جبری گم شدگی کا عالمی دن اور کشمیر کے گم شدگان،

تحریر؛ بشیر سدوزئی

جبری گم شدگی بین الاقوامی قانون کے مطابق ایک سنگین جرم ہے ۔ یہ قانون اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 20 دسمبر 2006 کو منظور کیا اور طہ ہوا کہ ہر سال 30 اگست کو گم شدگی کا عالمی دن منایا جائے گا ۔ اس قانون کے تحت متاثرین کے ورثاء کو گم شدگان کی تلاش کا حق فراہم کیا جاتا ہے ۔قانون میں جبری گم شدگی کی تعریف بیان کی گئی ہے کہ ریاست کی طرف سے کسی شخص کی گرفتاری، تحویل میں لینا یا اغوا کرنا یا اس کو آزادی سے محروم کرنا کہ اس کے بارے میں کسی کو معلومات نہ ہو اور وہ قانون کے دائرہ کار سے بھی باہر ہو جبری گم شدگی کہلاتی ہے۔کنونشن کے مطابق کسی بھی قسم کے حالات ہوں، چاہے حالت جنگ ہو یا جنگ کا خطرہ ، اندرونی سیاسی عدم استحکام ہو یا ایمرجنسی نافذ ۔ کسی بھی وجہ کو بنیاد بنا کر انسانی جبری گم شدگی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ریاست ہرجبری گم شدگی کی ذمہ دار ہوگی۔ اس لئے اسے فریق بنایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ریاست اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے فوجداری قوانین میں بھی جبری گم شدگی کو ایک جرم اور اس میں ملوث شخص اور اس کے سپروائزر کو مجرم قرار دیا جائے۔ کسی حکومتی اتھارٹی کے حکم یا ہدایت، چاہے وہ سول ہو یا فوجی، کسی کی جبری گم شدگی کو درست قرار نہیں دیا جائے گا۔جبری گم شدگی میں ملوث پایئے جانے والے اتنی ہی سزا کے مستحق ہیں جتنا یہ جرم تکلیف دہ ہے۔ ملوثین کو بھی ایسی ہی سزادی جائے تاکہ وہ اتنا ہی کرب محسوس کرسکیں جتنا گم شدہ کو ہوا۔ ریاست سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ لاپتہ ہونے والے شخص کے خاندان یا اس کے وکیل کو اس شخص کے مقام۔ وقت گرفتار ، اور گرفتار کرنے والی اتھارٹی کے بارے میں معلومات دے۔ یہ بتایا جائے کہ وہ شخص اس وقت کہاں ہے، اس کی صحت کیسی ہے اور اسے کب رہا کیا جائے گا، اگر وہ شخص قید کے دوران مر جائے تو اس کی موت کی وجوہات، حالات اور اس کی لاش کے بارے میں بتایا جائے۔ یو این او کے اس کنونشن میں اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ گم کئے جانے والے کو زر تلافی ادا کیا جائے۔ ہر ریاستی فریق اس بات کو یقینی بنائے کہ جبری گم شدگی کا شکار ہر شخص مناسب زرتلافی کا حقدار ہے۔ اس زرتلافی میں اخلاقی اور مالی نقصانات کا ازالہ، اس کی معاشی بحالی، اس کے وقار اور عزت کی بحالی اور اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ آئندہ اس کے ساتھ ایسا نہ ہو۔ قانون کی حد تک تو یہ بہت اچھا اور انسان دوست قانون ہے۔ جس پر عمل درآمد اقوام متحدہ کے ہر رکن ملک پر لازم ہے کیوں کہ ہر رکن ملک نے اس کنونشن پر دستخط کئے ہوئے ہیں، لیکن بھارت کو نہیں مانتا مگر اقوام متحدہ یا عالمی برادری جواب طلبی کے بجائے بڑی منڈی میں مصنوعات فروخت کرنے کی لالچ میں خاموش ہے۔اسلامی دنیا اور خاص کر عرب ممالک اس حوالے سے مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اپنے بنائے ہوئے قانون کی یاددہانی کے لیے بین الاقوامی برادری ہر سال 30 اگست کو جبری گم شدگی کا عالمی دن مناتی تو ہے مگر کشمیر کے 10 ہزار سے زائد جبری گم شدگان کے بارے میں عالمی ضمیر ملامت نہیں کرتا ۔ ممکن ہے اس میں کمزوری ہماری ہی ہو یا ہمارا وکیل کمزور ہے جو عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑنے میں ناکام ہوا ۔ کشمیر کی آر پار سیاسی قیادت کو اس حوالے سے بالکل ہی خیال نہیں آتا نہ کوئی احساس ۔ سری نگر میں ہند نواز سیاست دان اگر الحاق بھارت کو اپنا آئینی حق سمجھتے ہیں تو عالمی یوم گم شدگی کے حوالے سے بھارت کے ساتھ اپنے گم شدہ جوانوں کی برآمدگی کی بات کرنے میں خوف اور شرم کی کیا بات ہے۔ آزاد کشمیر کے الحاقیوں کو اپنے وکیل سے پوچھنے میں یہ ہچکچاہٹ ہے کہ ہم پر دست شفقت اٹھا لیا گیا تو مظفر آباد کی کرسی دور ہو جائے کی۔ کوئی بھی کے ایچ خورشید نہیں بننے چاتا حالاں کہ وہی عزت کی زندگی اور موت ہے۔ اب وکیل سے کون بات کرے کہ آپ نے ہمارے مقدمہ میں بین الاقوامی برادری کو قائل کرنے میں کوتاہی نہیں کی تو کشمیر کے ظلم و ستم پر دنیا کی توجہ کیوں نہیں آتی ۔ کشمیری بھی ہر سال 30 اگست کو یوم جبری گم شدگان بناتے ہیں کہ ممکن ہے دنیا اس طرف متوجہ ہو جائے مگر مجموعی طور پر اہل کشمیرایک گم شدہ قوم بن چکی۔ سورج کی روشنی میں قابض بھارتی فوج کشمیری نوجوانوں کو گھروں، چوراہوں، بازاروں، مساجد ، دفاتر ، کالجوں ،یونیورسٹیوں اورکھیل کے میدانوں سے نوجوانوں کو لوگوں کے سامنے اٹھاتی ہے اور لا پتہ کردیتی ہے۔ لواحقین گزشتہ تین دہائیوں سے متواتر تلاش میں سر گرداں ہیں ۔ اجالے میں پولیس اور فوج کے جانب سے اٹھائے گئے کشمیری نوجوان آج تک نہیں ملے نہ ان کے بارے میں کوئی معلومات دی جاتی ہے ۔ اہل خانہ۔ نیم بیوائیاں، نیم یتیم بچے کرب میں ہیں ۔ انسانی حقوق کے اداروں اور گم شدگان کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم کی جانب سے گم نام اجتماعی قبروں کے انکشاف کے بعد گم شدگان کے ورثاء نے ایسے جنوبی افریقہ کی طرز پر ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کامطالبہ کیا تھا۔تاکہ یہ پتا لگایا جاسکے کہ ان گم نام قبروں میں جبری طور پر گم کردہ نوجوان تو نہیں۔ اس مطالبے کے بعد بھارتی آرمی نے ان اجتماعی قبروں پر چھاونیاں تعمیر کرنا شروع کر دیں تاکہ ثبوت ہی ختم ہو جائے ۔ سرکار کے اس اقدام پر انٹرنیشنل پیپلز ٹریبونل آن ہیومن رائٹس، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ایشیا واچ اور دیگر کئی انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے مطالبات بھی کئے گئے مگر دلی اورسری نگر سرکار کے عدم تعاون کی وجہ سے بات عملی طور پرآگے نہ بڑھ سکی۔ واضح رہے کہ جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں کے جنگلوں اور بیابانوں میں 3 ہزار کے لگ بھگ گم نام اجتماعی قبریں دریافت ہوئی تھی جن میں موجود لائشوں کی شناخت کے لئے حکومت کسی اقدام کے لیے تیار نہیں بلکہ اس عمل سے ہی انکاری ہے کہ کشمیر میں کوئی گم شدہ ہے اور فوج جبری گم شدگی میں ملوث ہے ۔جب کہ جن کے عزیز لاپتہ کئے گئے
ان میں سے اکثریت نفسیاتی مریض بن چکی۔ اگرچہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے قانون ہر عمل درآمد کرائے اور پتہ لگائے کہ کشمیرمیں جبری طور پر لا پتہ کئے گئے لوگ کدھر ہیں۔وہ جاندار آوازبلند کر کے ملوثین سے اس کا جواب طلب کرے جو بھارتی فورسز ہیں، کہ کشمیر میں ہزاروں گم نام قبروں کے دریافت ہونے سے کشمیر کے لاپتہ افراداوران قبروں کے درمیان میں کوئی تعلق تو نہیں۔ اگر بھارت کو کوئی خوف نہیں تو وہ ایسا کرنے میں کیوں انکاری ہے ۔معلوم نہیں کہ انسانی حقوق کاڈھول پیٹنے والے ادارے کشمیر کے لاپتہ افراد کے بارے میں اس قدر خاموش کیوں ہیں۔کیاوہ دلی سے خوفزدہ ہیں یاپھرکشمیریوں کی تلاش میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ انسانی حقوق میں سب سے زیادہ مقدم انسان کا حق آزادی اور حق خودارادی ہے عالمی یوم گم شدگان کے موقع پرکشمیرکے گم شدہ افراد کے اہل خانہ دنیائے انسانیت کے سامنے چِلا چِلا کراپنے عزیزوں کی بازیابی کی درخواستیں کررہے ہیں لیکن تاحال ان کی صدائے احتجاج پر کسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔کشمیرکے مسئلے پرعالمی سطح پر سرد مہری اورعدم توجہی کی وجہ سے عرصہ دراز سے بے بس کشمیریوں کوانصاف کی فراہمی نصیب نہیں ہوسکی۔ یہ المیہ ہے کہ 73 برس گزرنے کے باوجود کشمیر کے یہ خاندان بھارتی ظلم اورجبر کے شکار ہیں۔اس طرح ریاست جموں وکشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی پامالیاں رونما ہورہی ہیں اورمسلسل کشمیر میں انسانیت کی دھجیاں بکھیریں جارہی ہیں ۔ عالمی اداروں کی بے رخی سے کشمیری مسلمانوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ شاہد دینا کے کسی بھی کونے میں کوئی ایسالیڈر یا ملک نہیں ہے جو کشمیریوں کو بھارت کے چنگل سے آزاد کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔کشمیر ایک عرصے سے انسانی المیے کا سامنا کر رہا ہے۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ جب گم شدگان اورگم نام قبروں جیسے لرزہ خیز واقعات پر دنیا کے کسی جانب سے موثر انداز میں صدائے احتجاج بلند نہیں ہوتی تو کشمیر میں رد عمل بڑھنا فطری بات ہے۔ دنیا کو کشمیر میں انسانوں کا قتل عام نظر آتا ہے نہ یہاں مظالم دکھائی دیتے ہیں ۔تو دنیا ایسے قوانین اور دن کیوں مناتی ہے جس پر عمل نہیں کرتی۔منافقت پوری دنیا میں عروج پر ہے خواہ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر ۔ مسلمان ممالک تو اس میں دو قدم آگئیں ہیں آج کا عجم، کم از کم عرب سے بہتر ہے غریب ضرور ہے مگر بے حس نہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر میں لاکھوں افراد نفسیاتی مرض میں مبتلا ہو چکے اس میں خواتین کی اکثریت ہے جن کے بچے بھائی یا خاوند کو فورسز کے اہلکار ان کے سامنے اٹھا کر لے گئے مگر سرکاری سطح پر ہر ادارہ ان کے بارے میں انکاری ہے ۔ اقوام متحدہ کے کمیشن میں جبری گم شدہ افراد کے ورثا کو جن حقوق کا تعین کیا تھا بھارت ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں مانتا تو ایسے قوانین بنانے اور ایسے دن بنانے کا کیا فائدہ ۔ حریت قیادت کو اقوام متحدہ کے اس عالمی دن کا بائی کاٹ کرنا چاہئے اور مطالبہ کرنا چاہیے کہ ایسے دن بنانا بند کئے جائیں۔ کالم نگار سے رابطے کے لیے. واٹس اپ
03002116511
bashirsaddozai@gmail.com

About BBC RECORD

Check Also

بس تھوڑا سا صبر اور

Share this on WhatsApp تحریر؛ (پروفیسررفعت مظہر) ہم تو اکڑتے پھرتے تھے کہ ہمارے وزیرِاعظم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے