نو بچوں کی ماں کو ’کاری‘ قرار دے کر قتل کرنے کا فیصلہ پولیس کا بروقت نوٹس

شبیر خان سدوزئی

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ ڈیرہ غازی خان

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل، یا کسی بھی الزام کے تحت خاتون کو کاری یا بد چلن قرار دینے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں اور مختلف علاقوں میں اس طرح کے جرگے طلب کرکے متوازی عدالت قائم کردی جاتی ہے جس میں اکثر من مانے فیصلے سنا دیے جاتے ہیں۔صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں ایک قبائلی جرگے نے تقریباً ایک ماہ قبل خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھنے والی نو بچوں کی ماں کو ’کاری‘ قرار دے کر قتل کرنے کا فیصلہ دیا تھا خاتون اپنی جان کے تحفظ کے لیے تگ و دو کر رہی ہیں، وہ پہلے صوبہ پنجاب کے شہر تونسہ سے بھائیوں کی طرف راجن پور گئیں اور پھر وہاں سے ضلع جھنگ میں ایک پیر کے آستانے پر پہنچی ہیں۔پولیس کے مطابق جرگے نے یہ فیصلہ ایک ماہ پہلے اس وقت دیا تھا جب خاتون حمل سے تھیں اور ان کا بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ جرگے نے فیصلہ دیا تھا کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد اس خاتون کو جرگے کے حوالے کیا جائے جس کے بعد انھیں قتل کر دیا جائے گا۔

آر پی او فیصل رانا کے حکم پر غیر قانونی جرگہ منعقد کرنے والے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ ضلع مظفر گڑھ کے تھانے کرم داد قریشی میں درج کیا گیا ہے۔اس مقدمے میں جرگہ منعقد کرنے والے نزر محمد کے علاوہ جرگے میں شامل کالے خان ،آدم خان، مخان خان ، روزی خان، عیسی خان اور نیامت خان کو نامزد کیا گیا ہے۔ڈیرہ غازی خان کے آر پی او نے جرگہ منعقد کر کے غیر قانونی فیصلہ کرنے والے قبائلی وڈیروں کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ کاری قرار دی جانے والی خاتون ماڑنہ بی بی کے دو بھائیوں عیسیٰ خان اور نیامت خان کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ کاری قرار دی جانے والی خاتون نے اپنی مرضی سے جھنگ میں رہنے کا بیان دیا ہے۔

جاڑنہ بی بی کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے ان کا شوہر شروع دن سے انھیں مارتا پیٹتا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس سال 23 جون کو مجھ پر نور شاہ کے ساتھ کاروکاری کا جھوٹا الزام عائد کیا اوراسی روز نور شاہ کو قتل کر دیا گیا۔پولیس رپورٹ کے مطابق اس قتل کا الزام خاتون کے شوہر مقام خان کے بھائی کلہ خان پر عائد کیا گیا۔ نور شاہ کے بھائی گلاب خان کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کلہ خان موٹر سائیکل پر آیا اور نور شاہ پر فائرنگ کر دی۔ماڑنہ بی بی نے اپنی درخواست میں مزید بتایا کہ اس واقعے کے بعد ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوا جس پر وہ اپنے بھائیوں عیسی خان اور نعمت خان کے پاس ضلع راجن پور کے علاقے داجل چلی گئی تھیں۔

پولیس کے مطابق جرگے میں شامل تمام افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ خاتون اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے۔
ڈیرہ غازی خان پولیس کے مطابق صوبہ بلوچستان کے علاقے لورلائی سے تعلق رکھنے والی جاڑنہ بی بی کی شادی 18 سال پہلے مقام خان نامی شخص سے ہوئی تھی جس سے 6 بیٹے اور3 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ مقام خان اور ماڑنہ بی بی کا خاندان سلمان خیل قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ خانہ بدوش ہیں۔پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ ماڑنہ بی بی کے دیور کلہ خان نے خاتون پر نور شاہ نامی شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات کا الزام لگایا تھا۔ جن دنوں یہ الزام عائد کیا گیا ان دنوں یہ قبیلہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ میں رہائش پزیر تھا۔

پولیس نے بتایا کہ پولیس کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا تھا کہ یہ غیر قانونی جرگہ چوک قریشی مظفر گڑھ میں منعقد ہوا تھا جس میں خاتون کو کاری قرار دیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ خاتون اس وقت حمل سے ہیں اور ان کا بچہ پیدا ہونے والا ہے، اس لیے ابھی انھیں کچھ نہیں کہا جائے گا اور جب بچہ پیدا ہو جائے گا اس کے بعد خاتون کو جرگے کے حوالے کیا جائے گا اور پھر خاتون کو قتل کر دیا جائے گا۔اس جرگے میں کالے خان، مخان، روزی خان، اور آدم خان شریک ہوئے تھے۔ پولیس کو یہ اطلاع بھی موصول ہوئی تھی کہ اس جرگے کے لیے خاتون کے بھائیوں کو بھی بلایا گیا تھا۔

About BBC RECORD

Check Also

نوجوان کے ساتھ فراڈ، دوشیزہ کا رشتہ دکھا کر60 سالہ خاتون سے شادی کروادی

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ وہاڑی نوسر باز گروہ نے 20 ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے