100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے معلق کیپسول میں سفر کا کامیاب تجربہ

لاس ویگاس: آپ نے مصروف شہروں کے لیے ایلون مسک کے ٹرانسپورٹ سسٹم ’’ہائپر لوپ‘‘ کا شہرہ سنا ہوگا لیکن یہ بازی آگے بڑھ کر ورجن گروپ کے رچرڈ برونسن نے جیت لی ہے اور انہوں نے اپنے ہائپر لوپ ٹرانسپورٹ سسٹم میں پہلی مرتبہ مسافروں کو بٹھا کر اس کا تجربہ بھی کرلیا ہے۔مقناطیسی میدان میں معلق کیپسول نما سائنس فکشن سواریوں کی کامیاب آزمائش آج ہوگئی جس میں لوگوں نے 100 میل ( 160 کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار سے کچھ فاصلہ طے کیا۔ اس موقع پر ورجن گروپ کے ماہرین اور انجینئرز موجود تھے۔ مسافروں نے 15 سیکنڈ میں 500 میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ ٹرانسپورٹ کیپسول کو ایک ویکیوم کی سرنگ میں دوڑایا گیا جسے نیواڈا صحرا میں آزمایا گیا۔

یہ پورا نظام ورجن کمپنی کے لاس ویگاس مرکز میں تعمیر کیا گیا ہے۔ اس طرح ایک مرد اور خاتون مقناطیسی معلق سواری میں برق رفتاری سے دوڑے جو اسی کمپنی کے عملے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اس مختصر سفر کے باوجود وِرجن نے اپنے نظام کی افادیت ظاہر کردی ہے۔ ماہرین کے نزدیک دو اہم اہداف حاصل کیے گئے یعنی ہائپرلوپ کی آزمائش اور دوم حفاظتی پہلوؤں کی تصدیق بھی کی گئی۔یہ کمپنی 2025ء کے لیے ہائپر لوپ کے لیے سیفٹی سرٹیفکیٹ اور 2030ء کے لیے کمرشل ٹرانسپورٹ اجازت نامے کی کوشش کررہی ہے۔ اگرچہ ابھی 100 میل کا ہدف حاصل کیا گیا ہے لیکن عملی طور پر اس کی رفتار کو 4 سے 5 گنا تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

ماحولیاتی آلودگی کم کیجئے، دل صحتمند رکھئے، عالمی ماہرین کی اپیل

Share this on WhatsAppلائپزگ، جرمنی: یورپی ہارٹ جرنل میں دنیا کے ممتاز سائنسدانوں کا ایک ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے