البغدادی کی موت سے کیلا مولر کا انتقام پورا ہو گیا ؟

امریکی افواج نے داعش تنظیم کے سربراہ ابو بکر البغدادی کو ہلاک کرنے کے لیے کیے گئے آپریشن کو "کیلا مولر” کا نام دیا ہے۔ آپریشن کو اُس امریکی خاتون امدادی کارکن کے نام کیا گیا ہے جسے داعش تنظیم نے 2013 میں اغوا کر لیا تھا۔انسانی حقوق اور امداد کے میدان میں سرگرم امریکی خاتون کارکن کیلا مولر 14 اگست 1988 کو امریکا کے ایک قصبے بریسکوٹ میں پیدا ہوئی۔ اسے فروری 2015 میں داعش تنظیم کے ارکان نے قتل کر دیا تھا۔کیلا نے 2012 میں ترکی کے راستے شام کا سفر کیا تا کہ ایک ڈینش تنظیم کے ساتھ مل کر وہاں پناہ گزینوں کے لیے کام کر سکے۔ وہ 3 اگست 2013 کو حلب کے تباہ حال علاقے میں پہنچی۔ یہاں اسے اپنے دوست شامی کیمرہ مین کے ہمراہ مار پیٹ کا نشانہ بننا پڑا۔

بات مار پیٹ تک محدود نہ رہی اور اگلے روز حلب ہسپتال کے باہر اسے داعش کے دہشت گردوں نے اغوا کر لیا۔ وہ 18 ماہ تک یرغمال بنی رہی اور اس دوران داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی نے اسے کئی مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔سال 2015 کے اوائل میں داعش تنظیم نے دعوی کیا کہ کیلا مولر شام کے شہر الرقہ میں تنظیم کے ایک گڑھ پر اردن کے لڑاکا طیاروں کے حملے میں میں ماری گئی۔ یہ کارروائی داعش کے ہاتھوں اردن کے ایک ہواباز معاذ الکساسبہ کو وحشیانہ طریقے سے جلا دینے کے انتقام کے طور پر کی گئی تھی۔ تاہم امریکی ذمے داران کیلا مولر کی موت سے متعلق داعش کی اس کہانی کو جھٹلا دیا۔کیلا کے اہل خانہ نے اس وقت بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس نے انہیں اگاہ کر دیا تھا کہ اُن کی بیٹی داعش کے سربراہ البغدادی کی ملکیت میں ہے۔

داعش تنظیم کے سربراہ کی ہلاکت کی خبر ملنے کے فوری بعد کیلا مولر کے والد نے ٹیلی فون پر امریکی نیوز نیٹ ورک "CNN” کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ "اچھی بات ہے، جب بھی میں نے اپنی بیٹی کے بھیانک انجام کے بارے میں سوچنے کی کوشش کی تو خوف ناک خیالات نے ہمیشہ مجھے آ گھیرا … البتہ یہ چیز گذشتہ ساڑھے چار برس سے ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے”۔کیلا کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی لوگوں کی مدد کرنا پسند کرتی تھی اور میں چاہتی ہوں کہ اسے ہمیشہ "اس نرم دل کے حوالے سے یاد رکھا جائے”۔

امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے یہ باور کرایا گیا تھا کہ اسے کیلا کے بارے میں معلومات دو یزیدی لڑکیوں کے ذریعے حاصل ہوئیں جو کیلا کے ساتھ یرغمال تھیں اور انہیں بھی جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ دونوں لڑکیاں امریکی فوج کی اُس کارروائی کے بعد ملیں جو داعش تنظیم کے وزیر تیل ابو سیاف کے خلاف کیا گیا تھا۔ ابو سیاف داعش کے سربراہ البغدادی کا ایک قریبی معاون بھی تھا۔ امریکی فوج نے ابو سیاف کی ہلاکت کے بعد اس کی بیوی اُم سیاف کو گرفتار کر لیا تھا۔ اُس پر خواتین کے جنسی استحصال میں داعش کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا۔البتہ فرانسیسی اخبار لو فیگارو نےالبغدادی کی کیلا مولر سے شادی کی تصدیق کی تھی۔ اخبار کے مطابق کیلا داعش کے ایک اہم ٹھکانے میں مووجد تھی اور اردن کی فضائی بم باری کے دوران غلطی سے ماری گئی۔

برطانوی اخبار گارڈین نے عراق کی جیل میں پڑی ہوئی ام سیاف کے ساتھ انٹرویو کیا تھا۔ اس میں ام سیاف نے بتایا کہ اُس نے آخری مرتبہ کیلا مولر کا 2014 کے اواخر میں دیکھا تھا جب البغدادی عرق آیا تھا۔ اس کے تین ماہ بعد ام سیاف نے کیلا کی موت سے متعلق اخباری رپورٹ دیکھی۔دوسری جانب واشنگٹن میں تعینات سیرین ایمرجنسی فورس میں پالیسی ڈائریکٹر ایوان پیرٹ کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان بدستور باقی ہے کہ داعشیوں نے اُسے (کیلا مولر کو) خود قتل کیا اور اردن کے حملوں کے جواب میں یہ کہانی پھیلا دی۔

About BBC RECORD

Check Also

عمران خان کا دورہ سری لنکا: مسلمانوں کی میتوں کا جلایا جانا ختم

Share this on WhatsAppسری لنکا نے اپنے ہاں کورونا وائرس کے انتقال کر جانے والے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے