قطر حزب اللہ کے لیے فنڈنگ کا مرکزی کردار ہے : فوكس نيوز

امریکی چینل "فوكس نيوز” نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دہشت گرد لبنانی تنظیم حزب اللہ کو ہتھیار فراہم کرنے کے لیے فنڈنگ دوحہ کی جانب سے کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس امر نے قطر میں امریکی افواج کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ قطر میں اس وقت تقریبا 10 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔
قطر میں واقع "العديد” کا فوجی اڈہ امریکی مرکزی کمان کے لیے فرنٹ لائن ہیڈکوارٹر کی حیثیت رکھتا ہے جہاں امریکی فضائیہ کے اہل کار بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

ایک نجی سیکورٹی کنٹریکٹر جیسن جی نے منگل کے روز فوکس نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ دوحہ میں شاہی خاندان کے ایک فرد نے عسکری ساز و سامان حزب اللہ کے حوالے کرنے کی اجازت دی۔جیسن جی کی جانب سے پیش کردہ فائل جس کی فوکس نیوز نے تحقیقات کیں، قطر کے شاہی خاندان کی ایک شخصیت کے کردار پر روشنی ڈالتی ہے جو اس شخصیت نے 2017ء سے متعدد دہشت گرد فریقوں کی فنڈنگ کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں ادا کیا۔حزب اللہ وہ ملیشیا ہے جو ایرانی پاسداران انقلاب نے 1982ء میں لبنان میں بنائی۔ یہ ملیشیا ابھی تک ایرانیوں کی جانب سے فنڈنگ اور سپورٹ پر انحصار کرتی ہے۔ فوکس نیوز کے مطابق حزب اللہ ملیشیا عراق اور لبنان مین سیکڑوں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی ذمے دار ہے۔

فوکس نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیلجیم میں قطر کے سفیر عبدالرحمن بن محمد سليمان الخليفی نے اس معاملے پر پردہ ڈالنے کے لیے جیسن جی کو 7.5 لاکھ یورو ادا کرنے کی کوشش کی۔ دوسری جانب جیسن کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد "شدت پسندوں کے لیے قطر کی جانب سے فنڈنگ کا راستہ روکنا ہے”۔ واضح رہے کہ جیسن جی خود کو قطر کی انتقامی کارروائی سے بچانے کے لیے فرضی نام کا استعمال کرتے ہیں۔یاد رہے کہ 2017ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ قطر نہایت بلند سطح پر دہشت گردی کی فنڈنگ میں ملوث ہے۔ اس کے ایک برس بعد ٹرمپ اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے۔ نیویارک ٹائمز اخبار کے مطابق قطر کے حوالے سے امریکی پالیسی میں یوٹرن کا واقع ہونا ،،، دوحہ اور پریشر گروپس لابی کی بھرپور کوششوں کا نتیجہ ہے۔

فوکس نیوز کے مطابق دنیا کی ایک بدنام ترین دہشت گرد ملیشیا کے لیے قطر کی فنڈنگ کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی معلومات نے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں امریکا کے ساتھ قطر کی شراکت داری کے حوالے سے شکوک پیدا کر دیے ہیں۔فوکس نیوز کے ساتھ انٹرویوز میں یورپ کے نمایاں سیاست دانوں نے زور دیا ہے کہ دہشت گردی بالخصوص حزب اللہ کے لیے قطر کی فنڈنگ کے خلاف ایک تیز اور مؤثر مہم چلائی جائے۔

فرانس کی سینیٹ کی خاتون رکن نتالی جولی کا کہنا ہے کہ "قطر کے حوالے سے ہمارے سامنے یورپی پالیسی ہونا چاہیے اور ہمیں دہشت گردی کے لیے دوحہ کی فنڈنگ کے حوالے سے خبردار رہنا چاہیے۔ بیلجیم (برسلز) پر لازم ہے کہ وہ یورپی یونین سے قطر کے تمام تر بینک کھاتوں کی تحقیق اور ان کو منجمد کرنے کا مطالبہ کرے۔ جولی کے مطابق "ہمیں دہشت گردی کے لیے کسی بھی قسم کی فنڈنگ روکنے کے لیے ایک دانش مندانہ پالیسی اپنانا ہو گی۔ بالخصوص قطر اور ترکی جیسے ممالک کی جانب سے جو الاخوان المسلمین تنظیم اور اس کے خطرناک نظریے کو سپورٹ کرتے ہیں”۔

دوسری جانب دہشت گردی کی فنڈنگ سے متعلق معاملے کا جائزہ لینے کے ذمے دار برطانوی رکن پارلیمنٹ ایان پائیسلے جونیئر نے فوکس نیوز سے بات چیت میں کہا کہ "قطر کا رویہ نہایت شرم ناک ہے۔ برطانیہ اور بیلجیم میں حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں سخت اقدامات کریں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ "(دہشت گردی کے لیے قطر کی فنڈنگ سے متعلق) یہ الزامات انتہائی خطر ناک ہیں بالخصوص جب کہ بیلجیم میں قطر کا سفیر نیٹو اتحاد میں دوحہ کا سفیر ہے۔ اس معاملے کی تحقیق کے بعد مناسب اقدامات کیے جانے چاہئیں … حزب اللہ برطانیہ میں کالعدم ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اس کے ساتھ معاملات سے درگزر نہیں کیا جا سکتا”۔

ادھر انسانی حقوق سے متعلق ایک امریکی تنظیم کے رکن ڈاکٹر افرائم زوروف کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے دہشت گردوں کے لیے فنڈنگ میں قطر کا کردار ،،، اس میں ملوث افراد کے خلاف فوری اقدامات کرنے اور بیلجیم میں قطر کے سفیر کو فوری طور پر بے دخل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق قطر کی دو چیریٹی انجمنوں نے "غذا اور دوا کے نام پر” حزب اللہ کو نقد رقوم فراہم کیں۔ ان دو انجمنوں کا نام "جمعية الشيخ عيد بن محمد آل ثاني الخيرية” اور "مؤسسة التعليم فوق الجميع” ہے۔

نجی سیکورٹی کنٹریکٹر جیسن جی نے جو کئی انٹیلی جنس اداروں کے لیے کام کر چکا ہے ، اس نے فوکس نیوز کو بتایا کہ جرمن انٹیلی جنس کے سینئر ذمے داران کے نزدیک جیسن کی پیش کردہ فائل "مصدقہ” ہے۔قطر میں مالی اور خیراتی تنظیمیں دہشت گردی کی فنڈنگ کے دیگر منصوبوں میں ملوث رہ چکی ہیں۔ امریکی اخبار "واشنگٹن فری بیکن” نے رواں سال جون میں بتایا تھا کہ نیویارک شہر میں دائر کیے گئے ایک عدالتی مقدمے میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ قطری اداروں نے جن میں "مؤسسة قطر الخيرية” اور "بنك قطر الوطني” شامل ہیں ،،، دہشت گرد تنظیموں کو مالی رقوم فراہم کی ہیں۔اس سے قبل 2014ء میں جرمنی کے وزیر بہبود جیرڈ مولر نے قطر پر دہشت گرد تنظیم داعش کی فنڈنگ کا الزام عائد کیا تھا۔

About BBC RECORD

Check Also

بھارت میں ڈاکٹر کورونا مریضوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے لگا

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ نئی دہلی خبر رساں ادارے کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے