اجرتی جنگجوؤں کو لیبیائی پاسپورٹ کی فراہمی ، ترکی اور قطر کا وفاق حکومت کے ساتھ سمجھوتا

لیبیا میں وفاق حکومت ، ترکی اور قطر کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ شام، صومالیہ اور تونس سے تعلق رکھنے والے اجرتی جنگجوؤں کو لیبیا کے پاسپورٹ پیش کیے جائیں گے۔ یہ بات وفاق حکومت کے ذرائع نے نیوز چینلوں کو بتائی۔اسی طرح تینوں فریق اس بات پر بھی متفق ہیں کہ مذکورہ اجرتی جنگجوؤں کو الوطیہ فوجی اڈے اور طرابلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے میں وفاق حکومت کی فورسز میں ضم کیا جائے۔ یہ عمل ترکی کے زیر نگرانی اور زیر تربیت ہو گا اور اس مقصد کے لیے قطر کی مالی سپورٹ حاصل ہو گی۔

ان اجرتی جنگجوؤں کو محدود ذمے داریاں سونپی جائیں گی۔ ان میں وفاق حکومت کے زیر انتظام سرکاری صدر دفاتر کی حفاظت شامل ہے تا کہ وفاق حکومت کو لیبیا کی مقامی ملیشیاؤں کے ہاتھوں بلیک میلنگ کا نشانہ نہ بننا پڑے۔اس سے قبل پیر کی شب ذرائع نے نیوز چینلوں کو بتایا تھا کہ ترکی اور قطر نے وفاق حکومت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت لیبیا کے شہر مصراتہ کی بندرگاہ کو بحیرہ روم میں ترکی کا ایک فوجی اڈہ بنایا جائے گا۔ اس طرح انقرہ حکومت کے پاس موقع ہو گا کہ وہ علاقے میں بڑے اور طاقت ور بحری ساز و سامان کی تعیناتی عمل میں لا سکے۔ یہ اقدام لیبیا میں ترکی کے توسیعی منصوبے جاری رکھنے اور شمالی افریقا اور بحیرہ روم کے جنوب میں ترکی کے عسکری اور تجارتی وجود کو مضبوط بنانے کا حصہ ہے۔

سمجھوتے کی رُو سے مصراتہ میں سہ فریقی عسکری رابطہ کاری مرکز قائم کیا جائے گا اور قطر لیبیا کی وفاق حکومت کے جنگجوؤں کی تربیت کے مراکز اور ہیڈ کوارٹرز کی فنڈنگ کرے گا۔یہ پیش رفت قطر کے وزیر دفاع خالد العطیہ اور ان کے ترک ہم منصب حلوصی آقار کے پیر کے روز لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے دورے کے دوران سامنے آئی۔ اس دوران دونوں وزراء نے وفاق حکومت کے ذمے داران سے ملاقات کی۔

About BBC RECORD

Check Also

صائمہ محسن : امریکا کی تاریخ میں اٹارنی کا منصب سنبھالنے والی پہلی مسلم شخصیت

Share this on WhatsAppامریکا میں پاکستانی نژاد خاتون ‘صائمہ محسن’ آئندہ ماہ مشی گن ریاست ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے