لبنان تباہی کے دھانے پرپہنچ گیا، کیا فرانس حزب اللہ کو بلیک لسٹ کرے گا؟

لبنان میں نامزد وزیراعظم مصطفیٰ ادیب کے استعفے حکومت سازی کی کوششیں بند گلی میں جا چکی ہیں۔ مبصرین اور مقامی سطح‌پر سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت سازی میں ڈیڈ لاک کی ذمہ دار شیعہ اتحاد بالخصوص حزب اللہ اور امل موومنٹ ہیں۔بیروت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حزب اللہ کی ہٹ دھرمی پرمبنی پالیسی اور موقف کی وجہ سے عن قریب لبنان میں‌ حکومت کی تشکیل کا امکان دکھائی نہیں دے رہا۔دو روز قبل مسلح حزب اللہ نے فرانس کے اس طرز عمل کو مغرور ی قرار دیتے ہوئے فرانسیسی صدر عمانویل میکروں پر تنقید کی اور کہا کہ فرانسیسی صدر ایسے برتائو کررہے ہیں جیسے وہ لبنان کے حکمران ہیں۔

دوسری طرف فرانس نے بھی ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو ملک میں حکومت سازی میں رخنہ اندازی کرنے اور من مانی شرائط نافذ کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔اس لبنان کے سیاسی منظرنامے پر تبصرہ کرتے ہوئے بیروت میں ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانس کی حکومت حزب اللہ کے حوالے سے بہ تدریج اپنا نقطہ نظر تبدیل کررہی ہے۔ ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ فرانسیسی صدر عمانویل میکروں جلد ہی حزب اللہ کے سیاسی اور عسکری ونگ میں فرق ختم کرکے پوری تنظیم کو دہشت گرد قرار دے سکتے ہیں۔اگر ایسا ہواتو یہ صرف فرانس کی طرف سے نہیں بلکہ اس سے قبل امریکا اور کئی یورپی ممالک حزب اللہ کے عسکری ونگ کے ساتھ ساتھ اس کے سیاسی بازو کو بھی دہشت گرد قرار دے کر بلیک لسٹ کرچکے ہیں۔اگرچہ فرانسیسی صدر نے لبنان میں حکومت سازی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں پر پابندیاں عائد کرنے کی بات مؤثر ثابت نہیں ہوگی،پھر بھی پیرس لبنان کی سیاسی جماعتوں پر بیروت بندرگاہ میں‌ہونے والے خونی دھماکوں کے بعد انہیں روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری لبنان کی سیاسی قوتوں پرعاید کرچکے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

نوازشریف کی واپسی کیلیے برطانیہ بھی جانا پڑا توجاؤں گا، وزیراعظم

Share this on WhatsAppڈاکٹر ذولفقار کاظمی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد وزیراعظم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے