یمن میں قیدیوں کے تبادلے کی سب سے بڑی کارروائی دوسرے روز بھی جاری

جمعے کی صبح یمن میں آئینی حکومت اور حوثیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی سب سے بڑی کارروائی مکمل کرنے کے لیے دوسرے دور کا آغاز ہوا۔ قیدیوں کے تبادلے کا یہ عمل اقوام متحدہ اور صلیب احمر کی بین الاقوامی تنظیم کی سرپرستی میں انجام پا رہا ہے۔

عدن کے ہوائی اڈے پر العربیہ کے نمائندے نے بتایا کہ قیدیوں کی پہلی کھیپ جلد ہی دارالحکومت صنعاء کی سمت منتقل کر دی جائے گی۔ اسی دوران العمالقہ بریگیڈز کے قیدیوں کا پہلا دستہ صنعاء سے عدن پہنچے گا۔

بعد ازاں دوسرا دستہ عدن سے صنعاء اور اس کے بر عکس روانہ کیا جائے گا۔

گذشتہ روز سیکڑوں یمنیوں کی واپسی کے موقع پر ان کے اہل خانہ کی جانب سے نہایت جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے جو شدت سے قیدیوں کے تبادلے کی اس کارروائی کے منتظر تھے۔

بین الاقوامی تنظیم صلیب احمر نے گذشتہ روز تبادلے کی کارروائی کے اختتام پر 700 سے زیادہ قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا۔ اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر تنظیم نے بتایا کہ "ہم دو طیاروں کے صنعاء سے سیؤن اور سیؤن سے صنعاء پہنچنے کی تصدیق کر رہے ہیں”۔ تنظیم کے مطابق سعودی اور یمنی ہلال احمر کے تعاون سے سعودی عرب ، صنعاء اور سیؤن کے بیچ 700 سے زیادہ گرفتار شدگان کی منتقلی اور رہائی کو یقینی بنایا گیا۔

صلیب احمر کے علاقائی ڈائریکٹر فیبریزیو کاربونی نے واضح کیا کہ قیدیوں کے تبادلے کی اس کارروائی کی تیاری میں تقریبا دو برس کا عرصہ لگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک طویل کارروائی ہے جو کئی روز تک جاری رہ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ابتدائی طور پر یہ عمل آج مکمل ہو جائے گا۔ البتہ اس میں توسیع کے امکان کے نتیجے میں 1000 سے زیادہ افراد آزاد ہوں گے۔ یہ بات صلیب احمر کے ذمے داران اور یمنی عہدے داران پہلے بتا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں حالیہ کارروائی فریقین کے تمام قیدیوں کی رہائی کے لیے رہ ہموار کرے گی جیسا کہ اسٹاک ہوم معاہدے کے متن میں تحریر ہے۔

ستمبر 2014ء میں حوثیوں کی جانب سے آئینی حکومت کا تختہ الٹے جانے پر تنازع شروع ہونے کے بعد سے یہ قیدیوں کے تبادلے کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔

اسی طرح دسمبر 2018ء میں سویڈن مذاکرات میں فریقین 15 ہزار قیدیوں کے تبادلے پر آمادہ ہو گئے تھے۔ تاہم مذکورہ معاہدے پر دستخط کے بعد سے قیدیوں کے تبادلے کی کارروائیاں محدود پیمانے پر انجام پائی ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

نوازشریف کی واپسی کیلیے برطانیہ بھی جانا پڑا توجاؤں گا، وزیراعظم

Share this on WhatsAppڈاکٹر ذولفقار کاظمی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد وزیراعظم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے