لڑکی لڑکا برہنہ تشدد کیس؛ 14 ملزمان نے ڈھائی گھنٹے تک ویڈیو بنائی، سرکاری وکیل

اسلام آباد کے علاقے ای الیون میں لڑکی لڑکے کو برہنہ کرکے تشدد کرنے سے متعلق کیس میں بڑی پیش رفت ہوگئی۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے ای الیون کے علاقے میں لڑکی لڑکے کو برہنہ کرکے تشدد کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ پولیس نے مرکزی ملزم عثمان مرزا اور دیگر عطا الرحمان،فرحان اور ادارس قیوم بٹ کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا۔کیس میں بڑی پیش رفت یہ ہوئی کہ متاثرہ لڑکے اسد اور لڑکی نے کیس کی باقاعدہ پیروی کا آغاز کردیا۔ متاثرہ لڑکے اور لڑکی کی جانب سے وکیل حسن جاوید شورش کیس کی پیروی کے لیے عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ لڑکا اور لڑکی سیکورٹی ایشوز کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکے، جتنا بہیمانہ یہ واقعہ ہوا ہے پولیس کو زیادہ سے زیادہ وقت دینا چاہیے، یہ مفاد عامہ کا کیس ہے عوام میں ڈر ہے اس واقعے کے بعد کہیں ٹہریں گے تو کچھ بھی ہو سکتاہے، یہ ہمارا امتحان ہے متاثرین کے ساتھ ظلم ہوا اس لیے جسمانی ریمانڈ مزید دیا جائے۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ متاثرہ لڑکا لڑکی کے 164 کے بیانات کرادیے ہیں، لڑکے سے چھ ہزار اسی وقت لے گئے ، گیارہ لاکھ پچیس ہزار یہ بھتہ لیتے رہے ہیں مختلف اوقات میں، متاثرہ لڑکے اور لڑکی کے بیان میں مزید ملزمان کا نام سامنے آیا ہے، 14 یا 15 ملزمان تھے اڑھائی گھنٹے کی ویڈیو انہوں نے بنائی تھی، تین لوگوں نے الگ الگ ویڈیوز بنائی ہیں ، یہ ننگے کر کے ان متاثرین کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں ، اس کیس میں جے آئی ٹی بھی بن چکی ہے اور ہم نے مزید دفعات بھی لگائی ہیں، ایس ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں ایس آئی ٹی بنی ہے، پسٹل ریکور کرنے کا تھانہ آئی نائن الگ سے پرچہ درج ہو چکا ہے، جس ملزم نے گیارہ لاکھ پچیس ہزار روپے لیے اس کو ابھی گرفتار کرنا ہے، موبائل برآمد کرنے ہیں تین موبائلز سے ویڈیو بنی ہے۔

عثمان مرزا کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کس بندے نے اس ویڈیو کو وائرل کیا ،وہ بھی پتہ کرائیں ، شیخ قیوم کی بیوی نے یہ ویڈیو وائرل کی جس کا دو کروڑ کا چیک باؤنس ہوا، یہ لوگ کس اسٹیٹس میں ہمارے فلیٹ پر آئے یہ بھی پتہ لگائیں، نام نہاد جوڑا کیا تھا ؟ اس کا بھی پتہ لگانا ضروری ہے۔پولیس نے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی۔ عدالت نے ملزم عثمان مرزا سمیت چار ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا منظور کرلی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ وقار گوندل نے چاروں ملزمان کو مزید چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔واضح رہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ وقار گوندل مقدمے میں دو شریک ملزمان کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوا چکے ہیں۔ متاثرہ لڑکی اور لڑکے کے بیان کی روشنی میں مقدمے میں بھتہ مانگنے،پیسے چھیننے اورزیادتی کی مختلف دفعات بھی شامل کی گئیں ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

‘شادی کے بعد عورت کی مرضی ہے خاوند کا نام لکھوائے یا والد کا’

Share this on WhatsAppلاہور؛ چیئرمین نادرا طارق ملک نے کہا ہے کہ نادرا کی پالیسی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے