افغانستان کے بعد، لداخ عالمی قوتوں کا میدان جنگ بنے گا؟۔۔

تحریر: بشیر سدوزئی

ساڑھے آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر سلسلہ کو ہمالیہ کے دامن میں واقع پہاڑی علاقوں لداخ میں گزشتہ چند ماہ سے جاری سرد گرم جنگ کے باوجود چین اور بھارت ایسے خاموش ہیں جیسے کچھ ہو ہی نہیں رہا ۔ چین کی خاموشی تو معاینہ خیز ہے مگر تعجب ہے بھارت اتنی مار کھانے کے بعد بول بھی نہیں رہا۔ نہ ہی مودی اور اس کا کوئی کارندہ چین میں سرجیکل اسٹریک کی بھڑکیں مار رہا ہے۔ یہ مودی کی برداشت کی انتہاء ہے کہ قطار در قطار اپنے فوجیوں کی آلائشیں تو اٹھا رہا ہے مگر اس پر کوئی مناسب ردعمل سامنے نہیں آیا ۔ چند سال پہلے تک مودی اچل اچل کر ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں سے بغلگیر ہوتا تھا ۔آج گم نام ہے جیسے جسٹن ٹروڈو چھٹیاں گزارنے ہندوستان آیا ہو۔ اب تو بات سوشل میڈیا سے نکل کر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک پہنچ گئی کہ بھارت کے کرنل سمیت 20 فوجی ہلاک ہوئے مگر گولی ایک بھی نہیں چلی۔لگتا ہے چینیوں نے فائر کئے بغیر شکار کرنے کے لیے اسلحہ ٹیکنالوجی میں نئی ایجاد نکال لی ہے۔ سوشل میڈیا کے ایکٹیوسٹ نئی نئی خبریں لاتے ہیں اگر اس کی تردید نہیں ہو گی تو لوگ سچ ہی مانیں گے۔ تازہ ترین خبر یہ تھی کہ چین نے اپنی مستقل آرمی کو پچھلے مورچوں پر روک رکھا ہے جب کہ آکروبیٹک فن کاروں کو اگلے مورچوں پر منتقل کر دیا جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔ جو فوج جوڈو کراٹے سے ہلاک ہوتی ہو اس پر مستقل فوج کی قوت کون اور کیوں استعمال کرے ۔ چین کے آکروبیٹک فن کار آگئے بڑتے ہیں بھارتی فوج پیچھیں ہٹتی جاتی ہے دولت بیگ کی وادی بعقول نہرو ” وہاں کوئی رہتا نہیں وہاں گھاس نہیں اگھتی” اپنی کل دولت کے ساتھ چائنہ آکروبیٹک کے قبضے میں ہے ۔۔ تردید آنے تک اسی خبر کو سچ مانا جائے گا ۔چین اور بھارت کے درمیان لداخ میں کشیدگی ہو یا جنگ تباہی بھارت کے لئے ہی ہے۔ مودی خاموش اور ٹرمپ کہہ رہا ہے کہ مودی کا موڑ ٹھیک نہیں، ظاہر ہے جعلی چوہدری کو کوئی خاندانی چوہدری سرعام جوتے مارے تو اس کا موڑ تو خراب ہی ہو گا۔ مگر موڑ سے کیا لینا دینا، جوتے تو پھر بھی کھانے پڑیں گے ۔۔ سچ پوچھیں تو گائے کے گوبر سے جوتے کون سے زیادہ خراب ہیں ۔ جو قوم گائے کا گوبر کھانا اور پیشاب پینا تبرک سمجھتی ہو جوتے کھانا کیوں کر غیر مہذب ہو گا۔ اطلاع یہ بھی ہے کہ مودی ٹرمپ کو مدد کے لئے پکار رہا ہے کہ آپ ہی نے تو کہا تھا کہ پڑوسیوں کے ساتھ پنگا لو ۔

اب آو مل کر چین کو مارتے ہیں ۔ مگر ٹرمپ صاحب خود سیاست کی مشکلات میں ہیں اور امریکیوں کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے سے ذیادہ نومبر انتخابی دنگل کے بارے میں فکر مند ہیں جہاں اس کو کالی نسل کے اعلی امریکی بارک حسین اوباما سے واسطہ پڑنے والا ہے ۔ امریکا کے پہلے کالے اور سابق امریکی صدر اوباما اس انتخابی مہم میں ٹرمپ کے مخالف امیدوار جو بائیڈن کی انتخابی مہم کے انچارج ہیں ۔ انہوں نے ایک ہی دن میں انتخابی مہم کے لئے ڈیڑھ کروڑ ڈالر جمع کیا ۔اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم مسائل کا شکار ہے جبکہ ان کا موجودہ دورِ صدارت بھی ایک کے بعد ایک بحران کا پھنسا نظر آ رہا ہے۔ ایسے حالات میں جب صدر ٹرمپ خود مشکلات میں ہواور چائنا سے مدد کی درخواست کر رہا ہو، مودی پر کیوں کر بازی لگائے گا ۔ اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر مسئلہ ہے ۔ چین اور انڈیا کا کیا مسئلہ ہے ۔۔چین اور انڈیا کے مابین اس کشیدگی کی کئی وجوہات ہیں لیکن "ون بلٹ ون روڑ” کشمیر سے بھی بڑی وجہ ہے۔ کشمیر کے بارے میں پاکستان کو خود معلوم ہے کہ یہ اس کو نہیں ملتا۔ چین اس منصوبے کے ذریعے پوری دنیا کی منڈی کو چھوڑے گا تو ایک ارب چالیس کروڑ کی اس مخلوق کو کیا کھیلائے گا جو اب پرتائش زندگی میں داخل ہو چکی۔ اس منصوبے کے ذریعے چین دنیا میں سرمایہ کاری کو بڑھاوا دے رہا ہے ۔ ایشیا اور یورپ میں سڑکوں اور بندرگاہوں کا جال بچھانا چاہتا ہے تاکہ سامان کو عالمی منڈیوں تک پہنچایا جا سکے۔ اس منصوبے میں اتنی کشش ہے کہ پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک چین کے ساتھ آئے ہیں ان میں بھارت کے پڑوسی بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان وغیرہ بھی شامل ہیں ۔ چین نے انڈیا کو بھی شامل کرنے کی بہت کوشش کی جو ناکام رہی۔ اس پر امن سفارتی کوشش کے جواب میں بھارت نے لداخ میں چین کو للکارا۔ انڈیا لداخ میں جو سڑک تعمیر کر رہا ہے وہ لائن آف ایکچول کنٹرول پر براہ راست چین کو متاثر کرتی ہے اور "ون روڑ ون بلٹ” منصوبہ کے لیے چیلنج کے لئے تعمیر کی ہے چین یہ کبھی برداشت ہی نہیں کرے گا کہ بھارت ہمالیہ کی اونچائی پر پہنچ جائے جہاں سے متنازعہ کشمیر کے حصے گلگت سے سی پیک کے لئے گزرتی شاہ راہ ریشم کو متاثرہ کرے ۔ باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی محاذ آرائی کے پیچھے امریکا اور اسرائیل ہے۔ اسرائیل کا وزیراعظم جب ایک ہفتہ نئی دہلی میں بیٹھا رہا تو یہی منصوبہ بندی ہو رہی تھی ۔ لیکن موجودہ صورت حال میں امریکا اور اسرائیل پیچھے ہٹ گئے ہیں

اسی لئے ٹرمپ کے ساتھ مودی کا موڑ خراب ہے۔۔ اگر امریکا اس موقع پر اپنی فوجیں بھارت کی مدد کو بھیجتا ہے تو لداخ افغانستان کے بعد امریکا کے لئے دوسرا محاذ جنگ ہو گا ۔ امریکا سوچ رہا ہے 20 سال ہو گئے افغانیوں سے جان نہیں چھوٹ رہی لداخ میں پھنس گئے تو چینیوں سے جان چھڑانے میں کتنا عرصہ لگے گا۔ کرونا وائرس میں گرتی معیشت امریکی انتظامیہ کو اجازت دے گی کہ چین کے ساتھ پنجہ آزمائی کرے۔ ایسا نہ ہو کہ دنیا سابق سویت یونین کی طرح یونائیٹڈ اسٹیٹ کا بھی وہی حشر دیکھے جہاں اسٹیٹ نکل جائیں صرف یونین باقی رہے۔۔ جہاں ٹرمپ اور مودی جیسے حکمراں آ جائیں وہ اسٹیٹ تو متعدد رہ ہی نہیں سکتی حشر ایسا ہی ہوتا ہے وہ دیر سے ہو یا جلدی ۔ اب آنڈیا چین کے جال میں پھنس چکا۔ آنڈیا کو اب تن تناہ اس مسئلے کو حل کرنا ہو گا جو کشمیر کی سرزمین پر اس سے بھی بڑا مسئلہ بھارت کے گلے میں پڑھ چکا۔” ون بیلٹ ون روڈ ” کے تحت تعمیر ہونے والی سڑکیں اور بندرگاہیں انڈیا کو گھیر رہی ہیں۔ چین نے سری لنکا میں ہمبنٹوٹا بندرگاہ تعمیر کی تھی جس پر اب چین کا مالکانہ حق ہو چکا۔ بھوٹان اور بنگلہ دیش میں بھی "ون بلٹ ون روڑ” منصوبوں میں اضافہ ہوا ہے نیپال بھارت سے دوستی ختم کر کے چین کے منصوبے میں شامل ہو چکا ۔۔ سی پیک کے ذریعے پاکستان میں بھی بڑی تعمیرات ہو رہی ہیں ۔’اس منصوبے کے کچھ حصے آزاد کشمیر میں بھی ہیں انڈیا کو انہی پر اعتراض ہے اور لداخ میں جنگی حکمتِ عملی کی سڑکیں تعمیر کر کے گلگت میں اس کو روکنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس پر چین کے آکروبیٹک نے بھارتی فوج کو سبق سیکھایا اور اب وہ زخمیں چاٹ رہے ہیں ۔ آنڈیا اگر اس جنگ میں پسپا ہوا تو اندرونی خلفشار کا شکار ہو گا جو فاشسٹوں کی وجہ سے پہلے ہی منتشر ہے ۔ پاکستان کو اس وقت خارجہ پالیسی میں مضبوطی لانے کی ضرورت ہے ۔ سنئیر پارلیمنٹرین اور سابق سفارت کاروں کی خدمات حاصل کر کے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا بھر میں اجاگر کیا جائے بھارت پر دباو پڑے گا مگر پاکستان کی حکومت ایسی واضح پالیسی بنانے میں ناکام لگ رہی ہے ۔ 1962 میں بھی چین بھارت جنگ کے دوران پاکستان نے خاموش رہ کر وقت ضائع کیا تھا آج پھر بہترین موقع ملا ہے مگر ابھی تک اس سے فوائد حاصل کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔

About BBC RECORD

Check Also

بھارت کو شکست ۔۔ مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں شامل ۔

Share this on WhatsAppتحریر؛ بشیر سدوزئی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 75ویں سالانہ اجلاس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے