In this March 31, 2017, photo, President Donald Trump listens during a meeting with the National Association of Manufacturers in the Roosevelt Room of the White House in Washington. Slim majorities of Americans favor independent investigations into Trump’s relationship with the Russian government and possible attempts by Russia to influence last year’s election according to a new poll by The Associated Press-NORC Center for Public Affairs Research. (AP Photo/Evan Vucci)

شام میں بحران کے حل کے لیے امریکا کا ’جامع منصوبہ‘ کیا ہے؟

امریکا میں نئی انتظامیہ کی طرف سے آغاز میں شام کے بحران کے حل کے حوالے سے زیادہ گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا مگر شامی اپوزیشن کی طرف سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت کو اس بات پر قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی کہ شام میں قیام امن کے لیے بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانا ہوگا۔
خان شیخون پر مبینہ کیمیائی حملے سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت نے بھی بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے اپوزیشن کےمطالبے کی حمایت کا اظہار کیا تھا مگر خان شیخون میں قتل عام نے امریکا پر بھی یہ ثابت کردیا کہ بشارالاسد کے ساتھ کوئی امن معاہدہ ممکن نہیں۔ جب تک بشارالاسد اقتدار پرقابض ہیں تب تک شام میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینیر عہدیدا نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سےبات کرتے ہوئے شام کے لیے امریکا کے تفصیلی پلان کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کا موقف خان شیخون پرحملے سے پہلے اور تھا جبکہ اس کے بعد موقف میں تبدیلی آگئی ہے۔ امریکی حکومت وقت کے ساتھ ساتھ شام کے معاملے کے حل کی کوششیں کررہی ہے اور اس کا اصل ہدف ملک میں سیاسی تبدیلی ہے۔
دہشت گردی کا خاتمہ پہلی ترجیح
بی بی سی ریکارڈ کے مطابق شام میں جاری خون خرابے کی روک تھام کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت ایک جامع منصوبہ رکھتے ہیں۔ وہ شام کے بحران کے حل کے لیے روس اور دوسری علاقائی قوتوں کا تعاون بھی چاہتے ہیں، مگر صدر ٹرمپ کی پہلی ترجیح ’داعش‘ اور دہشت گردی کو شکست دینا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا شام میں دہشت گردوں کو کچلنے کے بعد اعتدال پسند شامی اپوزیشن کو مضبوط اور محفوظ بنانے کئ پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نقل مکانی کرنے والے افراد کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو ان کے گھروں کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرنا بھی امریکی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے عہدیدار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا شام میں ’منبج‘ شہر کی طرز کا پلان تیار کررہا ہے۔ جس طرح منبج میں ایک لوکل حکومت قائم ہوئی، اسی طرح دوسرے علاقوں پربھی شامی اپوزیشن کی عمل داری قائم کرنے سے دہشت گردوں کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ شامی فوج کے حملوں کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔ مگر ضروری نہیں کہ پورے شام میں منبج فارمولہ ہی اپنایا جائے۔
اصل مسئلہ شامی عوام کی بحالی اور ان کی مشکلات کم کرنا ہے۔ لبنان، اردن اور ترکی میں ھجرت کرنے والے شامیوں کو واپس ان کے گھروں میں لانا اور انہیں یہ یقین دہانی کرانا کہ شام میں ان کی زندگی کو اب کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔
محفوظ زون کا قیام
شام میں ’داعش‘ کے مرکز الرقہ شہر سے دہشت گردوں کو نکال باہر کرنے کے بعد وہاں سے نکالے گئے شہریوں کو بحال کرنا امریکی ترجیحات کا حصہ ہے۔ جس طرح منبج سے النصرہ اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کا صفایا کرکے مقامی آبادی کو واپس لانے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح الرقہ میں بھی شہریوں کی واپسی اور انہیں ہرممکن تحفظ فراہم کرنےکی تجویز پیش کی جاسکتی ہے۔ اردن اور ترکی بھی شام میں محفوظ زونز کے قیام کے حامی ہیں۔ اس طرح وادی گولان اور درعا میں بھی محفوظ زون قائم کیے جاسکتے ہیں۔
ترکی کی سرحد سے متصل شامی شہروں عین العرب، اعزاز سے الباب تک پورا علاقہ محفوظ زون بنایا جاسکتا ہے مگر ادلب اس وقت بہت بڑا چیلنج ہے، اس شہر میں بڑی تعداد میں دہشت گرد موجود ہیں۔ امریکا اور اس کے اتحاد مل کر ادلب میں دہشت گرد گروپوں کو ختم کریں اور شہر کو شام کی اعتدال پسند اپوزیشن قوتوں کے حوالے کیا جائے۔
اپوزیشن کو منظم کرنے میں مدد
امریکی محکمہ دفاع اور انٹیلی جنس ادارے ماضی میں شامی اپوزیشن کی اعتدال پسند قوتوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ شامی اپوزیشن کو منظم کرنے کے حوالے سے سابق امریکی صدر باراک اوباما نے بھی ایک پلان تیار کیا تھا مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ یہ پلان اس وقت ناکام ہوا جب امریکی فوج کا شام میں اپوزیشن کو بھیجا گیا اسلحہ النصرہ فرنٹ کے ہاتھ لگ گیا۔ اس کے علاوہ امریکی حکومت نے ترکی کے تعاون سے شامی اپوزیشن کو اسلحہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ جنگی تربیت دینے کا بھی پروگرام شروع کیا تھا۔
شامی اپوزیشن کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کا دوسرا ترجیحی منصوبہ اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد ہے۔ امریکا سمجھتا ہے کہ جب تک شام کی اعتدال پسند قوتوں کو ایک جھنڈے تلے جمع نہیں کیا جاتا اس وقت وہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کرسکتیں۔
اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد اور یکساں موقف اپنانے میں مدد کے لیے امریکی حکومت کے عہدیدار اور کانگریس کےارکان حزب اختلاف کے دھڑوں سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ چند روز قبل شامی اپوزیشن رہ نما ریاض حجاب نے امریکا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے وائیٹ ہاؤس میں امریکی حکام کے ساتھ شام کے بحران کے حل کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی تھی۔
ماسکو کے ساتھ ہم آہنگی
خان شیخون واقعے کے بعد امریکا روس کو بھی شام کے بارے میں اپنے موقف پرقائل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
خان شیخون میں کیمیائی حملوں کے معاملے میں خود روس کو بھی پیچیدہ صورت حال سے دوچار کردیا ہے۔ اگرچہ ماسکو اس وقت بھی کھلم کھلا صدر بشارالاسد کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے مگر واشنگٹن کی کوشش ہے کہ روس کے ساتھ مل کر شام کے بحران کے حل کا کوئی راستہ نکالا جائے۔ بالخصوص روس کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے حلیف بشارالاسد کو عوام پر کیمیائی حملوں سے باز رکھیں نیز کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی میں مدد کریں۔
امریکا کی پوری کوشش ہے کہ پیش آئند چند ماہ کے دوران روس کے ساتھ مل کر شام کے حوالے سے کوئی متفقہ موقف اپنایا جائے۔ امریکا تسلیم کرتا ہے کہ شام میں ایرانی مداخلت اور اسد رجیم کی دوسری وفادار ملیشیاؤں کو نکالنے کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کیا جاسکتا ہے۔ جن علاقوں پر ایرانی فوج یا ملیشیاؤں کا قبضہ ہے وہاں پر روسی فوج یا کسی دوسری قوت کو لایا جائے اور ایران اور اس کے حواریوں کو وہاں سے بے دخل کیا جائے۔
جنیوا مذاکرات کی طرف واپسی
شام کے بحران کے حل کے لیے امریکا کی دیگر تجاویز میں ایک اہم تجویز جنیوا مذاکرات کی بحالی بھی ہے۔
امریکا مختلف طریقوں سے شامی صدر بشارالاسد کو جنگی جرائم میں ملوث کرکے اقتدار سے ہٹانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ بشارالاسد کے ساتھ صربیا کے صدر سلوبودان میلزفیٹچ کا فارمولہ اپنا جاسکتا ہے۔ اسے بھی اقتدار سے ہٹانے کے لئے جنگی جرائم کا مجرم قرار دینے کی مہم چلائی گئی تھی۔
جنیوا مذاکرات شام کے بحران کے حل کے لیے ایک بہترین فورم ہے۔ امریکا اور روس دونوں اس سےاتفاق کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا بار بار جنیوا مذاکرات کی بحالی کی تجویز پیش کرتا ہے۔ امریکا کا موقف ہےکہ ایک طرف شامی قوتیں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی شامی حکومت سے بات چیت کریں اور دوسری طرف طاقت کا استعمال کرکے بشارالاسد کو مذاکرات پرمجبور کیا جائے۔ مگر یہ سب کچھ الرقہ سے داعش کو نکال باہر کرنے کےبعد ہی ممکن ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

کانگو میں اقوام متحدہ کے قافلے پر حملے میں اطالوی سفیر ہلاک

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ کنشاسا افریقی ملک کانگو میں اقوام ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے