کشمیر سے 100 کمپنیاں فورسز کی واپسی، بھارت کی نئی چال ہے ۔

تحریر؛ بشیر سدوزئی،

بین الاقوامی میڈیا میں بدھ 19 اگست کو اس وقت تبصرے اور پیشن گوئیاں شروع ہو گئی جب نئی دہلی سے خبر جاری ہوئی کہ حکومت کشمیر سے فورسز کی 100 کمپنیوں کو واپس بلا رہی ہے۔ اس سے قبل 15 اگست 2020ء کو یوم آزادی کے موقع پر مودی نے کشمیر میں انٹرنیٹ کھولنے کا اعلان کیا تھا ۔جب کہ بدھ 19 اگست کو اسکورٹی فورسز کی 100 کمپنیاں واپس بلانے کے لیے وزارت داخلہ نے باقاعدہ احکامات جاری کر دئے ہیں ۔ یہ اضافی نیم فوجی دستے 5 اگسٹ 2019 کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے 20 دن قبل کشمیر میں تعینات کئے گئے تھے۔ وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فوجی دستے رواں ہفتے کے آخر تک جموں و کشمیر سے چلے جائیں گے۔فوجی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک کمپنی میں سو سے تین سو سپائی ہوتے ہیں۔اس حکم نامے کے مطابق مجموعی طور پر بیس ہزار سے زیادہ فوجی اہلکار کشمیر سے واپس انڈیا چلا جائیں گے۔ بین الاقوامی نامہ نگاروں کے مطابق بھارت اس اقدام سے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں ، میڈیا ہاوسز اور عوامی مباحثوں کے لئے مواد مہیا کر رہا ہے۔ بھارت پر اس وقت شدید سفارتی دباؤ ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بند کیا جائے۔ بدھ کی رات تک حریت قیادت کی جانب سے ان دونوں اقدامات پر کوئ ردعمل نہیں آیا۔ آزادی پسندوں کا کہنا ہے کہ خاموشی طوفان کا پیش خیمہ ہے ۔ تاہم ہمارے سری نگر کے ذرایع کے مطابق کشمیر میں اکثر حلقے اس فیصلے کے کئی پہلوؤں پر غور کر رہے ہیں۔ اور بہت جلد اس پر ردعمل دیا جائے گا۔کشمیر کے سنئیر تجزیہ نگاروں کے مطابق ایک سال قبل حکومت ہند یہ سمجھتی تھی کہ کشمیر کی سول آبادی کو کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے

جو بڑی تعداد میں مسلح عسکریت پسندوں کی حمایت میں جان دینے پر آمادہ تھی۔اس وقت اکثر یہ دیکھنے میں آتا تھا کہ جہاں فورسز کا حریت پسندوں کے ساتھ مقابلہ شروع ہوتا مقامی آبادی باہر نکل آتی اور فورسز پر پتھراؤ شروع ہو جاتا فورسز کی توجہ ہجوم کی طرف جاتی اور حریت پسند بھاگ جاتے، مودی حکومت نے کشمیر کی اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے پچھلے برس ایک کروڑ بیس لاکھ آبادی کو رات کی تاریکی میں گھروں میں بند کر دیا۔ پندرہ لاکھ بچوں کو تعلیم سے محروم کر دیا، تیرہ ہزار بچوں کو گرفتار کر کے کشمیر سے باہر جیلوں میں منتقل کیا، پانچ لاکھ افراد کو روزگار سے محروم، چالیس ہزار کروڑ روپے کے تجارتی نقصان سے کشمیری معیشت کو برباد اور سیاحت کی انڈسٹری کو جان بوجھ کر مفلوج بنا دیا۔ اس سے منسلک دو لاکھ سے زائد خاندانوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا گیا ۔ مودی نے اعلان کیا تھا کہ بندوق کو کشمیری آبادی سے ختم کر دوں گا۔ اس الزام میں اب تک 214 نوجوانوں کو ہلاک اور 1400 کو زخمی کر دیا گیا۔ سینکڑوں مکانات کو بارود سے اڑانا اور کروڑوں کی جائیداد کو خاکستر کرنا فوج کا مشغلہ بنا ہوا ہے ۔ ایک لاکھ سے زائد طلبا اور طالبات کو ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں سے واپس کشمیر آنا پڑا اور بیرون ریاست تاجروں کو زندگی بچانے کی غرض سے اپنا کاروبار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔۔نہ صرف حریت قیادت بلکہ ہند نواز قیادت بھی گرفتار ہے۔کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ فلسطینیوں کی طرح انہیں ‘بے وطن کر کے جموں کشمیر کا مسلم اکثریتی کردار ختم کیا جائے گا۔ ان خدشات میں علیحدگی پسند اور ہند نواز ایک ہی صفحے پر ہیں اور مودی کے اس اقدام کو ہند نواز سیاست دانوں نے بھی پسند نہیں کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ علیحدگی پسندوں کے ساتھ ساتھ ہندنواز رہنماؤں اور اُن کے کارکنوں کو بھی قید کیا گیا۔ اب بیشتر رہا ہوگئے ہیں تاہم سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اب بھی قید میں ہیں۔ جب کہ عمر عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ جب تک 379 اور 35 اے بحال نہیں ہوتا وہ انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لیں گے یہ صورت حال بھارت کے لیے اچھی نہیں۔ جب کہ حکومت کو یہ بھی دیکھانا ہے کہ اب حالات ٹھیک ہورہے ہیں۔ 5 اگست کے اقدام کو کشمیریوں نے پسند کیا ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب کسی مقابلے کے دوران لوگ گھروں سے باہر نہیں نکلتے اور نہ ہی شہید کے جنازے دئے جاتے جن میں ہزاروں افراد شامل ہوں۔ اس فیصلے کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ لوگ اب حریت پسندوں کے ساتھ نہیں۔ اب یہ معاملہ عوامی نہیں حریت یت پسندوں اور حکومت کے درمیان ہے، اور عسکریت پسند بھی کم ہیں جو تھوڑے بہت ہیں ان سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی یہاں کافی فورسز موجود ہیں ۔ حالاں کہ جب حکومت یہ فیصلہ کر رہی تھی سرینگر اور بارہمولہ میں پے درپے کئی مسلح حملوں میں فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس کے سات افراد ہلاک اور تین مجاہدین شہید ہوئے۔

پولیس اور فوج کے اعلیٰ افسر کئی سال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر میں مسلح عسکریت پسندوں کی تعداد دو سو سے کم ہے۔صرف گزشتہ سال اگست سے رواں سال اگست تک 200 مجاہدین شہید ہوئے تو پولیس کے عداد و شمار کے مطابق مذاہمت کاروں کو اب ختم ہو جانا چاہئے تھا مگر اب بھی اتنے ہی تعداد ہے جتنی پولیس یا فوج گزشتہ کئی سال سے بتا رہی ہے ۔ اب تو مذاہمت کار دن دہاڑے سیاسی افراد پر حملہ کرتے ہیں۔ بی جے پی کے نصف درجن کارکن مارے گئے ہیں۔ اب بی جے پی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ ان کی حفاظت کے لئے ہر ضلع میں محفوظ عمارات تعمیر کی جائے ۔20 ہزار فوج نکالنے کے اعلان کے بعد بھی کشمیر میں دس لاکھ فوج باقی رہے گی لہذا اس کے جانے یا رہنے سے نہ فوج پر کوئی فرق پڑے گا اور نہ مذاہمت کاروں پر جہاں تک سول آبادی اور سیاست کا تعلق ہے ۔ کشمیریوں کو اب بھارت کے ساتھ رہنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ حریت کی بات نہیں ہند نواز سیاست کار بھی بھارت سے متنفر اور سابقہ غلطیوں پر پچھتاوا ہے۔آسی لئے نیا بخشی غلام محمد پیدا کرنے میں بھارت ابھی تک ناکام ہے۔اور اس نئی چال میں بھی ناکام ہو گا ۔

About BBC RECORD

Check Also

بھارت کو شکست ۔۔ مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں شامل ۔

Share this on WhatsAppتحریر؛ بشیر سدوزئی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 75ویں سالانہ اجلاس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے