پاسداران انقلاب کا شام ، عراق اور یمن میں مسلسل فوج بھیجنے کا اعتراف

ایرانی پاسداران انقلاب کی زمینی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد پاک پور نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے ” مزاحمت کے محور” ممالک کو زمینی افواج بھیجے جانے کا سلسلہ جاری ہے جس کے اہل کاروں کو "مشیران” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ وہ نام ہے جو ایران خطے کے ممالک بالخصوص شام ، عراق ، لبنان اور یمن میں اپنی حمایت یافتہ تنظیموں ، ملیشیاؤں اور جماعتوں کو دیتا ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسی "فارس” کے مطابق پاک پور کا کہنا ہے کہ ” ہمارے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں۔ ان میں بعض ممالک ہم سے مشاورتی سپورٹ طلب کرتے ہیں۔ یہ سپورٹ پہلے بھی موجود تھی اور اب بھی جاری ہے”۔ پاک پور کے مطابق پاسداران انقلاب کی بری افواج اپنے اہل کاروں کو مزاحمتی محور کے ممالک بھیجتی ہے جس کا مقصد وہاں زمینی معرکوں میں سپورٹ پیش کرنا ہے۔
ملیشیاؤں کا قیام
یاد رہے کہ ایران نے خطے کے ممالک میں عسکری مداخلت کے علاوہ اپنی سرزمین پر بیرونی ملیشیاؤں کی تربیت کے لیے 14 عسکری کیمپ بھی قائم کیے ہیں۔ ان کو ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرونی کارروائیوں کا ونگ "قدس فورس” چلا رہی ہے۔
ایرانی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی قومی مزاحمتی کونسل نے 14 فروری کو ملک میں پاسداران انقلاب کے زیر انتظام بیرونی ملیشیاؤں کے تربیتی مراکز کا انکشاف کیا تھا۔ ایران کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ان مراکز میں شام ، یمن ، لبنان ، عراق اور افغانستان کی فرقہ ورانہ ملیشیاؤں کے ارکان کو تربیت دی جاتی ہے۔
ایرانی قومی مزاحمتی کونسل کی بانی تنظیم "مجاہدین خلق” کو ایران میں اپنے ذرائع سے عسکری کیمپوں اور تربیتی اڈوں کے بارے میں تفصیلات حاصل ہوئی ہیں۔ ان میں سر فہرست تہران سے 20 کلومیٹر کی دوری پر قدس فورس کے ڈائریکٹریٹ میں واقع ” امام علی بیرک” ہے۔
قدس فورس کے بعض یونٹوں کو علاحدہ اور خفیہ طور پر دہشت گرد کارروائیوں کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے بعد انہیں شمالی خلیجی ممالک یا ایشیا ، افریقہ اور جنوبی امریکا کے ممالک میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کی تربیت حاصل کرنے والے افراد کو امام علی بیرک کے اندر خصوصی رہائشی یونٹ میں رکھا جاتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران قدس فورس نے وینزویلا ، یوراگوائے ، پیراگوائے اور بولیویا سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو ان تربیتی کورسوں کے سلسلے میں امام علی بیرک میں داخل کیا۔ ان افراد کی حاضری کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا۔
شیعہ لبریشن آرمی
ایرانی پاسداران انقلاب اور شام میں ایرانی فورسز کے ایک کمانڈر جنرل محمد علی فلکی نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک نے "قدس فورس” کے سربراہ قاسم سلیمانی کے زیر قیادت "شیعہ لبریشن آرمی” تشکیل دی ہے۔ اس وقت یہ آرمی تین محاذوں یعنی عراق ، شام اور یمن میں لڑ رہی ہے۔
پاسداران انقلاب کے قریب شمار کی جانے والی نیوز ایجنسی "مشرق” کے ساتھ گفتگو میں جنرل فلکی نے واضح کیا کہ ” اس آرمی کی فورسز ایرانیوں پر مشتمل نہیں ہے بلکہ جس علاقے میں بھی لڑائی جاری ہے وہاں اس علاقے کے لوگوں پر مشتمل یہ آرمی تیار اور منظم کی جاتی ہے”۔

About BBC RECORD

Check Also

ننگرہار میں مسلح افراد کی مسجد میں فائرنگ سے 8 افراد ہلاک

Share this on WhatsAppننگرہار: افغان صوبے ننگرہار میں مسلح افراد نے مسجد میں فائرنگ کرکے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے