آر پی او نے اینٹی کرپشن میں ،زیر سماعت انکوائریوں کی تفصیلات مانگ لیں

شبیر خان سدوزئی

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ ڈیرہ غازی خان

آر پی او فیصل رانا ریجن کی پولیس کو کرپشن فری بنانے کے لئے ڈٹ گئے،ریجنل ڈائیریکٹر اینٹی کرپشن سے ملاقات،ریجن کے پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف اینٹی کرپشن تھانوں میں درج مقدمات،زیر سماعت انکوائریوں اور درخواستوں کی تفصیلات مانگ لیں،جن پولیس اہلکاروں کے خلاف اینٹی کرپشن کے مقدمات،انکوائریاں اور درخواستیں ہیں انہیں ایس ایچ او ز نہ لگانے کا فیصلہ،ایسے افسران کو قتل سمیت سنگین نوعیت کے مقدمات کی تفتیش بھی نہیں دی جائے گی،آر پی او کے کرپشن فری پولیسنگ کے لئے اہم فیصلے،”شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر ہے،اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے“ کی پالیسی نافذ،

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے کرپشن کے خاتمے کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ریجنل پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے ریجن کے چاروں اضلاع ڈی جی خان،مظفر گڑھ،لیہ اور راجن پور کی پولیس کو کرپشن فری بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے،

آر پی او فیصل رانا نے ڈائیریکٹر اینٹی کرپشن ڈی جی خاں ریجن سے ملاقات کی اس موقع پر ڈپٹی ڈائیریکٹر اینٹی کرپشن بھی موجود تھے،آر پی او نے اینٹی کرپشن افسران سے ان پولیس افسران اور اہلکاروں کی تفصیلات مانگیں جن کے لئے اینٹی کرپشن تھانوں میں مقدمات درج ہیں،یا جن کے خلاف اینٹی کرپشن میں انکوائریاں یا درخواستیں زیر سماعت ہیں،آر پی او فیصل رانا کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں اگر کوئی شخص پولیس والے کے خلاف درخواست دیتا ہے تو پولیس والا پہلی سٹیج پر ہی درخواست دہندہ کو مینج کر کے درخواست واپس کروا لیتا ہے،اگر کوئی درخواست دہندہ اینٹی کرپشن افسران کو ثبوت مہیا کر دے تو پھر اس پر انکوائری ہوتی ہے،اس سٹیج پر ملزم پولیس والا درخواست دہندہ کوکسی اور انداز میں ”لے دے“ کر مینج کر لیتا ہے،اگر کسی پولیس والے کے خلاف اینٹی کرپشن میں ایف آئی آر ہو جائے تو اس مرحلے پر پولیس والا مدعی مقدمہ کو مذید”اچھے“انداز میں ”بہترین ریٹ“ پر مینج کر لیتا ہے،آخری مرحلہ ٹرائل کا ہوتا ہے یہاں تک پولیس والوں کے خلاف کم ہی مقدمات پہنچتے ہیں کیوں کہ ایسے پولیس والے جن کے خلاف لوگ اینٹی کرپشن تک جاتے ہیں وہ مینج کرنے کے ”ماہر“ ہوتے ہیں وہ اپنے ”اقدامات“ سے اینٹی کرپشن کے طریق کار کو بڑی آسانی سے ”معطل“ کروا کر خود ”سرخرو“ ہو جاتے ہیں،

ایسی کالی بھیڑیں اپنی ”صلاحیتوں“ کی وجہ سے اینٹی کرپشن سے تو بچ جاتی ہیں لیکن محکمہ کے لئے بدنامی کا مسلسل باعث ہوتی ہیں،لہٰذ ا اینٹی کرپشن کے تمام مراحل میں ”بچ“ نکلنے والے پولیس افسران کو کسی قسم کی اہم ذمہ داری نہ دینا ہے کرپٹ پولیس والوں سے محکمہ کو بچانے کا واحد راستہ ہیں،اضلاع میں ایس ایچ او لگانا ڈی پی او ز کا اختیار ہے،لیکن میں ریجن کے چارون اضلاع کے ڈی پی او ز کو ان پولیس والوں کی لسٹیں مہیا کروں گا جو کسی نہ کسی حوالے سے کسی نہ کسی سٹیج پر اینٹی کرپشن کو مطلوب رہے تاہم وہ اپنی ”مینجنگ“ حکمت عملی سے بچ نکلے،ایسے پولیس افسران کو تھانوں میں ایس ایچ اوز اور پولیس چوکیوں کا انچارج نہیں لگایا جائے گا،کرپشن کے حوالے سے کسی قسم کا دامن پر دھبہ رکھنے والے پولیس افسران کو قتل،سمیت سنگین نوعیت کے مقدمہ کی کوئی تفتیش بھی نہیں دی جائے گی،آر پی او نے کہا کہ میں نے وزیر اعلیٰ کے کرپشن فری پنجاب کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ریجن کی پولیس کو ہر صورت کرپشن فری کرنا ہے،کہ ”شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر ہے،،اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے“ انہوں نے کہا کہ عوام کے پاس اگر کسی پولیس آفیسر کی کرپشن کی مصدقہ شکائت ہے تو وہ براہ راست میرے دفتر رجوع کریں ان کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا

About BBC RECORD

Check Also

نوجوان کے ساتھ فراڈ، دوشیزہ کا رشتہ دکھا کر60 سالہ خاتون سے شادی کروادی

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ وہاڑی نوسر باز گروہ نے 20 ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے