سرکاری نیوز ایجنسی میں سنیارٹی سے ہٹ کرترقیوں کے کیس کی سماعت

نسیم غنی

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد

ہائیکورٹ میں سرکاری نیوز ایجنسی میں میرٹ و حقیقی سنیارٹی سے ہٹ کرترقیوں کے کیس کی سماعت کے دوران فریقین کے دلائل شروع ہوگئے جبکہ عدالت عالیہ نے ابتدائی دلائل کے بعد فریقین کے وکلا کو 19 فروری تک تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کردی لہٰذا اب کیسز کی آئندہ سماعت 19 فروری کو ہوگی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس غلام اعظم قمبرانی نے گزشتہ روزوفاقی وزارت اطلاعات و نشریات حکومت پاکستان کے زیر انتظام کام کرنیوالے قومی سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن (اے پی پی) میں رپورٹرز/سب ایڈیٹرزگریڈ تھری کی گریڈ ٹو میں ترقیوں کے ضمن میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر محکمانہ پروموشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی ترقیاں منسوخ کرنے کے حوالے سے دائر رٹ پٹیشنز کی سماعت کی جس میں پٹیشنرز سید یاور عباس اور ممتاز سلیم لنگاہ وغیرہ سمیت فریقین کے وکلانے ابتدائی دلائل پیش کئے۔گزشتہ تاریخ سماعت پر سال 2005 میں خالصتاً میرٹ، ایم اے ماس کمیونیکیشن تعلیم اور قومی صحافت میں بطوررپورٹر/سب ایڈیٹر 5 سالہ تجربہ کی بنیاد پر ملک گیراخبار اشتہارات،ٹیسٹ، انٹرویو کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے رپورٹرز/سب ایڈیٹرز گریڈ تھری کی جانب سے سید یاور عباس کے توسط سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن نمبر 684/2020 اور ممتاز سلیم لنگاہ رپورٹر/سب ایڈیٹر گریڈ تھری کی جانب سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن نمبر 1796/2020 میں پٹیشنر زکے وکلا نے عدالت کے حکم پر ابتدائی دلائل پیش کئے۔ پٹیشنرز کی جانب سے وفاقی سیکرٹری انفارمیشن حکومت پاکستان، منیجنگ ڈائریکٹر ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور محکمانہ پروموشن کمیٹی کے ارکان کیخلاف دائر کی گئی رٹ پٹیشنز میں مؤقف اختیار کیاگیا کہ انہیں تاریخ تقرری، ڈیٹ آف جوائننگ، ڈیٹ آف برتھ سمیت ہر طرح سے سینئر ہونے کے باوجود بعض قوانین کی اپنی پسند کے مطابق تشریح کرتے ہوئے سینئررپورٹرز/سب ایڈیٹرز گریڈ ٹو کے عہدہ پر ترقی دینے کی بجائے ان کے جونیئرز کوسینئررپورٹرز/سب ایڈیٹرز گریڈ ٹو کے عہدہ پرترقی دیدی گئی ہے مگر انہیں سنیارٹی کے باوجود مختلف حیلے بہانوں سے ترقی سے محروم کردیا گیاہے اور وہ سال 2005 و سال2007 سے اب تک 15 سالہ اور 13 سالہ سروس کے باوجود ایک ہی عہدہ پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جب 15 اور 13 سال قبل ان کی تقرری اور جوائننگ ہوئی تھی اس وقت انہیں کسی پیپر مارکنگ نمبروں سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا لیکن اب کیس دائر ہونے پر اے پی پی انتظامیہ نے خود ساختہ پیپر مارکنگ کے نمبر لگاکر ان حاصل کردہ نمبرز کی بنیاد پر سنیارٹی لسٹ تیار کی اور منظور نظر افراد کو زیادہ نمبر دیکر سینئر جبکہ دیگر افراد جن کی سفارش نہ تھی انہیں کم نمبر دیکر جونیئر قرار دیدیا حالانکہ سرکاری ملازمت میں سنیارٹی صرف ڈیٹ آف جوائننگ اور ایک ہی وقت میں زیادہ افراد کے جوائن کرنے کی صورت میں تاریخ پیدائش کے کرائی ٹیریا کے مطابق فکس کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں انہیں سنیارٹی لسٹ کے حوالے سے میرٹ لسٹ /حاصل کردہ نمبروں کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی تھی نیزاس دورا ن اے پی پی ہیڈ آفس نے متعدد بار سنیارٹی لسٹیں جاری کیں لیکن میرٹ اور حاصل کردہ نمبرز کا کہیں بھی ذکر نہیں کیا گیاجبکہ18اپریل 2012کو جاری کردہ سنیارٹی لسٹ اور2مئی 2018کو رپورٹرز/سب ایڈیٹرز گریڈتھری کی جاری کردہ سنیارٹی لسٹ میں بھی بھرتی سے قبل تحریری پیپر کے حاصل کردہ نمبرز کے حوالے سے کہیں ذکر نہیں ہے لیکن 15 اور13 سال بعد اب اے پی پی انتظامیہ نے اپنے غیر قانونی اقدام کو تحفظ دینے کیلئے اب اتنے سالوں بعد خود ساختہ پیپر مارکنگ لسٹ تیار کرلی ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ انہوں نے استدعا کی کہ سال 2020 میں خود ساختہ سنیارٹی لسٹ کے تحت منظور نظررپورٹرز/ سب ایڈیٹرزگریڈ تھری کوناجائز طور پرسینئر رپورٹرز/ سب ایڈیٹرزگریڈ ٹو کے عہدہ پر دی گئی تمام ترقیاں منسوخ کی جائیں اور انہیں ڈیٹ آف جوائننگ و عمر میں سینئر ہونے پر قواعد کے مطابق ترقیاں دینے کے احکامات جاری کئے جائیں۔عدالت عالیہ نے سماعت کے دوران پرپٹیشنرز کے وکلا کے دلائل سنے اور فریقین کے وکلا کو ہدایت کی کہ وہ 19 فروری سے قبل اپنے تحریری دلائل عدالت میں جمع کروائیں جس کے بعد کیس کی سماعت مزید کاروائی اور حتمی دلائل و بحث کیلئے 19 فروری تک ملتوی کردی گئی۔@@

About BBC RECORD

Check Also

‘شادی کے بعد عورت کی مرضی ہے خاوند کا نام لکھوائے یا والد کا’

Share this on WhatsAppلاہور؛ چیئرمین نادرا طارق ملک نے کہا ہے کہ نادرا کی پالیسی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے