مودی سرکارکے خلاف بھارتی سکھ کسانوں کی بھوک ہڑتال

بھارت میں سکھ کاشتکار پر امن مظاہرین نے کہا ہے کہ مودی حکومت کی ’کسان دشمن‘ پالیسیوں کے خلاف ان کی تحریک پرامن ہے۔ہفتے کو ریاست ہریانہ سے سینکٹروں کی تعداد میں کسانوں کےمزید ٹریکٹر دارالحکومت نئی دہلی کے شمالی مضافات پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر حکام کی طرف سےاضافی نفری تعینات کرکے سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ ساتھ ہی حکام نے دہلی کے اطراف میں مظاہرین کے دھرنے والے علاقوں میں موبائیل انٹرنیٹ سروس معطل کردی ہے۔’زرعی قوانین کا نفاذ حکومت نہیں روکےگی تو ہم روک دیں گے’ سپریم کورٹ بھارتی وزارت داخلہ نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر دہلی کے تین مضافاتی علاقوں میں موبائیل انٹرنیٹ سروسز رات گیارہ بجے تک بند رہیں گی۔

گاندھی جیسی مزاحمت؟

تیس جنوری کا دن بھارت کے بانی موہن داس گاندھی کے انتقال کا دن ہے۔ بھارتی کسان رہنماؤں کے نزدیک آج گاندھی کی طرح بھوک ہڑتال پر بیٹھ کر وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی تحریک بھی ایک پرامن تحریک ہے۔

ریاست ہریانہ سے سینکٹروں کسانوں کےمزید ٹریکٹر نئی دہلی کے شمالی مضافات پہنچنا شروع ہو گئے ہیں

کاشتکاروں کی تنظیموں کے اتحاد ‘سمیُکتا کسان مورچہ‘ نےحکومت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار ”جھوٹ اور تشدد کے ذریعے ہماری جدوجہد کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘ تاہم کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آج کی”بھوک ہڑتال سے دنیا دیکھے گی کہ ہم عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘بھارتی یوم جمہوریہ: لال قلعے پر کسانوں کا پرچم

خون خرابے کے خدشات

بھارت میں کسانوں کے مظاہروں کو دو ماہ سے زائد ہو چکے ہیں۔ اس دوران دارالحکومت دہلی کے نواح میں کاشتکاروں کی پولیس کے ساتھ گاہے گاہے چھوٹی موٹی چھڑپیں ہوتی رہی ہیں تاہم مجموعی طور پر یہ دھرنا ابھی تک پرامن ہے۔لیکن پھر اچانک پچھلے ہفتے منگل کو بھارت کے یوم جمہوریہ کےموقع پر مظاہرین نے لال قلعے پر چڑھائی کر کے دھاوا بول دیا۔ اس موقع پر جھڑپوں میں ایک شخص مارا گیا اور حکومت کے مطابق کم ازکم چار سو پولیس والے زخمی ہوگئے۔


گزشتہ منگل کو بھارت کے یوم جمہوریہ کےموقع پر کسان مظاہرین نے لال قلعے پر چڑھائی کر دی تھی

مودی حکومت کی جوابی حکمت عملی

ان واقعات کے بعد بھارتی حکومت نے ملک کے کئی سرکردہ صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور اپوزیشن رہنماؤں پر کسانوں کا ساتھ دینے اور انہیں تشدد پر اکسانے کے الزامات لگا کر ان کے خلاف بغاوت کے مقدمات داخل کر دیے ہیں۔بھارت: متنازعہ ذرعی قوانین پر روکجمعہ کو دو سو کے لگ بھگ افراد کے ایک مجمع نے کسانوں کےدھرنے والی ایک جگہ پر چڑھائی کر دی اور انہیں وہاں سے بھگانے کے لیے ان کے خیموں پر پتھراؤ کیا۔ کسانوں پر دھاوا بولنے والوں نے خود کو علاقہ مکین بتایا تاہم کسان رہنماؤں کا الزام ہے کہ وہ حکمراں جماعت بی جے پی کے غنڈے تھے جن کا مقصد مظاہرین پر تشدد کر کے انہیں خوف زدہ کرنا تھا۔

’کسان دشمن‘ قوانین
بھارتی کسان تنظیموں کا بی جے پی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ستمبر میں پارلیمان سے منظور کرائے گئے ‘کسان دشمن‘ قوانین واپس لے۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ قوانین بڑی بڑی کارپوریشنوں کو مراعات دینے کے لیے لائے گئے ہیں اور یہ کسانوں کے معاشی قتل عام کے مترادف ہیں۔مودی حکومت کا موقف ہے کہ بھارت کے زرعی شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں اور اس شعبے میں نجی کمپنیوں کو مواقع دینا زرعت اور ملک کے مفاد میں ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھارت کا دورہ منسوخ کردیا

Share this on WhatsAppرابرٹ ولیم بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ برطانیہ وزیراعظم بورس جانسن ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے