میں آئین اور حلف توڑنے والے فوجی کی عزت نہیں کرتا، نواز شریف

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی جماعت کی ورکنگ کمیٹی سے خطاب میں واضح انداز سے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے کچھ عنصر انتخابی دھاندلی میں ملوث تھے، جن کو حساب دینا ہو گا۔سابقہ وزیراعظم پاکستان نے اپنی جماعت کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں اپنی حکومت کے دوران ملکی کارکردگی اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کا موازنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی وجہ سے عوام پر مہنگائی کا شدید بوجھ پڑا ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کی معاشی کارکردگی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تب پاکستان جنوبی ایشیا میں تیز ترین ترقی کرنے والے ممالک میں سے ایک تھا، تاہم حالیہ دو برسوں میں ملک کو تمام تر شعبوں میں بحرانی صورت حال کا سامنا ہے۔

اے پی سی، نواز شریف کی تقریر موضوعِ بحث

انہوں نے کہا کہ اس تمام بدحالی کے ذمہ دار وزیراعظم عمران خان تو ہیں، تاہم اصل ذمہ دار انتخابات میں دھاندلی کرنے میں ملوث عسکری عناصر ہیں۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ان کے دورِ حکومت میں بلوچستان کی حکومت گرائی گئی، تاکہ سینیٹ کے انتخابات چرائے جا سکیں۔ نواز شریف نے کہا کہ اس میں اس وقت کے کور کمانڈر سدرن کمان لفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ اب وزیراعظم کے خصوص مشیر برائے اطلاعات و نشریات کے علاوہ سی پیک اتھارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ تاہم کچھ عرصے قبل ان کے اور ان کے خاندان کے اربوں ڈالر کے اثاثوں سے متعلق ایک خبر سامنے آئی تھی اور تب سے اب تک وہ پاکستان میں موضوع بحث ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ ملکی احتسابی ادارے نیب نے کیوں عاصم باجوہ کے خلاف تفتیش نہیں کی نواز شریف نے اپنے خطاب میں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لفٹینٹ جنرل فیض حمید کا بھی نام لیا اور کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے ایک جج پر دباؤ ڈالنے میں ملوث تھے۔ نواز شریف نے الزام عائد کیا کہ جنرل فیض حمید نے ایک جج شوکت صدیقی سے کہا تھا کہ انتخابات سے قبل نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو جیل سے باہر نہ آنے دیں، کیوں کہ ایسی صورت میں ”ان کی دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی۔‘‘

نواز شریف اور نریندر مودی کی دوستی: فائدہ کم، نقصان زیادہ

اکثر لوگوں کو دشمنی مہنگی پڑتی ہے لیکن پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو شاید بھارتی وزیراعظم کی دوستی بھاری پڑی۔ نواز شریف کی نریندر مودی سے پہلی ملاقات ان کی حلف برداری کی تقریب میں 2014ء میں ہوئی۔ اس کے بعد 2015ء میں پیرس میں منعقدہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں مودی نے نواز شریف کو روک کر مصافحہ کیا۔ چند روز بعد بھارتی وزیراعظم نے افغانستان کے لیے اڑان بھری لیکن پھر اچانک لاہور پہنچ گئے۔نواز شریف نے کہا کہ وہ ملکی دستور اور حلف کی پاسداری کرنے والے فوجیوں کی عزت کرتے ہیں، تاہم حلف کی خلاف ورزی کرنے والے فوجیوں کی عزت نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے کسی فوجی کی عزت نہیں کرتے جو وزیراعظم ہاؤس کی دیواریں پھلانگے۔اس اجلاس میں نواز شریف نے اپنی جماعت کے ورکز سے عہد لیا کہ وہ ملک میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کریں گے اور اس سلسلے میں کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

About BBC RECORD

Check Also

’تشدد کو بڑھاوا دے کر مراعات حاصل کرنے کی کوشش، خطرناک ہے‘

Share this on WhatsAppافعانستان کے لیے امریکا کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے متنبہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے