضح نہیں ہوئی تاہم مبین ٹاؤن پولیس کے ایس ایچ او نے ابتدائی بیان دیتے ہوئے کہا، ”دھماکا غالباً ایک گیس سلینڈر پھٹنے سے ہوا۔‘‘ بموں کو ناکارہ بنانے والا اسکواڈ جائے واقعہ پر پہنچ چکا ہے اور دھماکے کی اصل وجوہات اور اس کے محرکات کے سلسلے میں چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ جس چار منزلہ عمارت میں یہ ہوا، اُس کے تمام شیشے ٹوٹ کر گرے اور آس پاس کی عمارتوں اور گاڑیوں وغیرہ کو بھی اس سے نقصان پہنچا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس عمارت کی دو منزلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔ دریں اثناء سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل مشتاق مہر نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کراچی ایسٹ کے ایس ایس پی کو فوری طور پر تحقیقات کرنے اور دھماکے کی وجوہات سمیت پولیس کی اس واقعے کے بعد کیے گئے فوری اقدامات کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ پولیس اور رینجرز نے جائے حادثہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے اور علاقے سے ملبے کو صاف کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ملبے کے نیچے سے مزید زخمیوں کو تلاش کرنے اور انہیں نکالنے کی کارروائی جاری ہے۔
یاد رہے کہ ابھی گزشتہ روز یعنی منگل کو ہی کراچی کے ایک اور گنجان آباد علاقے کیماڑی کی شیرین جناح کالونی کے ایک بس ٹرمینل کے داخلی حصے میں زور دار بم دھماکے میں پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کی تفتیشی کارروائی کے بعد بتایا گیا تھا کہ بس ٹرمینل کے داخلی دروازے کے پاس دھماکا خیز مواد ایک موٹر سائیکل پر نصب تھا جس کے پھٹنے سے پانچ افراد زخی ہوئے تھے۔

About BBC RECORD

Check Also

پاکستانی مسافروں کا یو اے ای میں داخلہ بند، دبئی حکومت نے پابندی عائد کر دی

Share this on WhatsAppشبیر خان سدوزئی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ لاہور پاکستانی مسافروں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے