گپکار ڈیکلریشن کشمیریوں کے لیے غیر اہم، پاکستان کے لیے اہم کیوں ہے؟

تحریر؛ بشیر سدوزئی

جموں و کشمیر کے آزادی پسندوں کو شاہ محمود قریشی کا یہ بیان اچھا نہیں لگا جس میں انہوں نے گپکار ڈیکلریشن کو اہم قرار دے کر پاکستان کی کشمیر پالیسی اور کشمیر کے حوالے سے عمران خان کے بیانات کو مشکوک بنا دیا ۔ کشمیر کی سنئیر صحافی نعیمہ احمد مجہور نے جمعہ 28 اگست کو اس حوالے سے لکھے گئے ایک سخت مضمون میں کہا کہ ” شاہ محمود قریشی نے گپکار ڈیکلریشن کو اہم قرار دے کر تصدیق کر دی ہے کہ پانچ اگست، 2019 تک جو جموں و کشمیر کی پوزیشن تھی وہ پاکستان نے منظور کی ہوئی ہے، یعنی ریاست بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ یا پھر پاکستان کے وزیر خارجہ کو کشمیر تنازعے کا تاریخی علم نہیں۔ اجلاس کےایک سال بعد جاری اعلامیے پر بھارت اور پاکستان کے مختلف حلقوں نے اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے لیکن جو بیان پاکستان کے وزیر خارجہ نے دیا اس نے نا صرف کشمیریوں کو حیران و پریشان کر دیا بلکہ بیشتر جماعتوں کو ناراض بھی، جو الحاق پاکستان کا درد رکھنے کی پاداش میں بھارت کی اذیتوں سے گذشتہ سات دہائیوں سے گزر رہی ہیں ۔۔کشمیر کے حریت حلقوں نے ہند نواز قیادت کے اس اعلامیے کو غیر اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ قیادت اپنی ساکھ بحال کرنے کی دوبارہ کوشش کرنے لگی ہے۔ ان میں سے بیشتر لیڈروں نے رہائی کے بدلے میں تحریری طور پر وعدہ کیا ہے کہ وہ پانچ اگست کے فیصلے پر بات کرنے کے بجائے اب صرف ریاست کی بحالی کا مطالبہ کریں گے۔ وزیراعظم مودی نے پہلے ہی کہا ہے کہ یونین ٹریٹری بنانے کا فیصلہ وقت آنے پر واپس لیا جائے گا جس کا ذکر انہوں نے 15اگست کی تقریر میں دہرایا۔ یہ لیڈر ایک اور ڈراما کر رہے ہیں جس میں حکومت بھارت کی مرضی شامل ہے”۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر کی ہند نواز قیادت کی جانب سے 22 اگست 2020 کو جاری علامیہ کو اہم قرار دیا تھا۔ یہ اعلامیہ ایک سال قبل 4 اگست 2019 کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ گپکار پر ہند نواز سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں ہونے والے فیصلے کا ہے جو ان سیاست دانوں کے اس وقت گرفتار ہونے کے باعث جاری نہیں ہو سکا تھا۔ اس اجلاس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ ہند نواز سیاست کرنے والی تمام جماعتوں کے 18 سر کردہ سیاسی رہنما شریک ہوئے اور آئندہ بخشی غلام محمد کے کردار کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔ اجلاس میں اتفاق رائے سے تین نکات کی منظوری دی گئی جن میں 1۔ ریاست میں وجود رکھنے والی سب سیاسی جماعتیں ریاست کی خصوصی پہچان، خود مختاری اور ریاست کو حاصل خصوصی درجے کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کے خلاف یکجا ہیں۔2۔ دفعہ 370 و 35 اے کو کسی صورت بھی منسوخ نہیں کیا جاسکتا اور مزید یہ کہ ریاست کسی بھی تقسیم کی متحمل نہیں ہو سکتی اور اگر ایسا کیا گیا تو یہ جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام پر چڑھائی کے مترادف ہوگا۔ 3۔ صدر و وزیراعظم ہند ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کو ریاستی و مرکزی آئین کے تحت حاصل کردہ حقوق کی پاسداری یقینی بنائیں۔۔۔ تاہم حریت کانفرنس اس اجلاس اور علامیہ کو اہم قرار نہیں دیتی ۔ ان سیاست دانوں کے بارے میں حریت قیادت کی رائے ہے کہ یہ رہنما مقدمہ کشمیر سے ہر گز مخلص نہیں اور نہ ہی جموں و کشمیر میں بھارتی قتل و غارت پر ان کو درد ہوتا ہے ۔ یہ لوگ ابن الوقت ہیں اور ان کے تمام مفادات بھارت کی جانب سے دی جانے والی مراعات سے وابستہ ہیں ۔ یہ جو بھی کچھ کرتے ہیں اس میں بھارت کی مرضی شامل ہوتی ہے ۔

یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ لوگ کبھی بھی نئی دہلی کے لیے قابلِ بھروسہ نہیں رہے سری نگر کے اقتدار کے لیے ذلیل و خوار ہوتے ہیں ۔ شیخ عبداللہ پنڈت جواہر لعل نہرو کے وفادار ساتھی تھے، پوری زندگی شبہات کی نظر سے دیکھے جاتے رہے۔ یہ وہی شیخ عبداللہ تھے جن کی جماعت نیشنل کانفرنس نے 1947 میں مجاہدین کشمیر کے خلاف لڑائی کی اور شیخ عبداللہ نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بننے والے پاکستان کی بجائے سیکولر بھارت کو ترجیح دی۔ 1953 میں شیخ مرحوم کو وزارتِ عظمیٰ سے فارغ کر کے میں ڈالا گیا تو بخشی غلام محمد تیار تھا۔ پچھلے 73 برسوں میں وقفے وقفے سے بخشی غلام محمد کے کردار کو نمایاں کیا جاتا ہے تاکہ الحاق بھارت پر کوئی ایک گروپ یا فرد سیاست نہ کرے۔ اس طرح آج درجنوں ایسے لیڈر موجود ہیں جو نئی دہلی کی آشیرباد کے لئے ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی دوڑ میں ہیں ۔ ان میں سے کبھی کوئی دو قومی نظریہ یا قائد اعظم کے موقف کو درست ہونے کی بات کرتا ہے تو وہ محض بھارت کو دانت دیکھانے کے سوا کچھ نہیں اور فاروق عبداللہ کے گھر ان سب کا جمع ہونا اور گپکار ڈیکلریشن بھی اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ بھارت کو آنکھیں دیکھائی جائیں

اسی وجہ سے بھارت نے ان سب کو آنکھیں دیکھانے کے لیے اس مرتبہ الطاف بخاری کی قیادت میں پی ڈی پی سے توڑے ہوئے کھلاڑیوں کی ٹیم کو ” اپنی پارٹی ” کے جھنڈ تلے میدان میں اتارا مگر اس کو عوام میں پذیرائی نہیں ملے اور نئی سیاسی پارٹی کا اعلان کرتے ہی پٹ گئی ۔۔ اسی طرح سی ایس ایس کے امتحان میں گولڈ میڈلسٹ بیوروکریٹ شاہ فیصل بھی ملازمت چھوڑ کر سیاست میں آیا تھا وہ بھی ناکام ہو چکا ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر کے عوام اب کسی صورت بھارت کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں ۔ اپنے اس موقف پر ڈٹے رہنے سے ان کو جو مالی اور جانی نقصان ہوا اس کی مثال نہیں ملتی ۔ پاکستان کے حکمرانوں کو اس بات کا خاص خیال رکھانا چاہیے کہ ان کی کسی پالیسی یا بیان سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی دل عزاری نہ ہو ۔ اس وقت وہ دشمن کی سخت قید میں ہیں تو پاکستان کا نام لینے کی وجہ سے ورنہ 30 کروڑ اور مسلمان بھی تو بھارت میں رہتے ہی ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کا دل عزاری کرنے کا مقصد اللہ تعالی کی سخت گرفت کو دعوت دینا ہے۔۔ شاہ محمود قریشی ایسے سیاست دان ہیں جو کوئی بھی بیانیہ دینے سے قبل غور و فکر اور جملوں کا درست استعمال کرتے ہیں ۔ یقینا ان کو مسئلہ کشمیر کے پس منظر سے واقفیت نہیں ہے ۔ تب ہی ایک غلطی پہلے بھی نیشنل اسمبلی میں تقریر کے دوران منکا لہرا کر ،کشمیر بنے گا پاکستان” نعرہ لگا کر کر چکے ۔ یہ نعرہ نادان دوستوں کی ایجاد ہے جو مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ اس نعرے سے ایسا لگتا ہے پاکستان اپنی سرحدوں کی توسیع چاتا ہے ۔ بلا بین الاقوامی برادری کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ کسی ملک کی زمین میں توسیع کرنے میں مدد دے ۔ مسئلہ کشمیر خالصتا ایک قوم کی آزادی کا مسئلہ ہے ۔جب بین الاقوامی برادری کو یہ بتایا جائے کہ ایک قوم کی آزادی تسلیم شدہ حق کو بھارت نے دبایا ہوا ہے تو دنیا کہ توجہ حاصل کرنے میں آسانی ہو گی ۔۔۔۔ پاکستانی حکومت کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی پالیسی یا بیان سے پہلے حریت کانفرنس سے مشاورت کرنے چاہئے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اور پاکستان حکومت کے درمیان کوئی اختلاف پیدا نہ ہو ورنہ بہت نقصان ہو جائے گا لہذ حکومت پاکستان کو اس کی فوری وضاحت کرنا چاہئے کہ گپکار ڈیکلریشن حریت پسندوں کے لئے غیر اہم اور پاکستان کے لیے اہم کیوں ہے ؟۔

About BBC RECORD

Check Also

بھارت کو شکست ۔۔ مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں شامل ۔

Share this on WhatsAppتحریر؛ بشیر سدوزئی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 75ویں سالانہ اجلاس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے