ایران نواز ملیشیاؤں کی تخریبی کارروائیاں عراق کے امن کے لیے خطرہ بن رہی ہیں : واشنگٹن

امریکی وزارت خارجہ نے بغداد میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر پر حملے کی پُر زور مذمت کی ہے۔امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے اتوار کے روز ٹویٹر پر جاری ایک بیان میں کہا ہے "ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی تخریبی سرگرمیاں عراق کے امن کے لیے خطرہ بن رہی ہیں”۔امریکی وزارت خارجہ نے عراقی سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ عراق کو درپیش کرونا وائرس اور معیشت کے بحرانات اور داعش تنظیم کی جانب سے مسلسل خطرے سے ذمے داری کے ساتھ نمٹیں۔

ادھر عراق کے صوبے صلاح الدین میں ہفتے کے روز 8 شہریوں کے قتل (ان افراد کے سروں اور سینوں میں گولیاں ماری گئیں) کے بہیمانہ واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے ترجمان میجر جنرل یحیی رسول نے کہا کہ "ہم بلد ڈسٹرکٹ میں اس سنگین جرم کے ذمے دار افراد کے خلاف عسکری کارروائی سے نہیں ہچکچائیں گے”۔

وزیر اعظم الکاظمی کی جانب سے کی گئی ایک ٹویٹ میں بلد ڈسٹرکٹ میں مذکورہ مجرمانہ کارروائی کے مرتکب بعض افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں بغداد میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر کو نذر آتش کرنے کے واقعے میں ملوث افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔الکاظمی نے باور کرایا کہ "فرقہ واریت کی بنیاد پر عراقیوں کی عراقیوں کے خلاف قتل و غارت کو کسی طور برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم مل جل کر اس مرحلے سے آگے آ چکے ہیں اور واپس اس کھائی کی طرف نہیں لوٹیں گے”

About BBC RECORD

Check Also

نوازشریف کی واپسی کیلیے برطانیہ بھی جانا پڑا توجاؤں گا، وزیراعظم

Share this on WhatsAppڈاکٹر ذولفقار کاظمی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد وزیراعظم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے