ایران نے پہلے سے کہیں زیادہ درجے پر یورینیم کی افزودگی جاری رکھی ہوئی ہے: آئی اے ای اے

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائیل گروسی کا کہنا ہے کہ ایرانیوں نے یورینیم کی افزودگی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ افزودگی اس درجے سے کہیں زیادہ ہے جس کی وہ پہلے پابندی کر رہے تھے اور اس مقدار میں ہر ماہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ہفتے کے روز آسٹریا کے اخبار Die Presse کو دیے گئے ایک انٹرویو میں گروسی نے مزید کہا کہ "ہم نے ایران کی بڑی مقدار اور نیوکلیئر بم تیار کرنے کے لیے مطلوب افزودہ یورینیم یا پلوٹونیم کی کم از کم حد پر نظر رکھی ہوئی ہے ، تہران کے پاس فی الوقت یہ بڑی مقدار موجود نہیں ہے”۔دوسری جانب ایران اس بات کی تردید کرتا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیاروں کا پروگرام ہے۔ تہران کا دعوی ہے کہ اس کا جوہری پروگرام محض توانائی کے حصول کے مقصد کے لیے ہے۔

چند روز قبل ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی کمیٹی کی خاتون رکن زہرہ الاہیان کا کہنا تھا کہ تہران کو ان دونوں مشتبہ ٹھکانوں کے حوالے سے آئی اے ای اے کی رپورٹ پر تشویش ہے جن کا کچھ عرصہ قبل ایجنسی کی جانب سے معائنہ کیا گیا تھا۔ ایرانی پارلیمنٹ کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق زہرہ نے ایجنسی کے معائنہ کاروں کی جانب سے جوہری ٹھکانوں کی "جاسوسی کے امکان” کی بھی بات کی۔ خاتون رکن کے مطابق ان تنصیبات تک رسائی کا حق دینا قطعا ناقابل قبول ہے۔اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹوں میں دونوں مقامات پر ممنوعہ تجربات اور تابکار مواد کے وجود کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ ایرانی عہدے داران جن میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور ان کے نائب عباس عراقجی شامل ہیں ان رپورٹوں کی تردید کر چکے ہیں۔

ادھر امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے باور کرایا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایرانی نظام بین الاقوامی طور پر اپنی پاسداریوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔واضح رہے کہ ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم کے ترجمان بہروز کمالوندی نے ستمبر کے وسط میں اعلان کیا تھا کہ تہران سینٹری فیوجز کی نئی جنریشن آزما رہا ہے اور وہ اپنی یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت میں تیزی کے ساتھ اضافہ کر سکتا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

’تشدد کو بڑھاوا دے کر مراعات حاصل کرنے کی کوشش، خطرناک ہے‘

Share this on WhatsAppافعانستان کے لیے امریکا کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے متنبہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے