پہلا امریکی صدارتی مباحثہ: ٹرمپ اور بائیڈن میں تلخ کلامی کی نذر

امریکا میں آئندہ صدارتی انتخابات سے قبل دونوں امیدواروں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اوران کے ڈیموکریٹ حریف جو بائیڈن کے درمیان پہلا مباحثہ تلخ کلامی کی نذر ہوگیا۔امریکی صدارتی انتخابات سے قبل پہلے صدارتی مباحثے کے دوران دونوں امیدواروں صدر ٹرمپ اور بائیڈن نے ایک دوسرے کے لیے ‘احمق‘ اور ‘مسخرے‘ جیسے الفا ظ استعمال کیے۔ اس مباحثے کے میعار کو دیکھتے ہوئے بعض امریکی یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ کیا مزید دو دور کے مباحثوں کی کوئی ضرورت باقی رہ گئی ہے۔ تین نومبر کو امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلیکن امیدوار اور موجود ہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے امیدوار اور سابق نائب امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان روایتی صدارتی مباحثے کا پہلا دور اوہائیو میں منعقد ہوا۔فاکس نیوز پر ہونے والے اس90 منٹ کے مباحثے کے دوران دونوں نے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کیے اور ایک دوسرے کے لیے ‘احمق‘ اور ‘مسخرے‘ جیسے الفاظ کا استعمال کیا۔

سخت سوالات

فاکس نیوز کے سینئر صحافی کرس والیس نے اس مباحثے کی میزبانی کی۔ انہوں نے دونوں امیدواروں سے مختلف موضوعات پر فرداً فرداً سوالات پوچھے تاہم جواب دیتے ہوئے دونوں صدارتی امیدوار ایک دوسرے سے الجھتے نظر آئے۔ بحث کے دوران کرس والیس کو دونوں امیدواروں کو مباحثے کے قوائد بار بار یاد دلانا پڑا کہ دوسرے کو بغیر کسی روک ٹوک کے بولنے کا موقع دینا چاہیے۔ مباحثے کے آغاز سے قبل دستور کے مطابق دونوں امیدوار ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے سوشل ڈسٹینسنگ کے ضابطے پر عمل کرتے ہوئے دونوں نے ایک دوسرے سے مصافحہ نہیں کیا۔مباحثے کے دوران میزبان کرس ویلس نے صدر ٹرمپ سے ان کے مالیاتی ریکارڈ، سپریم کورٹ تنازعات، کووڈ۔19اور معیشت کے حوالے سے سخت سوالات کیے۔

کیا نتائج تسلیم کریں گے؟

جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ انتخابات کے نتائج کو تسلیم کریں گے تو انہوں نے کہا کہ حتمی نتائج کے بارے میں ‘کئی مہینے‘ تک پتہ نہیں چلے گا۔ صدر ٹرمپ نے ڈاک کے ذریعہ ووٹنگ میں دھوکہ دہی کے خدشے کا ایک بار پھر اعادہ کیا۔

دوسری طرف بائیڈن نے کہا کہ وہ خواہ ہاریں یا جیتیں انہیں انتخاب کے نتائج منظور ہوں گے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ دراصل ووٹنگ کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔خیال رہے کہ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ ان کی شکست کی صورت میں اقتدار کی منتقلی کتنی آسانی سے ہوسکے گی۔

‘شٹ اپ‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے مباحثے کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ‘جھوٹا‘ قرار دیا اور انہیں ‘شٹ اپ‘ یعنی خاموش رہنے کو کہا۔ بائیڈن نے کہا کہ ‘حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اب تک جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں وہ محض ایک جھوٹ ہے۔ میں ان کے جھوٹ پکڑنے نہیں آیا ہوں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔‘

جو بائیڈن نے ٹرمپ کو امریکیوں کی کورونا وائرس کے باعث ہونے والی ‘موت‘ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ٹرمپ کی بڑی ریلیوں نے کورونا وائرس کے ذریعے زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہے۔انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ملامت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘گھبرائے ہوئے ہیں اور ان کے پاس امریکیوں کو اس بحران سے نکالنے کے لیے کبھی کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں۔اس موقع پر کرس والیس نے کورونا وائرس کے حوالے سے سوال کیا اور یہ بھی کہا کہ یہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔ انھوں نے ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ اگلے برس کے آغاز تک کیا کریں گے اور امریکی شہریوں کو ان کے حریف کی نسبت صحت عامہ کے لیے ان پر بھروسہ کیوں کرنا چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر جو بائیڈن ہوتے تو دولاکھ سے زیادہ امریکی کورونا سے ہلاک ہوتے۔

جو بائیڈن نے ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے وبا کے خطرات پر پردہ ڈالا جواب میں ٹرمپ نے ان کے سیاسی کریئر پر بات کی اور کہا کہ آپ نے 47 برس تک کچھ نہیں کیا۔

ٹیکس چوری کے الزامات

کرس والیس نے صدر ٹرمپ ٹیکس چوری کے الزامات کے حوالے سے پوچھاکہ کیا یہ درست ہے کہ آپ نے سنہ 2016 اور 2017 میں فیڈرل انکم ٹیکس کی مد میں صرف 750 ڈالر ادا کیے تھے۔اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘میں نے کئی لاکھ ڈالر ادا کیے، میں نے تین کروڑ 80 لاکھ ڈالر ایک سال اور دو کروڑ 70 لاکھ ڈالر ایک سال میں ادا کیے۔‘

بائیڈن کا ’انشاءاللہ‘ کا استعمال

مباحثے کے دوران جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے ٹیکس سے متعلق تفصیلات کب ظاہر کریں گے تو اس پر ٹرمپ نے بار بار کہا کہ ’’آپ جلد دیکھیں گے’’۔ اس پر جو بائیڈن کا کہنا تھا ’’ کب؟ انشاء اللہ‘‘۔
معیشت کے حوالے سے سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے دعوی کیا کہ انھوں نے ‘تاریخ کی سب سے عظیم معیشت‘ قائم کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے پہلے بے روزگاری کی شرح انتہائی کم تھی، لاکھوں امریکی غربت سے باہر نکلے اور امریکا میں تاریخی اقتصادی ترقی ہوئی۔

مباحثے پر سوال

مباحثے کے ابتدائی لمحات سے ہی تناؤ واضح تھا۔ ایک دوسرے کو بار بار ٹوکنے کے بعد بائیڈن ایک موقع پر کھڑے ہو گئے اور کہا ‘کیا آپ اپنی بکواس بند کریں گے۔‘ اس پر ٹرمپ نے بائیڈن سے کہا’آپ اتنے بھی سمجھدار نہیں ہو۔‘اس پہلے صدارتی مباحثے کے دوران دونوں امیدواروں نے جس رویے کا مظاہرہ کیا اس کے بعد سے یہ سوال بھی پوچھا جارہا ہے کہ کیا آئندہ دو دور کے بحث کی ضرورت باقی رہ گئی ہے۔ بحث کے بعد ایک آن لائن پول میں حصہ لینے والے تقریباً 70فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ بحث سے مطمئن نہیں ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

’تشدد کو بڑھاوا دے کر مراعات حاصل کرنے کی کوشش، خطرناک ہے‘

Share this on WhatsAppافعانستان کے لیے امریکا کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے متنبہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے