ایشیائی بینک کی جانب سے تین سو ملین ڈالر قرض کی معطلی کی تحقیقات کی جائیں

اسلام آباد اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبہ میں اصلاحات لانے میں حکومت کی عدم دلچسپی کے سبب ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو دیا جانے والا تین سو ملین ڈالر کا قرضہ معطل کر دیا ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ میں آ جائینگے جو اس وقت 18.36 ارب ڈالر کی سطح تک گر گئے ہیں۔اسکی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کا قرضہ زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کیلئے استعمال ہونا تھا ۔تین سو ملین ڈالر کا یہ قرضہ 1.6 ارب ڈالر کے قرضے کا حصہ ہے جس کی دو قسطیں وصول کی جا چکی ہیں مگر تیسری قسط کی ادائیگی روک دی گئی ہے جس کی ذمہ داری وزارت خزانہ، وزارت پانی و بجلی، وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل، پرائیویٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ اور نیپرا کی بیوروکریسی پر عائد ہوتی ہے۔ شاہد رشید بٹ نے کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے توانائی کے شعبہ کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے پاکستان کو دو ارب ڈالر کے قرضے دئیے ہیں مگر اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا ہے اور جون 2016 تک گردشی قرضہ 662 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دو روز قبل عالمی بینک نے بھی گیس انفراسٹرکچر میں بہتری کیلئے سوئی سدرن گیس کمپنی کو دیا جانے والے ایک سو ملین ڈالر کا قرضہ متعلقہ حکام کی عدم دلچسپی کے سبب منسوخ کر دیا تھا جس کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی ضروری ہے۔ اس قرضہ سے کراچی، اندرون سندھ اور بلوچستان میں گیس انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا اور چوری میں کمی لانا تھا تاکہ عوام کو گیس کی بہتر سپلائی مل سکے۔ عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی منسوخی سے ارباب اختیار کی عدم دلچسپی واضع ہوتی ہے جو ملکی مفاد کے خلاف ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

شہباز شریف کو 3 گھنٹے پہلے بتایا گیا سفر نہیں کرسکتے

Share this on WhatsAppشبیر خان سدوزئی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ لاہور اپوزیشن لیڈر ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے