پاکستانی وزیراعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوں گے یا کامیاب؟ فیصلہ آج ہوگا

ڈاکٹر ذولفقار کاظمی

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد

قومی اسمبلی کا اہم ترین اجلاس آج ہوگا جس میں وزیراعظم کے لیے اعتماد کے ووٹ کا فیصلہ ہوگا، وزیراعظم اگر ناکام ہوگئے تو اسپیکر صدر مملکت کو خط لکھیں گے کہ وزیراعظم ایوان کا اعتماد کھو بیٹھے اور نئے وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے۔ سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی جنرل نشست پر حکومت کی شکست کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 91 کی شق 7 کے تحت قومی اسمبلی اجلاس آج طلب کیا ہے۔

اجلاس کے لیے ایجنڈا مرتب کرلیا گیا ہے جس میں دو نکاتی ایجنڈا کے تحت کارروائی ہوگی۔ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت 12 بج کر 15 منٹ پر شروع ہوگا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد وزیر خارجہ وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کی قرارداد پیش کریں گے۔وزیراعظم آئین کے آرٹیکل 91 کی ذیلی شق 7 کے تحت ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے۔ ووٹنگ کے لیے ایوان کی ڈویژن کی جائے گی اور ڈویژن سے قبل ایوان میں 5 منٹس کے لیے گھنٹیاں بجائی جائیں گی۔

تمام ارکان کے ایوان میں آنے کے بعد قومی اسمبلی ہال کی تمام لابیاں مقفل کردی جائیں گی۔ وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے والے اسپیکر قومی اسمبلی کی دائیں جانب لابی میں ڈویژن نمبر کے ساتھ جائیں گے۔ عدم اعتماد والے ارکان اسپیکر کی بائیں جانب والی لابی میں ڈویژن نمبر کے ساتھ جائیں گے۔ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بھی 5 منٹ تک گھنٹیاں بجیں گی۔ بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی گنتی کے بعد نتیجے کا اعلان کریں گے۔ نتیجے کے اعلان کے ساتھ ہی صدر مملکت کو تحریری طور پر نتیجہ ارسال کیا جائے گا اور اجلاس برخاست کردیا جائے گا۔

وزیراعظم کے لیے 172 ووٹ لازمی

وزیراعظم عمران خان کو ایوان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے 172 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی، اگر وزیراعظم مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے تو ایسی صورت میں اسپیکر قومی اسمبلی رولز 38 کے تحت صدر مملکت کو لکھیں گے کہ وزیراعظم ایوان کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں جس کے بعد صدر وزیراعظم کے دوبارہ انتخاب کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو کہیں گے جس کے بعد قومی اسمبلی نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی۔

تحریک انصاف کی حکمت عملی تیار

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے پی ٹی آئی نے حکمت عملی تیار کرلی۔ ارکان کو اجلاس کے وقت سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کی ہدایت کردی گئی۔ پی ٹی آئی اور اتحادی ارکان لابی میں جمع ہوں گے۔ تمام ارکان کو قومی اسمبلی کارڈ لازمی ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے، شیخ رشید

Share this on WhatsAppڈاکٹر ذولفقار کاظمی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد وفاقی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے