تھانوں میں غیرقانونی حراست اور ٹارچرکسی صورت برداشت نہیں؛ فیصل رانا

شبیر خان سدوزئی

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ ڈیرہ غازی خان

آر پی او فیصل رانا نے کہا ہے کہ تھانوں میں غیرقانونی حراست اور ٹارچر بدترین قانون شکنی ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا،تھانوں کی اچانک انسپکشن کے دوران غیر قانونی حراست یا ٹارچر ثابت ہو گیا تو زمہ دار پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کے علاوہ قانون کے مطابق فوجداری قوانین کے تحت بھی کارروائی ہو گی،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولیس افسران کے اجلاس سے خطاب کرتےبوئے کیا،آر پی او فیصل رانا نے کہا کہ قانون نے اگر قانون کے محافظ کے طور پر پولیس کو قانون کے نفاز کے حوالے سے اختیارات دئیے ہیں تو ان کی حدود کا بھی واضح تعین کیا ہے

،قانون نافز کرنے والے موثر ادارے کے طور پولیس افسران اوراہلکاروں کی زمہ داری ہے کہ وہ محکمہ کی نیک نامی کے لئے قانون کی متعین کردہ حدود کا خیال رکھیں،کیوں کہ قانون کے محافظوں کی طرف سے قانون شکنی کو معاشرے میں تنقید کا زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے اورایسا ہونا بھی چاہیے کیوں کہ پولیس فورس کا ہرآفیسر اور اہلکار محکمہ کا تعارف ہے ،معاشرے میں اس تعارف کا اظہار مثبت رویوں سے ہونا چاہییے،آر پی او فیصل رانا نے کہا کہ تھانے قانون کا گھر ہیں ،جہاں پر ہم نے تھانوں کو ہرحوالے سے محفوظ بنانا ہے وہاں پر تھانوں کو ہر لحاظ سے قانون کی مکمل۔عمل داری کا مرکز ومحور بھی بنانا ہے،انہوں نے کہا کہ قانون شکنوں کو قانون کی لگام دینے کے لئے قانون نے جو طریقہ وضع کیا ہے اس پر ہی مکمل عمل ہونا چاہییے،فیصل رانا نے کہا کہ اضلاع کے ڈی پی اوز اور سرکلز کےایس ڈی پی اوز تھانوں کے اچانک دورے کریں تاکہ تھانہ کلچر کے حوالے سے جو شکایات پائی جاتی ہیں انہیں چیک کیا جا سکے،فیصل رانا نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے ویزن اور آئی جی پنجاب انعام غنی کی ہدایات کے مطابق تھانوں کو قانون کی۔عملداری کا مرکز بنا دیا جائے گا۔

About BBC RECORD

Check Also

پاکستان کو پرامن اور خوشحال بناھیں گے.چیرمین بین المسلمین

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ ملتان جلوس شہادت فرزند رسول امام ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے