دہشت گردی اورانتہا پسندی کے خلاف جنگ کو کیسے کامیابی سے ہم کنار کیا جاسکتا ہے؟ ( تجزیہ )

تحریر؛ نورا الکعبی

فرانس اور آسٹریا میں گذشتہ چند ہفتے کے دوران میں اسلام پسند دہشت گردوں کی سفاکیت کی تمام راست سوچ رکھنے والے لوگوں کو دوٹوک انداز میں مذمت کرنی چاہیے۔فرانس کے شہر نیس میں ایک چرچ پر حملہ کرنےوالے دہشت گردوں میں سےایک نے مبیّنہ طور پر ہاتھ میں قرآن پکڑ رکھا تھا۔اس پر تو تمام مسلمانوں کو اٹھ کھڑے ہونا چاہیے کہ کیسے جنونیوں کا ایک گروہ ان کے عقیدے اور ان کے مقدس شعار کی مکمل استثنا کے ساتھ بے توقیری کررہا ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ دو عبادت گاہوں ، ایک چرچ اور ایک صومعہ ،کو دہشت گردی کے حملے میں نشانہ بنایا گیا۔اس پر تو کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ اس حملے کا بنیادی مقصد بین المذاہب کشیدگی اور تناؤ کو ہوا دینا تھا۔دہشت گردوں نے ہمارے عقیدے کے نام پر یہ کارروائی کی تھی اور اس کے بعد دنیا کے مختلف حصوں میں اسلام فوبیا کی لہریں پیدا ہوگئی تھیں۔اس صورت حال میں یہ ناگزیرامر ہے کہ ہم اپنی صفوں میں موجود انتہاپسند اور دہشت گرد قوتوں کو شناخت کریں اور انھیں بے نقاب کریں۔

متحدہ عرب امارات مسلسل یہ کہتا چلا آرہا ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صرف سکیورٹی کے میدان تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔ اگر ہمیں اپنی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے تو پھر ہمیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف نظریات کی سطح پر بھی لڑنا ہوگا۔یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم ان گروپوں اور ان کے نظریاتی منابع کو شناخت اور بے نقاب کریں گے جو انتہا پسند نظریات کو جنم دیتے اور پھیلاتے ہیں۔ہمیں اکثر سیاسی اسلام یا اسلامیت کی سخت مخالفت کی بنا پر بالخصوص مغرب میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن ہم اس بات میں پختہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ اسلام کے نام پردہشت گردی پر اُکسانے کا سب سے بڑا ذریعہ اور محرک ہے۔ بدقسمتی سے مغرب میں بہت سے نامور دانشور اور سیاسی شخصیات اسلام پسندوں سے اس حد تک متاثر ہیں کہ وہ انھیں ہی ایک لبرل اور روادر مشرقِ اوسط کے لیے واحد امید قرار دیتے ہیں۔

مغرب کی وقیع جامعات اور مؤقر تحقیقی اداروں میں بہت سے اسلام پسند نظریات دان اعلیٰ تدریسی عہدوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔انھوں نے ان مواقع کو اپنے مفاد میں بھرپور طریقے سے استعمال کیا ہے اور اپنے سامعین کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اسلام پسند اچھائی کی ایک قوت ہیں۔ہم نے اسلام پسندوں کو اپنے ملک میں قدم جمانے کی اجازت دی ہے اور نہ اثرورسوخ قائم کرنے دیا ہے کیونکہ ہم جبلّی اور تجربی طور پر اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اسلام پسند ہی مسلم دنیا میں انتہا پسند نظریے کا بنیادی منبع ہیں۔ ہم اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ مذہبی تعصب ومنافرت کے بعض دوسرے منبعوں کے برعکس اسلام پسند اپنے حقیقی رنگ روپ کو چھپانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ خود کو مصلح کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مغرب میں بہت سے باعلم لوگ بھی ان کی جعلی چکاچوند کے دامِ تزویر میں آجاتے ہیں۔اس سے ہمیں کوئی زیادہ حیرت نہیں ہوتی۔ البتہ ہمیں یورپ کے بہت سے حصوں میں اسلام پسندوں کے بڑھتے ہوئے اثرو نفوذ پر ضرور تشویش لاحق ہوجاتی ہے۔اس پر مستزاد یہ رجحان ہمیں مزید چوکنا کردیتا ہے کہ انھیں اسلامی دانش کے حقیقی نمایندگان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے مگر اس ضمن میں ہمارے انتباہ برسوں سے زیادہ تر صدابصحرا ہی ثابت ہوئے ہیں۔
ہمیں اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ القاعدہ ، داعش کے دہشت گردوں اور بظاہر مہذب اسلام پسند نظریات دانوں کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ اوّل الذکر خوف ناک حد تک دیانت دار واقع ہوئے ہیں اور اندر،باہر سے ایک ہیں جبکہ مؤخر الذکر دراصل دو مُونھے ہیں۔

غم واندوہ کے اس لمحے میں ان تلخ سچائیوں کو یہاں بیان کرنے کا میرا مقصد کسی پر انگلی اٹھانا نہیں۔یہ موقع دراصل ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم سب جنونیت اور دہشت گردی کے خلاف اپنے پختہ عزم کا اعادہ کریں اور ہم عالمی سطح پراپنی قوت کو تاریکی کی ان قوتوں کے ایک ہی مرتبہ استیصال کے لیے مجتمع کریں۔ یہ کچھ کرنے سے کہنا بہت آسان ہے۔اگر ہم نے اس کو نظرانداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو پھر ہاتھی تو کمرے میں آجائے گا۔ذرا مسلم دنیا کی ان سرکردہ شخصیت کو بھی بغور دیکھیں ،جنھوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں دہشت گردی کے جواز میں علانیہ یا ملفوف ،مگر اشتعال انگیز بیانات جاری کیے ہیں۔ان سب کا معمولی اختلاف کے فرق سے ایک ہی نظریاتی علاقے سے تعلق ہوگا اور وہ سیاسی اسلام ہے۔مذہب عقیدے کی حیثیت سے بنی نوع انسان کو عزوشرف کے بلند مقام پر لے جاتا ہے لیکن مذہب ایک نظریے کی حیثیت سے جنونیت پر مبنی تشدد کا بھی سبب بنتا ہے اور پھر اس کو نسل کشی کی سطح تک لے جاتا ہے۔

ہم دہشت گردی کے تمام حملوں کے متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ہم متنازع خاکوں سے اتفاق نہیں کرتے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے ان سے میرے جذبات مجروح ہوئے ہیں لیکن میں اس تمام معاملے میں پنہاں سیاست کو سمجھ سکتی ہوں۔اس کے پس پردہ استحصال اور جوڑ توڑ کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کیے جارہے ہیں۔پیغمبراسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں میں بہت عظیم مقام و مرتبہ حاصل ہے لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان کے مقدس نام کو سستی سیاسی مہموں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔یہ ایشو،اس کا تشدد کا رُخ اختیار کرنا اور اس کو سیاسی رنگ دینا بالکل ناقابل قبول ہے۔دہشت گردوں کے حملوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔یہ تو اسلام پسندوں کی اسلام کی اپنی تفہیم ہے۔ہمیں اس کی ہمیشہ اور بلا تردد مذمت کرنی چاہیے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے دل جمعی سے تمام کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔

یہی وہ جذبہ اور روح تھی جس کے تحت ہمارے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے 2015ء میں فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں منعقدہ اتحاد ریلی میں شرکت کی تھی۔اس میں ہزاروں فرانسیسی لوگ اور دنیا کے دسیوں لیڈر شریک تھے۔انھوں نے طنزیہ میگزین شارلی ایبڈو ، ایک ریستوراں اور یہود کی ایک سپر مارکیٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کی تھی۔اب ایک تلخ سچائی یہ ہے کہ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں پانچ سال پہلے تھے کیونکہ یورپ میں اسلام پسندوں کے تباہ کن پراپیگنڈا کی تشہیرکو روکنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ یورپی حکام اپنے درمیان پھلنے پھولنے والے اس سرطان پر اپنی فوری توجہ مرکوز کریں۔جہاں تک یواے ای کا تعلق ہے تو ہم انتہاپسندی اور دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مخالفت میں بالکل واضح مؤقف کے حامل ہیں۔ہم ان کے خلاف کسی اگر، مگر کے بغیر گفتگو کرتے ہیں۔ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ انتہاپسندی پر مبنی نظریات کی مخالفت کے ساتھ ساتھ مذہبی رواداری، ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور اس صورت ہی میں ہم دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینک سکتے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

انعام غنی کی سربراہی میں پولیس کا مورل بلند ہوا

Share this on WhatsAppتحریر: شبیر خان سدوزئی انعام غنی کا بطور پنجاب پولیس کا سربراہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے