وہائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے ساتھ افطار کرنے والا پہلا مسلمان ؟

تیونس اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات کا آغاز تقریبا 220 برس پہلے ہوا جب انیس ویں صدی کے اواخر میں امریکا نے مراکش، تیونس، الجزائر اور لیبیا کے ساتھ تعلقات پر بھرپور توجہ دی۔ امریکا ایسے سمجھوتوں کے لیے کوشاں تھا جن کے ذریعے بحیرہ روم میں امریکی بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت حاصل ہو سکے اور وہ بربری ساحل کے قزاقوں سے محفوظ رہ سکیں۔

امریکا اور تیونس کے درمیان پہلا سمجھوتا 26 مارچ 1799 کو طے پایا تھا۔ یہ دونوں ممالک کے بیچ دوستی اور تجارتی تبادلے کے سمجھوتے کے طور پر جانا گیا۔ اسی کی مہربانی سے 20 جنوری 1800 کو تیونس میں پہلے امریکی قونصل خانے کا افتتاح ہوا۔

سال 1805 کے دوران امریکی صدر تھامس جیفرسن نے ایک تیونسی سفارت کار کا استقبال کیا جو امریکا اور بربروں کے درمیان پہلی جنگ کے بعد ایک سفارتی مشن پر امریکی سرزمین پہنچا تھا۔ اس دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے بیچ کئی معلق امور کو زیر بحث لانا تھا۔

اس سال دسمبر میں رمضان مبارک کا مہینہ آیا۔ تیونسی سفارت کار سلیمان ملیملی نے اپنے گھر والوں اور دوستوں سے دور ہونے کے سبب واشنگٹن میں منفرد نوعیت کا رمضان گزارا۔ یہ تیونس میں گزارے گئے سابقہ رمضانوں سے یکسر مختلف تھا۔

امریکا کی تاریخ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن نے 9 دسمبر 1805 کو تیونسی سفارت کار سلیمان ملیملی کے اعزاز میں سہ پہر ساڑھے تین بجے ظہرانے کا انتظام کیا۔ تاہم ملیملی نے روزے سے ہونے کے سبب غروب آفتاب کے انتظار میں آنے سے انکار کر دیا۔

صدر تھامس تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے معزز مہمان کے احترام میں ظہرانے کو غروب آفتاب تک مؤخر کر دیا۔ اس طرح سلیمان ملیملی وہ پہلی مسلمان شخصیت ہیں جنہوں نے وہائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے ہمراہ افطار کیا۔ امریکی صدر تھامس جیفرسن کے پاس قرآن کریم کا انگریزی زبان کا ایک نسخہ بھی موجود تھا جو انہوں نے 1765 میں حاصل کیا۔

About BBC RECORD

Check Also

ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کرنے کے خواہشمند ہیں، سعودی وزیرخارجہ

Share this on WhatsAppریاض: سعودی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ عمران خان کادورہ سعودی عرب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے