11 خواتین کیساتھ جنسی ہراسانی پر نیویارک کے گورنر سے استعفے کا مطالبہ

نیویارک سٹی: امریکی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو پر 11 خواتین کو ہراساں کرنے کا الزام درست ثابت ہوگیا جس کے بعد صدر جوبائیڈن نے انھیں مستعفی ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق نیویارک کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ 5 ماہ کی آزادانہ تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ گورنر اینڈریو کومو کے رویے سے ان کا دفتر خواتین ملازمین کے لیے زہریلی جگہ بن گیا ہے جہاں 11 خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔

اٹارنی جنرل کی جانب سے پیش کی گی 168 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گورنر اینڈریو کومو نے وفاقی اور ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کی اور خواتین کے لیے ماحول ناقابل برداشت بنا دیا تھا۔خیال رہے کہ اینڈریو کومو کے خلاف یہ تحقیقات سول نوعیت کی تھی جس کی وجہ سے اس تحقیقات کے نتائج سے گورنر پر براہ راست مجرمانہ الزامات کا باعث نہیں بن پائے گی تاہم ان کی سیاسی اور سماجی حیثیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

ادھر امریکی صدر جوبائیڈن نے میڈیا سے گفتگو میں انویسٹی گیشن رپورٹ منظر عام آنے پر گورنر اینڈریو کومو کو عہدے سے مستعفی ہونے کا مشورہ دیا ہے جب کہ سینیٹ میجارٹی لیڈر چک شومر سمیت کئی اراکین پارلیمنٹ بھی استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔دوسری جانب گورنر نیویارک اینڈریو کومو نے تحقیقاتی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مستعفی ہونے سے انکار کردیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ انویسٹی گیشن رپورٹ حقائق کے برخلاف ہے میں نے کبھی کسی کو غیر مناسب انداز میں نہیں چھوا۔

About BBC RECORD

Check Also

جسٹن ٹروڈو تیسری بار کینیڈا کے وزیراعظم بن گئے

Share this on WhatsAppاوٹاوا: کینیڈا کی حکمراں جماعت لبرل پارٹی نے انتخابی معرکہ جیت لیا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے