مزارِ جناح پر نعرے بازی، کیپٹن صدر گرفتار

کراچی میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار پر ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے لگوانے پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد اور اپوزیشن رہنما کیپٹن محمد صفدر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔کراچی میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے میں شرکت کے لیے اپنی اہلیہ مریم نواز کے ساتھ آئے کیپٹن صفدر کو پیر کی صبح ہوٹل سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ گزشتہ روز کراچی میں واقع مزار قائد پر فاتحہ خوانی کے بعد انہوں نے ‘ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے لگوائے۔اپنے شوہر کی گرفتاری کے حوالے سے مریم نواز نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا، ”ہم سوئے ہوئے تھے، جب پولیس نے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑ کر کيپٹن صفدر کو گرفتار کیا۔معروف صحافی طلعت حسین نے ہوٹل کے کمرے کے باہر کی ایک مختصر ویڈیو بھی ٹوئٹ کی ہے، جس ميں دکھائی دیتا ہے کہ دروازہ طاقت کے ذریعے کھولا گیا۔دوسری جانب وفاقی وزیر برائے شپنگ علی زیدی نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق کيپٹن صفدر کی جانب سے مزار میں نعرے بازی کے بعد ایک شکایت درج کرائی گئی، جس میں شکایت کنندہ کا موقف تھا کہ انہوں نے کیپٹن صفدر کو نعرے بازی سے روکا تاہم وہ باز نہ آئے۔ اس شکایت کے مطابق، کيپٹن صفدر نے مزار جناح کی تکریم کو پامال کیا ہےکیوں کہ اس مقام پر قانونی طور پر سیاسی نعرے بازی کی ممانعت ہے۔

اس معاملے پر مریم نواز کے ترجمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری اصل میں اپوزیشن اتحاد کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔ دوسری جانب سندھ حکومت نے اس مقدمے سے دوری اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت اس گرفتاری کے ذریعے سارا ملبہ سندھ حکومت پر ڈالنا چاہتی ہے، تاکہ حکومت مخالف اتحاد میں دراڑیں پڑیں۔دوسری جانب سندھ حکومت کے وزیر سعید غنی نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں اس گرفتاری کی مذمت کی ہے اور اسے اپوزیشن اتحاد کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش سے تعبیر کیا ہے۔سعید غنی کہتے ہیں، ”مزار قائد پر کیپٹن صفدر نے جو کچھ کیا وہ نامناسب تھا لیکن جس انداز میں کراچی پولیس نے گرفتاری کی ہے وہ قابل مذمت ہے۔کیپٹن صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت کی ہدایات پر نہیں ہوئی۔ پولیس کا یہ اقدام PDM کی جماعتوں میں خلیج پیدا کرنے کی سازش کا حصہ ہے جسے ہم ناکام بنائیں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے کراچی میں ایک بڑے احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا۔ اس جلسے میں ایک مرتبہ پھر ملکی فوج پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے سابقہ انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو وزیراعظم منتخب کرایا۔یہ بات اہم ہے کہ پاکستان میں اپوزیشن کی نو جماعتوں نے مل کر گزشتہ ماہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تشکیل دی تھی۔ اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا تھا کہ تمام جماعتیں پاکستانی عوام کو بچانے اور تحفظ دینے کے لیے جمع ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا، ”اگر حکومت کو پانچ برس مکمل کرنے دیے گئے، تو ملک تباہ ہو جائے گا۔‘‘

دوسری جانب عدالت کا کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو رہا کرنے کا حکم

عدالت نے مزار قائد میں نعرے بازی کرنے کے کیس میں کیپٹن صفدر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم جاری کیا ہے۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مقدمہ بدنیتی کی بنیاد پر دائر کیا ہے اس لیے فوری طور پر خارج کیا جائے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا تھا کہ کہ عدالت نے مزار قائد کی بے حرمتی کیس میں گرفتار ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منظور کرلی ہے۔کیپٹن صفدر کے وکلا نے دلائل دیے کہ مقدمے میں اسلحے کے زور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کی دفعات شامل ہیں۔ مزار قائد کی سی سی ٹی وی اور وائرل وڈیو میں واضح ہے کہ انکے موکل کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔ مقدمہ بدنیتی کی بنیاد پر دائر ہوا اسے خارج کیا جائے۔عزیز بھٹی پولیس اسٹیشن نے کیپٹن (ر) صفدر کو بکتر بند گاڑی میں سٹی کورٹ لایا گیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو پیر کی صبح کراچی میں نجی ہوٹل کے کمرے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ مریم نواز نے اپنی ٹوئٹ سے بتایا تھا کہ کراچی میں پولیس نے ہوٹل میں ہمارے کمرے کا دروازہ توڑ کر کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کیا۔ انہوں نے ہوٹل کے کمرے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ جب پولیس اہلکار زبردستی اندر گھسے تو وہ کمرے میں موجود تھیں اور سو رہی تھیں۔

تھانہ بریگیڈ کی انویسٹی گیشن پولیس کی جانب سے یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن صفدر سمیت مسلم لیگ (ن) کے 200 سے زائد کارکنوں کیخلاف مزار قائد کی بے حرمتی کا مقدمہ درج کرایا ہے۔تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان ، حلیم عادل شیخ ، راجہ اظہر اور دیگر مزار قائد کا تقدس پامال کرنے پر پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز ، ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرانے بریگیڈ تھانے پہنچے تھے۔ پہلے پہل پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا تو پی ٹی آئی رہنماؤں و کارکنان نے تھانے کے باہر احتجاج کیا جس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔وفاقی وزیر علی زیدی نے مقدمہ درج نہ ہونے کی صورت میں آئی جی سندھ کو او ایس ڈی بنانے کا معاملہ کابینہ میں اٹھانے کی بھی وارننگ دی تھی، اس سلسلے میں رات گئے تک تمام رہنما اور کارکنوں کی بڑی تعداد تھانے میں جمع رہی اور دھرنا دے دیا ، رہنماؤں کی جانب سے باقاعدہ طور پر تحریری درخواست بھی جمع کرائی گئی ، ایک موقع پر حلیم عادل شیخ اور ایس ایچ او بریگیڈ انسپکٹر خواجہ سعید کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

قائداعظم مزار آرڈینینس کیا ہے؟

مزار قائد کی حفاظت اور اس کے تقدس کے لیے قائداعظم مزار (پروٹیکشن اینڈ مینٹی نینس) آرڈینینس مجریہ 1971 رائج ہے، قانون کی شق 6 کے تحت مزار قائد کے احاطے کے اندر اور اس کے 10 فٹ باہر تک عوامی مظاہرے اور ہر طرح کی سیاسی سرگرمی ممنوع ہے اور ایسا جرم ہے جس پر جرمانے کے علاوہ جیل کی سزا بھی مقرر ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو 3 سال جیل اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کرنے کے خواہشمند ہیں، سعودی وزیرخارجہ

Share this on WhatsAppریاض: سعودی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ عمران خان کادورہ سعودی عرب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے