فلسطینی صدرمحمودعباس کی جو بائیڈن کو جیت پر مبارک باد،تعلقات مضبوط بنانے پر زور

فلسطینی صدرمحمود عباس نے امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کومبارک باد پیش کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کی انتظامیہ کے ساتھ فلسطین ، امریکا تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ فلسطینی عوام کے لیے انصاف اوروقار حاصل کیا جاسکے۔فلسطینی صدر نے اتوار کو اپنے تہنیتی پیغام میں کہا ہے کہ ’’وہ خطے اور پوری دنیا میں امن ، استحکام اور سلامتی کے حصول کے لیے بھی نئے منتخب امریکی صدر کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔‘‘

جوزف بائیڈن قبل ازیں صدر منتخب ہونے کی صورت میں فلسطینیوں کی مالی امداد کی بحالی اور واشنگٹن میں تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کا دفتر دوبارہ کھولنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ان کے ساتھ نائب صدرمنتخب ہونے والی کمالا ہیرس نے گذشتہ ہفتے جریدے ’دا عرب امریکن‘ سے انٹرویو میں کہا تھا کہ’’ہم فلسطینی عوام کی اقتصادی اورانسانی امداد کی بحالی کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں گے۔غزہ میں جاری انسانی بحران کا حل نکالیں گے۔مشرقی القدس (یروشلیم) میں امریکی قونصل خانہ دوبارہ کھولیں گے اور واشنگٹن میں پی ایل او کا مشن دوبارہ کھولنے کے لیے بھی اقدامات کریں گے۔‘‘

جوزف بائیڈن اب صدر منتخب ہونے کے بعد یہ اقدامات کرتے ہیں تو وہ اس طرح صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اقدامات پر خطِ تنسیخ پھیر دیں گے۔ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکی محکمہ خارجہ نے غربِ اردن اور غزہ کی پٹی میں آباد فلسطینیوں کی 20 کروڑ ڈالر کی سالانہ امداد بند کردی تھی اور مشرقی القدس میں رہنے والے فلسطینیوں کو الگ سے دی جانے والی ڈھائی کروڑ ڈالر کی امداد بھی روک لی تھی۔البتہ اس نے اس سال فلسطینی اتھارٹی کو کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے صرف پچاس لاکھ ڈالر کی مالی امداد دی ہے۔

محکمہ خارجہ نے اپنے فیصلے کا یہ جواز پیش کیا تھا کہ فلسطینی تحریک مزاحمت حماس کے غزہ پر کنٹرول کی وجہ سے اس کی امداد معطل کی گئی تھی۔ امریکی محکمہ خارجہ حماس کو دہشت گرد قراردیتا ہے۔واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینی مہاجرین کی امداد کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی اُنروا کے فنڈ بھی روک لیے تھے اور اس پر امدادی کاموں میں بدعنوانیوں کےالزامات عاید کیےتھے۔امریکا اس ایجنسی کو ٹرمپ انتظامیہ کےاس فیصلے سے قبل 36 کروڑ ڈالر کی سالانہ امداد مہیا کررہا تھا۔

اُنروا 1949ء میں پہلی عرب اسرائیل جنگ کے بعد قائم کی گئی تھی۔اس کے خلاف اب بدعنوانیوں اور غلط رویوں کے الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہے۔اس کے سربراہ نے 2019ء میں بدعنوانیوں اور بدانتظامی کے الزامات پر اپنے عہدے سے استعفا دے دیا تھا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چار سالہ دور حکومت میں امریکا کا اسرائیل کی جانب زیادہ جھکاؤ رہا ہے اور انھیں بے جا اسرائیل نوازی پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔انھوں نے 2018ء میں اسرائیل میں امریکی سفارت خانہ کو تل ابیب سے یروشلیم منتقل کردیا تھا اور اس کو اسرائیل کا ’’غیرمنقسم‘‘ دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کردیا تھا جبکہ گذشتہ سال مشرقی القدس میں امریکی قونصل خانے کو بند کردیا تھا۔

جوزف بائیڈن صدر منتخب ہونے کی صورت میں امریکی سفارت خانے کو یروشلیم ہی میں برقرار رکھنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔البتہ وہ مشرقی القدس میں امریکی قونصل خانے کو دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں۔جو بائیڈن سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں نائب صدر رہے تھے۔وہ ماضی میں فلسطینی سرزمین کو ہتھیانے اور اس کو اسرائیلی ریاست میں ضم کرنے کی بھی مخالفت کرچکے ہیں۔انھوں نے صدر ٹرمپ کے امن منصوبہ کی بھی مذمت کی تھی۔فلسطینی قیادت ’’صدی کی ڈیل‘‘ کے نام سے اس امن منصوبہ کو مسترد کرچکی ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

متحدہ عرب امارات نے پاکستان سمیت چند مسلم ممالک کے شہریوں کے نئے ویزےا روک دیے

Share this on WhatsAppمتحدہ عرب امارات نے پاکستان سمیت ایسے تیرہ ملکوں کے شہریوں کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے