ترکی اور اسرائیل کے درمیان تجارتی تبادلہ تاریخی سطح پر

ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات سرد مہری کا شکار تاہم دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات پر اس کا کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم غیر معمولی طور پر 6 ارب ڈالر سے زیادہ پر پہنچ گیا۔ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق یہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تبادلے کی تاریخی سطح ہے۔ماضی کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو اسرائیل کو ترکی کے مقابل تجارتی خسارے کا سامنا رہا ہے ، ما سوا 2013ء اور 2014ء کے جب اسرائیل کو تجارتی آمدنی میں تھوڑا بہت اضافہ میسر آیا۔اس کے بعد سے ترکی کی جانب سے برآمدات کا حجم اسرائیل سے آنے والی درآمدات کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ رہا۔

سال 2018ء میں ترکی اور اسرائیل کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم 6.2 ارب ڈالر رہا۔ اگلے سال 2019 ء میں اس میں کچھ کمی واقع ہوئی اور اس کی قیمت 5.5 ارب ڈالر رہی۔ یہ اعداد و شمار بین الاقوامی تجارتی مرکز کی جانب سے جاری کیے گئے جس کا صدر دفتر جنیوا میں ہے۔ یہ مرکز اقوام متحدہ اور عالمی تجارت کی تنظیم کے درمیان ایک مشترکہ ایجنسی ہے۔اس وقت ترکی ،،، اسرائیل کا چھٹا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اسرائیلی ترکی کاروباری کونسل ے سابق صدر میناشے کارمن کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب ہیں، ان کے نرخ مناسب ہیں، مصنوعات کی جلد فراہمی کی اجازت ہے اور دونوں ممالک اعلی معیار کی اشیاء مہیا کرتے ہیں۔ تاہم حجم کے لحاظ سے ممکنہ سطح تک کام نہیں ہوا۔ کارمن کے مطابق "اسرائیل کی تجارت کے مجموعی حجم میں ترکی کی نمائندگی 10 سے 15% تک ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کاروباری شخصیات نہیں بلکہ دونوں حکومتوں کے درمیان سیاسی نوک جھونک ہے۔ دونوں ملکوں کے بیچ تجارت تو قابل قبول ہے”۔

دوسری جانب تُرک پروفیسر محمد اِرکان نے انگریزی ویب سائٹ The Media Lineسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "سیاسی مسائل کے ساتھ بھی جب تک اسرائیل ہمارے لیے اچھی مارکیٹ رہا تب تک کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں گی اور کام متاثر نہیں ہو گا۔ ہمارے درمیان اس وقت بھی 5 ارب ڈالر سے زیادہ کا سالانہ تجارتی حجم ہے”۔سال 2020ء میں کرونا وائرس نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تاہم اس کے باوجود رواں سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران اسرائیل کے لیے ترکی کی برآمدات کی مالیت 3.2 ارب ڈالر رہی۔ یہ حجم گذشتہ برس اسی عرصے میں سامنے آنے والے حجم کے تقریبا برابر ہے۔ البتہ 2020ء کے ابتدائی نو ماہ کے دوران 2019ء کے اسی عرصے کے مقابلے میں ترکی کی جانب سے اسرائیل کو خشک میوہ جات کی فروخت میں 64% ، مچھلی اور دیگر سمندری مصنوعات میں 36%، اجناس کی فروخت میں 18% اور پھلوں اور سبزیوں کی فروخت میں 25% کا اضافہ ہوا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

’تشدد کو بڑھاوا دے کر مراعات حاصل کرنے کی کوشش، خطرناک ہے‘

Share this on WhatsAppافعانستان کے لیے امریکا کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے متنبہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے