امریکا کا حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے پر غور

امریکی اخبارWashington Post کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کو مزید تنہا کرنے کی کوشش میں حوثی ملیشیا پر دباؤ بڑھانے کے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔اخبار کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ حوثیوں کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیا جائے۔ علاوہ ازیں باغی ملیشیا کے مالی اثاثوں کو منجمد کیا جائے جس کے بعد ملیشیا کو سپورٹ پیش کرنا غیر قانونی ہو جائے گا۔اس حوالے سے ایک ذمے دار نے اخبار کو بتایا کہ امریکی انتظامیہ قانونی اور انٹیلی جنس جائزہ لینے کے لیے تیار ہے تا کہ اس بات کا تعین ہو سکے کہ آیا حوثی ملیشیا دہشت گرد قرار دیے جانے کے معیار پر پورا اترتی ہے یا اس پر صرف پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

اس سے قبل جمعرات کے روز یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ وہ حوثی ملیشیا اور تہران میں اس کے سرپرستوں پر کارگر اور فیصلہ کن دباؤ ڈالے۔ اس کا مقصد سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عمل درامد، خونریزی کا سلسلہ روکنے ، تباہی و بربادی اور تمام یمنیوں تک انسانی امداد پہنچنے کو ممکن بنانا ہے۔

یمنی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہادی نے باور کرایا کہ یمن اپنی سرزمین پر ایرانی تجربہ ہر گز قبول نہیں کرے گا خواہ حالات اور چیلنجز جو بھی ہوں۔ادھر ایران یہ تصدیق کر چکا ہے کہ اس نے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی تیاری کی ٹکنالوجی یمن میں باغی حوثی ملیشیا کے حوالے کی ہے۔
فارس نیوز ایجنسی نے منگل کے روز ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابول الفضل شکارجی کے حوالے سے بتایا کہ "میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی تیاری کے لیے دفاعی ٹکنالوجی کو یمنیوں کے تصرف میں دے دیا گیا ہے”۔ شکارجی کا اشارہ اپنے حوثی حلیفوں کی جانب تھا جنہوں نے ستمبر 2014ء میں آئینی حکومت کا تخہ الٹ کر دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا۔

About BBC RECORD

Check Also

نوازشریف کی واپسی کیلیے برطانیہ بھی جانا پڑا توجاؤں گا، وزیراعظم

Share this on WhatsAppڈاکٹر ذولفقار کاظمی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد وزیراعظم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے