برطانیہ،جرمنی اور فرانس کا ایران کی یورینیم افزودگی کی نئی سرگرمیوں پراظہارِ تشویش

برطانیہ ، جرمنی اور فرانس نے ایران کی یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے حالیہ سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایران نے حال ہی میں قانون سازی کے ذریعے یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے اضافی اور جدید سینٹری فیوجز مشینیں نصب کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس کے نتیجے میں اس کے جوہری پروگرام کو وسعت دی جاسکے گی۔یورپی یونین کے رکن ان تینوں ممالک نے سوموار کو ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’’اگر ایران سفارت کاری کو موقع دینے میں سنجیدہ ہے تو اس کو ان اقدامات پر عمل درآمد نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے( آئی اے ای اے) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نطنز میں واقع اپنی زیر زمین جوہری تنصیب میں جدید آئی آر 2 ایم سینٹری فیوجز مشینوں کے تین مزید کلسٹر نصب کرنا چاہتا ہے۔

ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تحت صرف آئی آر۔1 سینٹری فیوجز کو نطنز میں نصب کرسکتا ہے اور ان ہی کے ذریعے یورینیم کو افزودہ کرسکتا ہے۔یہ مشینیں سست رفتاری سے کم درجے میں یورینیم کو مصفا کرتی ہیں۔مذکورہ تینوں مغربی طاقتوں نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’ایران کی جانب سے آئی اے ای اے کو نطنز میں واقع ایندھن کو افزودہ کرنے کے پلانٹ میں جدید سینٹری فیوجز کی تنصیب 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کے منافی ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت کا اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں سے تعاون کو روکنے سے متعلق نیا قانون بھی اس سمجھوتے سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ ایران اب مقررہ حد سے زیادہ یورینیم کو افزودہ کرسکتا ہے۔اس اقدام سے جامع مشترکہ لائحہ عمل (جوہری سمجھوتے) کو برقرار رکھنے کے لیے ہماری کاوشوں کو نقصان پہنچے گا جبکہ ایران کی اس سمجھوتے میں واپسی سے اس کو فائدہ پہنچے گا۔واضح رہے کہ ایران نے مئی 2019ء میں جوہری سمجھوتے کی بعض شرائط پر عمل درآمد نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس نے یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبرداری کے فیصلے سے ایک سال کے بعد کیا تھا۔

امریکی صدر نے مئی 2018ء میں اس جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہہ دیا تھا اور اسی سال ایران کے خلاف دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جس کے نتیجے میں ایران کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے اور ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ایران نے امریکا کی کڑی پابندیوں کے ردعمل میں جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور یورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرکررہا ہے۔اس کے جواب میں سمجھوتے کے فریق تین یورپی ممالک برطانیہ ، جرمنی اور فرانس نے قبل ازیں اس تنازع کے حل کے لیے میکانزم فعال کرنے کا اعلان کیاتھا لیکن انھوں نے واضح کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف امریکا کی زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم میں شامل نہیں ہورہے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھارت کا دورہ منسوخ کردیا

Share this on WhatsAppرابرٹ ولیم بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ برطانیہ وزیراعظم بورس جانسن ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے